Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: چہارم)

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: چہارم)
عنوان: یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: چہارم)
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

قبر کے حالات

انسان کو اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد آخرت کی منزلوں میں سب سے پہلی جس منزل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ قبر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿اَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُۙ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ [سورۃ التکاثر: 1-2]

ترجمہ: تمہیں زیادہ مال کی طلب نے غافل رکھا یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھ لیا۔

فرمانِ نبوی ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر کہتی ہے: اے انسان! تجھ پر افسوس ہے، تجھے میرے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تھا؟ کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میں آزمائشوں اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں؟ اگر میت نیک ہوتی ہے تو اس کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے: کیا تجھے معلوم نہیں ہے یہ شخص نیکیوں کا حکم دیتا اور برائیوں سے روکا کرتا تھا؟ قبر کہتی ہے: جب تو میں اس کے لیے سبزہ زار میں تبدیل ہو جاؤں گی، اس کا جسم نورانی بن جائے گا اور اس کی روح اللہ تعالیٰ کے قربِ رحمت میں جائے گی۔ [المعجم الکبیر للطبرانی]

محمد بن صبیح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے قریبی مردے کہتے ہیں: اے اپنے بھائیوں اور ہمسایوں کے بعد دنیا میں رہنے والے! کیا تو نے ہمارے مرنے اور قبروں میں دفن ہونے سے کوئی نصیحت حاصل نہ کی؟ تو نے ہماری موت سے ہمارے اعمال کا خاتمہ دیکھا، لیکن تجھے جو مہلت دی گئی تھی تو نے اسے غنیمت نہ جانا۔ قبر کی زمین کہتی ہے: اے دنیا پر اترانے والے! تو نے عبرت کیوں نہ حاصل کی؟ تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ اس منزل سے کوئی راہِ فرار نہیں ہے۔ [مکاشفۃ القلوب]

قبر اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ

امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے تھے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھی تر ہو جایا کرتی تھی۔ کسی نے عرض کیا: آپ جنت و دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے، مگر قبر کے پاس کیوں روتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ اگر اس سے نجات مل گئی تو بعد کی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہوں گی، اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو بعد کی منزلیں زیادہ سخت ہوں گی۔ نیز حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: “قبر سے بڑھ کر خوفناک منظر میں نے کوئی نہیں دیکھا۔” [مشکوٰۃ المصابیح]

ذرا سوچیے! حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی عذابِ قبر کے خوف سے اتنا روتے تھے، جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ نیکیاں تو دور، ہم برائیوں سے بھی باز نہیں آتے۔ کاش کہ ہم غفلت کی نیند سے بیدار ہوں، برائیوں سے توبہ کریں اور آخرت کی تیاری میں مصروف ہو جائیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!