| عنوان: | یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: پنجم، آخری) |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
جہنم: عبرت کا مقام
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًاۙ(۲۱) لِّلطّٰغِیْنَ مَاٰبًاۙ(۲۲) لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ(۲۳) لَّا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ(۲۴) اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ(۲۵) جَزَآءً وِّفَاقًا(۲۶)﴾ [سورۃ النبأ: 21-26]
ترجمہ: بے شک جہنم تاک میں ہے۔ سرکشوں کا ٹھکانہ۔ اس میں قرنوں (زمانوں تک) رہیں گے۔ اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک کا مزہ نہ پائیں گے اور نہ کچھ پینے کو مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں کا جلتا پیپ۔ جیسے کو تیسا بدلہ۔ بے شک انہیں حساب کا خوف نہ تھا۔
جہنم ایک تاریک اور تکلیف دہ گھر ہے، جہاں کی تمام آفتیں اور مصیبتیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوں گی۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے ڈرنے اور خود کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچانے کا حکم دیا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، جہنم خود اللہ تعالیٰ سے عرض کرتی ہے کہ اے رب! یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو اس کو پناہ دے۔
آتشِ جہنم کی ہولناکیاں
حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں متغیر دیکھا۔ جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو دہکانے کا حکم دیا ہے، جسے ایک ہزار سال تک دہکایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہو گئی، پھر ایک ہزار سال تک مزید بھڑکایا گیا تو وہ سرخ ہو گئی، اور پھر ایک ہزار سال تک مزید بھڑکانے پر وہ سیاہ اور تاریک ہو گئی۔ اب وہ ایسی سیاہ اور تاریک ہے کہ نہ اس میں چنگاری روشن ہوتی ہے اور نہ اس کا بھڑکنا ختم ہوتا ہے۔
جبرئیل علیہ السلام نے قسم کھا کر عرض کیا کہ اگر سوئی کے ناکے کے برابر بھی جہنم کو کھول دیا جائے تو تمام اہل زمین فنا ہو جائیں، اور اگر جہنم کا ایک فرشتہ دنیا والوں پر ظاہر ہو جائے تو اس کی بدصورتی اور بدبو سے ساری مخلوق ہلاک ہو جائے۔ نیز فرمایا کہ اگر جہنم کی زنجیروں کا ایک حلقہ دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور جبرئیل علیہ السلام دونوں اشک بار ہو گئے۔
عذابِ جہنم کی شدت
جہنمیوں کو جہنم میں طرح طرح کے عذابوں کا سامنا کرنا پڑے گا:
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جہنم کو اکثر یاد کیا کرو، کیونکہ اس کی گرمی سخت، اس کی گہرائی بے حد اور اس میں لوہے کے ہتھوڑے ہیں۔
- جہنم کا لوہے کا ہتھوڑا اگر زمین پر رکھ دیا جائے تو جن و انسان مل کر بھی اسے اٹھا نہیں سکتے۔
- جہنم میں بہت بڑے سانپ اور بچھو ہوں گے جن کے ایک بار کاٹنے سے ہزار سال تک درد اور جلن رہے گی۔
- جہنمیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جس سے ان کے چہرے کی کھال جل کر گر جائے گی، اور ان کے بدن سے نکلی ہوئی پیپ پلائی جائے گی۔
- کانٹے دار تھوہڑ کھانے کو دیا جائے گا جو گلے میں پھنس جائے گا، اور اسے اتارنے کے لیے جب وہ پانی مانگیں گے تو انہیں کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عذابِ جہنم سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
