| عنوان: | اعلیٰ حضرت کی تعلیمات میں عشقِ رسول ﷺ |
|---|---|
| تحریر: | فرمان المصطفیٰ نظامی |
عشقِ رسول ﷺ کی اہمیت اور اعلیٰ حضرت کا مقام
عشقِ رسول ﷺ جانِ ایمان، تازگیِ روحِ ایقان، سعادتِ دارین کا سرچشمہ اور قربِ الٰہی کے حصول کا مؤثر ترین وسیلہ ہے۔ جس دل کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت نصیب ہو جائے، وہ ایمان کی حلاوت، اطاعت کی لذت اور بندگی کی حقیقت سے آشنا ہو جاتا ہے۔ جن نفوسِ قدسیہ کے قلوب محبتِ رسول ﷺ کے انوار سے منور ہو جاتے ہیں، ان کی زندگیاں حسنِ عمل، پاکیزگیِ کردار اور اخلاصِ باطن کا مرقع بن جاتی ہیں۔ یہی عشقِ رسول ﷺ فتنوں کے ہنگامہ خیز دور میں سفینۂ نجات، ظلمتوں کے اندھیروں میں مشعلِ ہدایت اور راہِ حق کے مسافروں کے لیے زادِ راہ ثابت ہوتا ہے۔
تاریخِ اسلام ایسے عشاقِ رسول ﷺ کے تذکروں سے جگمگا رہی ہے، جنہوں نے اپنی حیات محبتِ مصطفیٰ ﷺ پر نثار کر دیں۔ اُنہی نفوسِ قدسیہ میں امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اسمِ گرامی نہایت آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ آپ کی حیاتِ طیبہ عشقِ رسول ﷺ کی مجسم تفسیر، ادبِ رسالت ﷺ کا کامل مظہر اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی درخشاں ترجمان تھی۔ گفتگو فرماتے تو الفاظ کی صورت میں عشقِ رسول کا جام پلاتے۔ آپ کی علمی و دینی خدمات میں محبتِ رسول کا وہ جذبہ کارفرما تھا، جس نے آپ کے قلم کو تعظیمِ رسالت اور مدحتِ مصطفیٰ کا ترجمان بنا دیا۔ آپ کے نزدیک ایمان کی تکمیل محبت و عظمتِ رسول کے بغیر ممکن نہیں۔ آپ کی نعتیہ شاعری سوزِ محبت، وارفتگیِ عشق اور ادبِ بارگاہِ رسالت ﷺ کا ایسا لازوال شاہکار ہے، جس کی خوشبو آج بھی قلوبِ عاشقانِ رسول ﷺ کو معطر اور ایمان کو تازگی عطا کر رہی ہے۔
آپ اپنے قلبی تعلق کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اگر میرے دل کے دو ٹکڑے کیے جائیں تو ایک پر لا اله الا الله اور دوسرے پر محمد رسول اللہ ﷺ لکھا ہوگا"۔ (الملفوظ، ج: 3، ص: 88)
نعتیہ شاعری اور دربارِ رسالت ﷺ میں حاضری
اعلیٰ حضرت سچے عاشقِ رسول تھے، وقتِ تہجد اپنا نعتیہ کلام بارگاہِ اقدس میں پیش کرتے اور صبح تک روتے رہتے۔ جب ہجر و فراق کی کیفیت حد سے گزر گئی تو مدینہ شریف حاضرِ دربار ہوئے۔ گنبدِ خضریٰ کے انوار و تجلیات کے فانوس سے محبت کی روشنی دل و نگاہ کو منور کر رہی تھی، طالبِ دید کے نیازِ عشق کا مجسمہ بنے ہوئے تھے۔ ایسی ساعتِ سعید کی کیفیات کو سمیٹتے ہوئے عرض گزار ہوئے: اے فاران کے بت کدہ کو دارالسلام بنانے والے، مجھے بھی شرفِ زیارت عطا کیجیے۔ پوری رات بے قرار رہے۔ صبح مواجہہ شریف میں رات کی کمائی یوں پیش کرنے لگے:
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے شیدا ہزار پھرتے ہیں
پوری رات دربارِ گوہر بار میں حاضری دی اور زیارت کی درخواست گزاری۔ اسی شب جمالِ آراء کی زیارت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ جب آپ کا قافلہ مدینہ سے الوداع ہونے لگا تو بے اختیار پکار اٹھے:
مشرف گرچہ شد جامی زلطفش
خدایا ایں کرم بار دگر کن
(پکارو یا رسول اللہ، ص: 32، صفہ فاؤنڈیشن)
قرآن و حدیث کی ترجمانی
آپ کے بے شمار اشعار قرآنِ مجید کے تفسیری معنیٰ اور احادیث کی جانب مشیر ہیں، گویا قرآن و احادیث میں جو مکی مدنی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بیان ہوئی ہے، وہ اعلیٰ حضرت کے کئی اشعار سے پتہ چلتی ہے۔ فرماتے ہیں:
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا نھر کی ہے
(حدائقِ بخشش، ص: 212)
اس میں اس آیت کی جانب اشارہ ہے: ﴿وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾
اسی طرح دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
رب ہے معطی، یہ ہیں قاسم
رزق اس کا ہے، کھلاتے یہ ہیں
(الاستمداد، ص: 8، مکتبہ: برکات المدینہ)
اس شعر میں اس حدیثِ مبارک کی طرف اشارہ ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي" (صحیح البخاری، حدیث: 7312)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کا کلام قرآن و حدیث کا آئینہ دار ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آپ کی تحریر کردہ ایک ایک نعت فنِ شاعری میں بھی درجۂ کمال پر ہے اور عشقِ رسول کی نئی نئی جہتوں سے بھی آگاہ کرتی ہے۔
مالداروں کی چاپلوسی سے بے نیازی
ایک مرتبہ ریاستِ نانپارہ (ضلع بہرائچ، یوپی، ہند) کے نواب کی مدح میں شاعروں نے قصیدے لکھے۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ بھی ماہر اور عظیم شعراء میں سے تھے، لہٰذا آپ سے بھی کچھ لوگوں نے گزارش کی کہ نواب صاحب کی تعریف میں کوئی قصیدہ لکھ دیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے نواب صاحب کی تعریف میں کوئی قصیدہ تو نہ لکھا، البتہ اس گزارش کے جواب میں پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ ﷺ کی شان میں آپ نے ایک نعتِ شریف کہی، جس کا مطلع یوں ہے:
وہ کمالِ حُسنِ حُضور ہے کہ گُمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دُور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
(حدائقِ بخشش، ص: 107)
یعنی سرکارِ دو عالم، شاہِ بنی آدم ﷺ کے حُسن و جمال کا کمال یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کی کمی ہونا تو دُور کی بات ہے، کسی کمی کا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے مصرعے کا مطلب ہے کہ عموماً پھول کے ساتھ کانٹا بھی ہوتا ہے، شمع کے ساتھ دھواں بھی ہوتا ہے، لیکن آپ ﷺ باغِ رسالت کے ایسے پھول ہیں، جس میں کوئی کانٹا نہیں، اور آپ ایسی شمع ہیں، جس میں کوئی دھواں نہیں۔
اس کلام کے مقطع، یعنی آخری شعر میں ریاستِ نانپارہ کے نواب صاحب کی تعریف میں قصیدہ نہ لکھنے کی نفیس اور عشق و محبت میں ڈوبی ہوئی وجہ اس طرح بیان فرمائی کہ:
کروں مدحِ اہلِ دُوَل رضا! پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا مرا دین پارۂ ناں نہیں
(حدائقِ بخشش، ص: 109)
یعنی اے رضا! کیا میں دولت مندوں، دنیا کے نوابوں اور حکمرانوں کی تعریف و خوشامد کروں؟ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مالداروں کی خوشامد کرنا ایک بلا (مصیبت) ہے اور اس بلا میں میری بلا ہی پڑے۔ (یعنی مجھ سے تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔) جبکہ دوسرے مصرع میں فرماتے ہیں کہ میں تو اپنے رسولِ کریم، محبوبِ عظیم ﷺ کے دربارِ دُربار کا بھکاری ہوں، میرا دین "روٹی کا ٹکڑا" نہیں کہ جدھر "مال" دیکھا، اُدھر لُڑھک گئے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 30)
تخیلاتِ عشق اور معجزۂ شقُّ القمر
عام شعراء اپنے محبوب کی خوبصورتی بیان کرنے کے لیے اسے چاند جیسا کہتے ہیں، مگر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اندازِ عشق نرالا ہے۔ آپ حضورِ اکرم ﷺ کے حسن کو چاند سے نہیں ناپتے، بلکہ چاند کو حضور ﷺ کے حسن کا ایک ادنیٰ سا عکس اور نشان قرار دیتے ہیں۔ گویا چاند خود حضور ﷺ کے حسن سے روشنی اور عظمت پاتا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
برقِ انگشتِ نبی چمکی، تھی اُس پر ایک بار
آج تک ہے سینۂ مہ میں نشان، سوختہ
(حدائقِ بخشش، ص: 136)
پیارے آقا ﷺ ایک مرتبہ اپنی مبارک انگلی سے چاند کی طرف اشارہ فرما کر اسے دو ٹکڑے فرما دیا تھا، اس کا نشان آج تک چاند پر موجود ہے۔ برق (بجلی) کی مناسبت سے اسی کو جلنے کے نشان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اہلِ مکہ نے سرکارِ مدینہ ﷺ سے معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھائے، حتیٰ کہ انہوں نے حراء (پہاڑ) کو ان دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا۔ (بخاری شریف، حدیث: 3868)
شقُّ القمر (چاند کے ٹکڑے کرنے) کے معجزے کا بیان اس آیتِ مبارکہ میں بھی موجود ہے: ﴿اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ترجمہ کنز الایمان: پاس آئی قیامت اور شق ہو گیا چاند۔ (پ 27، القمر: 1)
"ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے"
25 صفر المظفر کو بیت المقدس میں ایک شامی بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں خود کو دربارِ رسالت میں پایا۔ تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے عظام دربار میں حاضر تھے، لیکن مجلس میں خاموشی طاری تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی آنے والے کا انتظار ہے۔ شامی بزرگ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! کس کا انتظار ہے؟ سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے"۔ شامی بزرگ نے عرض کی: حضور! احمد رضا کون ہیں؟ ارشاد ہوا: "ہندوستان میں بریلی کے باشندے ہیں"۔
بیداری کے بعد وہ شامی بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تلاش میں ہندوستان کی طرف چل پڑے، اور جب وہ بریلی شریف آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس عاشقِ رسول کا اُسی روز (یعنی 25 صفر المظفر 1340ھ) کو وصال ہو چکا تھا، جس روز انہوں نے خواب میں سرورِ کائنات ﷺ کو یہ کہتے سنا تھا کہ: "ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے۔"
یا الٰہی! جب رضا خواب گراں سے سر اٹھائے
دولتِ بیدار عشقِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو
اے عشاقِ رسول! اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب تک حیات رہے، عشقِ رسول کے طفیل بارگاہِ مصطفےٰ سے حاصل ہونے والے انوار و تجلیات سے خود بھی فیضیاب ہوتے رہے اور مخلوقِ خدا کو بھی فیضیاب کرتے رہے۔ نیز رحمتِ عالم، نورِ مجسم ﷺ کی عنایتوں کا سلسلہ صرف آپ کی حیات تک ہی محدود نہ رہا، بلکہ بعدِ وصال بھی آپ پر لطف و رضوان کی بارشیں ہوتی رہیں۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 35)
خلاصۂ کلام
المختصر! امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی حیاتِ طیبہ عشقِ رسول ﷺ، تعظیمِ رسالت، تحفظِ ناموسِ نبوت اور خدمةِ دینِ اسلام کا ایک درخشاں، تابندہ اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔ آپ نے اپنے علمِ راسخ، قلمِ حق نگار اور نعتیہ شاعری کے ذریعے عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی ایسی شمع فروزاں کی، جس کی ضیا صدیوں گزرنے کے باوجود آج بھی قلوبِ عشاقِ رسول کو منور، ایمان کو تازگی عطا کر رہی ہے۔ آپ نے اپنے قول و عمل سے یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے آشکار فرما دیا کہ جس دل میں عشقِ رسول ﷺ جاگزیں ہو جائے، وہی دل نورِ ایمان سے منور، وہی زندگی حقیقی معنوں میں کامیاب، اور وہی بندہ بارگاہِ الٰہی میں سرفراز ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر ہم سعادتِ عقبیٰ، رضائے الٰہی اور شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کے امیدوار ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے محبتِ رسول ﷺ کو اپنے ایمان کی جان، تعظیمِ رسالت کو اپنی زندگی کا عنوان، اور اتباعِ سنتِ نبوی ﷺ کو اپنا دائمی شعار بنا لیں۔ یقیناً یہی وہ راہِ مستقیم ہے جو بندۂ مؤمن کو دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی، دائمی عزت اور ابدی نجات سے ہمکنار کرتی ہے۔
اسی والہانہ جذبۂ عشق کی ترجمانی کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
مولیٰ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
