داڑھی رکھنا کہاں سے ثابت ہے؟ قرآن و حدیث سے دلائل

داڑھی رکھنا کہاں سے ثابت ہے؟
عنوان: داڑھی رکھنا کہاں سے ثابت ہے؟
تحریر: غلام علی عطاری

انسان کی تخلیق اور داڑھی کی اہمیت

اللہ جل وعلا نے انسان کو باعزت اور سب سے اچھی صورت پر پیدا کیا۔ اسے دیگر مخلوقات کے برخلاف سیدھی قامت والا بنایا۔ سمجھ بوجھ اور تمیز عطا فرمائی۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
{لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ} (القرآن الکریم، ۹۵/۴)
ترجمہ کنزالایمان: بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔

دوسرے مقام پر فرمایا:
{وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ} (القرآن الکریم، ۱۷/۷۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی۔

اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر بغوی میں ہے: "قيل: الرجال باللحی والنساء بالذوائب" یعنی اللہ پاک نے بنی آدم میں مردوں کو داڑھیوں سے اور عورتوں کو بالوں کی لٹوں سے عزت دی۔

داڑھی مردوں کی خلقت کا ایک حصہ ہے۔ داڑھی رکھنا اسلام کے شعائر میں سے ہے۔ اور شعار کا معنی پہچان اور نشان کے آتے ہیں۔ یعنی مسلمان کی پہچان داڑھی سے ہوتی ہے۔ یہ صرف ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کی سنت نہیں بلکہ دیگر انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی بھی سنت مبارکہ ہے۔

دینِ اسلام میں داڑھی رکھنے کی بڑی سختی سے تلقین کی جاتی ہے۔ تاہم ابنائے زمانہ اس واجب اور سنتِ عظیمہ سے محروم ہیں۔ انہیں داڑھی رکھنے کا حکم بتایا جائے تو کسی سے سن کر یہ بے جا بہانے کرتے ہیں کہ داڑھی رکھنا ضروری نہیں یا واجب نہیں یا یہ کہ کہیں سے ثابت نہیں۔ حالاں کہ داڑھی رکھنا قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ انبیائے کرام، صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کا اس پر عمل رہا ہے۔

داڑھی کا لغوی معنی اور شرعی حکم

داڑھی کا لغوی معنی:
داڑھی جسے عربی میں "لحیہ" کہتے ہیں، لغت میں دونوں رخساروں اور ٹھوڑی کے بال کو کہتے ہیں۔

داڑھی کا شرعی حکم:
فقیہ النفس حضرت مفتی مطیع الرحمن رضوی صاحب دامت فیوضہم داڑھی کے متعلق اشعۃ اللمعات کے حوالے سے فرماتے ہیں:
"اعفاء اللحیۃ کے معنی ہیں داڑھی بڑھانا اور مشہور ایک مشت کی مقدار بڑھانا ہے۔ اس سے کم نہ ہو۔ اور اس سے بڑھنے دے تو جائز ہے، بشرطیکہ حدِ اعتدال سے زیادہ نہ ہو۔ تراش لینا حرام اور فرنگیوں، ہندوؤں اور قلندریہ کہلانے والے جوالقیوں کا طریقہ ہے، اور ایک مشت تک بڑھانا واجب ہے۔" (داڑھی کی شرعی مقدار، ص: ۶۷)

قرآن کریم سے داڑھی کا ثبوت

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ تعالی نے اپنے رسالے "لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی" میں قرآن سے کئی طریقوں سے داڑھی رکھنے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
• {ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِـعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا} (القرآن الکریم، ۱۶/۱۲۳)
• {قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا} (القرآن الکریم، ۲/۱۳۵)
• {وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ} (القرآن الکریم، ۲/۱۳۰)
• {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ} (القرآن الکریم، ۶۰/۴)
• {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ} (القرآن الکریم، ۶۰/۶)

ان آیات کو ذکر کر کے امام فرماتے ہیں:
"ہر ذی علم جانتا ہے کہ داڑھی بڑھانا ملتِ ابراہیمی کا مسئلہ، شریعتِ ابراہیمی کا طریقہ ہے اور ان آیات میں رب جل وعلا نے ہمیں ملتِ ابراہیمی علی ابنہ الکریم و علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کی اتباع کا حکم دیا اور معاذ اللہ اس سے اعراض کو سخت حماقت اور سفاہت فرمایا..." (لمعۃ الضحی، ص: ۳۱)

نیز آیتِ قرآنی: {اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ} (۶/۹۰) میں جن ۱۸ رسولوں کی اقتدا کا حکم دیا گیا ہے ان میں حضرت ہارون علیہ السلام بھی شامل ہیں، اور آیت {قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ} (۲۰/۹۴) سے ثابت ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی شریف اتنی تھی کہ پکڑی جا سکتی تھی۔

احادیثِ مبارکہ سے داڑھی کا ثبوت

۱) صحیح بخاری:
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ وَوَفِّرُوا اللَّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ))
"مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں بالکل صاف کرو۔" اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو ہاتھ سے پکڑتے، جو بال مٹھائی سے بڑھ جاتا اسے کاٹ لیتے۔

۲) صحیح بخاری:
ارشاد فرمایا: ((انْهَكُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللَّحَى)) "مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔"

۳) السنن الکبریٰ للبیہقی:
رسول اللہ ﷺ نے مجوسیوں کے بارے میں فرمایا: ((انهم يوفرون سبالهم ويحلقون لحاهم فخالفوهم)) "بے شک وہ اپنی مونچھ کے بالوں کے کنارے کو بڑھاتے اور داڑھیاں مونڈتے ہیں تو تم ان کی مخالفت کرو۔"

داڑھی کتروانے یا باندھنے پر رسول اللہ ﷺ کی بیزاری

سنن نسائی میں حدیثِ پاک ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
((یا روَيفِعُ لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوْ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا بَرِيءٌ مِنْهُ))
"اے رویفع! امید ہے کہ میرے بعد تمہاری عمر لمبی ہوگی، تو لوگوں کو خبر دینا کہ جو اپنی داڑھی باندھے یا کمان کا چلا گلے میں لٹکائے یا کسی جانور کے گوبر یا ہڈی سے استنجا کرے تو بے شک محمد (ﷺ) اس سے بیزار ہیں۔"

اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محمد رسول اللہ ﷺ کی بے زاری کو ہلکا نہ جانیں... جب داڑھی باقی رکھ کر اس کی صفت و ہیئت میں کافروں سے تشبہ اس درجہ باعثِ بیزاریِ رسول ہوا تو سرے سے داڑھی قطع یا حلق کر دینا اور پورے مجوسیوں کی صورت بننا کس قدر موجبِ غضب و ناراضیِ خدا و رسول ہوگا!" (لمعۃ الضحی، ص: ۴۴)

داڑھی کے متعلق مذہبِ حنفیہ کا موقف

فقیہ النفس حضرت مفتی مطیع الرحمن رضوی صاحب کے مطابق مذہبِ حنفیہ کا موقف یہ ہے:
• داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
• مٹھی سے زائد حصہ ہی کو کاٹنا جائز ہے۔
• داڑھی کاٹ کر مٹھی سے کم کرنا حرام ہے۔

چونکہ ہم مذہبِ حنفیہ کے مقلد ہیں، لہٰذا ہمیں احناف کے موقف کے مطابق مکمل ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے۔

رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام اور اولیاء کی داڑھی مبارک

رسول اللہ ﷺ کی داڑھی شریف:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((کان ضخم الھامۃ عظیم اللحیۃ)) "رسول اللہ ﷺ بڑے سر اور بڑی داڑھی شریف والے تھے۔"

خلفائے راشدین کی داڑھی شریف:
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گھنی داڑھی والے تھے۔ حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کی داڑھیاں مبارک اس قدر گھنی تھیں کہ سینہ مبارک کو ڈھانپ لیتی تھیں۔ (مدارج النبوۃ)

سیدنا غوثِ اعظم کی داڑھی شریف:
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی داڑھی مبارک طویل و عریض تھی۔ (مدارج النبوۃ)

داڑھی کی حد اور اس کے فوائد و برکات

داڑھی کی شرعی حد:
داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں، جبڑوں اور ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضاً اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے۔ نچلے ہونٹ کے نیچے کے بال (بچی) بھی داڑھی میں شامل ہیں۔ ان تمام بالوں کو ایک مشت سے کم کرنا جائز نہیں۔

داڑھی کے فوائد (از قوت القلوب):
۱. داڑھی والے کی تعظیم ہوتی ہے۔
۲. لوگ علم و وقار کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
۳. مجلسوں میں بلندی و مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔
۴. توجہ اور احترام ملتا ہے۔
۵. جماعت میں داڑھی والے کو مقدم کیا جاتا ہے۔
۶. عقلمند و سمجھدار سمجھا جاتا ہے۔
۷. عزت و وقار کی حفاظت ہوتی ہے۔

داڑھی منڈوانے کی وعیدیں اور آخری التماس

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے "لمعۃ الضحی" میں داڑھی منڈوانے یا کتروانے کی درج ذیل سزائیں اور وعیدیں بیان فرمائی ہیں:
۱. اللہ و رسول کے نافرمان ہیں۔
۲. مجوسی صورت ہے۔
۳. اللہ کی پیدا کردہ ساخت بدلنے والے ہیں۔
۴. زنانے/مخنث ہیں۔
۵. خدا کے عہد شکن ہیں۔
۶. پورے اسلام میں داخل نہ ہوئے۔
۷. صبح و شام اللہ کے غضب میں رہتے ہیں۔
۸. قیامت کے دن صورتیں بگاڑی جائیں گی۔
۹. جہنم کے مستحق ہیں۔

ایک عاشقِ رسول کے لیے اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ داڑھی مبارک رکھتے تھے۔ لہٰذا دنیا و شیطان کے دھوکے سے بچتے ہوئے مکمل ایک مشت داڑھی رکھیں، تاکہ روزِ قیامت اور قبر میں آقا کریم ﷺ کی مسرت و رضا کا باعث بنے۔ اللہ عزوجل ہمیں شرعی داڑھی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!