اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے خدمات و کارنامے|محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے خدمات و کارنامے
عنوان: اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے خدمات و کارنامے
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: مصباح صدف
منجانب: مدرسۃ الفاطمہ قادریہ للبنات گلبرگہ شریف

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے، اور کیوں نہ ہو کہ آپ کا علمی معیار بلند و بالا تھا اور آپ کے تبحرِ علمی کا زمانہ معترف رہا اور جو شخصیت علوم و فنون میں جس قدر متبحر ہوگی اس کی خدمات و اثرات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو گا۔ امامِ اہل سنت کا بھی یہی حال تھا کہ آپ کثیر علوم و فنون کے متبحر بلکہ کئی ایک علوم کے امام بلکہ کئی ایک علوم کے موجد بھی گزرے ہیں۔ آپ کے تبحرِ علمی اور جلالتِ شان کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً پچاسوں علوم و فنون میں گہری بصیرت کے حامل اور اجتہادی شان کے آپ مالک تھے۔ آپ کا سینہ علوم و معارف کا گنجینہ اور ایک بیکراں سمندر تھا جس میں ہر طرف بیش بہا لعل و جواہر بکھرے ہوئے تھے۔ آپ نے خود حاصل کردہ و حاصل شدہ علوم و فنون کا ذکر اپنی کتاب ”الْإِجَازَةُ الْمَتِينَةُ لِعُلَمَاءِ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ“ میں بیان فرمایا ہے جن کی تعداد 55 ہے۔

چناںچہ اپنے والد ماجد سے جو علوم حاصل کیے وہ یہ ہیں:

  1. علمِ قرآن

  2. علمِ حدیث

  3. اصولِ حدیث

  4. فقہ حنفی

  5. فقہ جملہ مذاہب

  6. اصولِ فقہ

  7. جدل مہذب

  8. علمِ تفسیر

  9. علمِ عقائد و کلام

  10. علمِ نحو

  11. علمِ صرف

  12. علمِ معانی

  13. علمِ بیان

  14. علمِ بدیع

  15. علمِ منطق

  16. علمِ مناظرہ

  17. علمِ فلسفہ

  18. علمِ تکسیر

  19. علمِ ہیئت

  20. علمِ حساب

  21. علمِ ہندسہ

اور پھر کسی استاد کے بغیر جو علوم و فنون از خود حاصل کیے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

  1. قرأت

  2. تجوید

  3. تصوف

  4. سلوک

  5. اخلاق

  6. اسماء الرجال

  7. سیر

  8. تاریخ

  9. لغت

  10. ادب مع جملہ فنون

  11. ارثماتیقی

  12. جبر و مقابلہ

  13. حسابِ ستینی

  14. اوغارثم

  15. توقیت

  16. مناظر و مرایا

  17. علمِ اکر

  18. زیجات

  19. مثلثِ کروی

  20. مثلثِ مسطح

  21. ہیئتِ جدیدہ

  22. مربعات

  23. جفر

  24. زائرچہ

  25. نظمِ عربی

  26. نظمِ فارسی

  27. نظمِ ہندی

  28. نثرِ عربی

  29. نثرِ فارسی

  30. نثرِ ہندی

  31. خطِ نسخ

  32. خطِ نستعلیق

  33. تلاوت مع تجوید

  34. علمِ فرائض

مذکورہ علوم و فنون پر جس کی مہارت ہوگی وہ ذات اپنے آپ میں ایک یونیورسٹی سے کم نہیں ہوگی اور اس کا دائرۂ خدمات بھی وسیع سے وسیع تر ہو گا اور یہ علوم امامِ اہل سنت کو حاصل تھے، لہٰذا آپ کی ذات جہانِ علوم و فنون اور خدمات کا دائرہ ایک جہان کو محیط ہونے میں کس کو کلام ہو سکتا ہے؟ تو دیکھیے امامِ اہل سنت کی خدمات و کارنامے جنہیں انمٹ نقوش کی طرح تاریخ و تذکرہ کے صفحات نے اپنے سینے میں محفوظ کر رکھے ہیں۔

تدریسِ کتبِ درسیہ

علومِ دینیہ کی تحصیل کے بعد امام احمد رضا نے تدریس کی طرف خاطر خواہ توجہ دی۔ تشنگانِ علوم جوق در جوق آپ کے کاشانۂ اقدس پر حاضر ہوتے اور چشمۂ علم و حکمت سے سیراب ہوتے تھے۔ آپ نے باضابطہ کسی مدرسہ میں مدرس بن کر نہیں پڑھایا لیکن اس کے باوجود آپ کی تدریسی خدمات کم و بیش چالیس سے پچاس سال کو محیط ہیں جیسا کہ آپ کی تصانیف میں وقتاً فوقتاً آپ کی تحریر سے واضح ہوتا ہے۔ چناںچہ آپ 1286ھ میں بعدِ فراغت تدریس میں مصروف ہو گئے جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں:

”فقیر کا درس بحمدہ تعالیٰ تیرہ برس دس مہینے چار دن کی عمر میں ختم ہوا، اس کے بعد چند سال تک طلباء کو پڑھایا۔“ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 27، ص: 384]

”چند سال“ کتنے سال پر مشتمل ہیں؟ اس کی مکمل صراحت تو کہیں نہیں البتہ آپ کی مختلف تحریرات سے اس کی کچھ نہ کچھ وضاحت ہوتی ہے۔ چناںچہ آپ اخیرِ محرم 1304ھ کو بدایوں شریف میں مدرسہ طیبہ قادریہ میں دیکھے جانے والے ایک خواب کے تحت لکھتے ہیں:

”اسی طرح اب کوئی چند مہینے ہوئے اور سید شاہ فضل حسین صاحب پنجابی فقیر سے صحیح بخاری شریف پڑھتے تھے۔“

اس سے واضح ہے کہ آپ نے 1304ھ تک تدریس کی لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہا جیسا کہ آپ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

”یہ مسئلہ فقیر غفر لہ مولیٰ القدیر سے روزِ جمعہ 19 ذی القعدہ 1306ھ کو بعدِ نماز پوچھا گیا۔ جواب زبانی بیان میں آیا اور ازاں جا کہ آج کل قدرے علالت اور بوجہِ مشاغلِ درس قلتِ مہلت تھی قصد کیا کہ جمعۂ آئندہ کی تعطیل ان شاء اللہ تعالیٰ تحریرِ جواب کی کفیل ہوگی۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 22، ص: 270]

مذکورہ تحریر سے واضح ہے کہ 1306ھ تک آپ نہ صرف تدریس کرتے تھے بلکہ مشاغلِ درس میں اس قدر منہمک تھے کہ جوابِ استفتاء کے لیے وقت کی قلت دامن گیر ہوتی۔ اس کے بعد بھی آپ کا یہ سلسلہ موقوف نہیں ہوا بلکہ مزید جاری رہا۔ چناںچہ آپ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

”الحمد للہ کہ یہ مختصر اجمالی جواب پانزدهم شَهْرُ النُّورِ وَالسُّرُورِ مَاهِ مُبَارَك رَبِيعُ الْأَوَّلِ 1318 ہجریہ قدسیہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کو باوصف کثرتِ کار و ہجومِ اشغالِ تعلیم و تدریس و مجالسِ مبارکۂ میلادِ سراپا تقدیس وقتِ فرصت کے قلیل جلسوں میں تمام اور بلحاظِ تاریخ قَوَارِعُ الْقَهَّارِ عَلَى الْمُجَسِّمَةِ الْفُجَّارِ نام ہوا۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 200]

1318ھ تک اشغالِ تعلیم و تدریس کا ہجوم رہا پھر بھی یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ 1322ھ میں جب منظرِ اسلام کا قیام عمل میں آیا تو اس کے سب سے پہلے شیخ الحدیث آپ ہی ہوئے۔

استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان لکھتے ہیں:

”سب سے بڑھ کر خوش نصیبی اس مدرسے (منظرِ اسلام) کی یہ ہے کہ مجددِ مائۃِ حاضرہ، صاحبِ براہینِ قاہرہ، عالمِ اہل سنت مولانا مولوی حاجی محمد احمد رضا خان قادری برکاتی مد ظلہ العالی نے باوجودِ قلتِ فرصت اس کی نگرانی کے ساتھ درسِ حدیث شریف بھی اپنے ذمہ لیا ہے۔“ [روداد منظر اسلام (1322ھ)، ص: 4-5]

درج بالا تحریر سے ظاہر و باہر ہے کہ آپ نے 1322ھ تک درس و تدریس کا کام انجام دیا۔

اگر یہاں تک بھی آپ کے درس و تدریس کا سلسلہ تسلیم کیا جائے تو 1286ھ سے 1322ھ تک 36 سال ہوتے ہیں۔ اب یوں کہنا بالکل بجا ہو گا کہ امامِ اہل سنت کم سے کم 36 سال تک ضرور درس و تدریس کے جوہر و گوہر لٹاتے رہے اور یہ صرف 1322ھ تک کی بات ہے ورنہ آپ کی تدریس کا سلسلہ اس کے بعد کسی نہ کسی طرح جاری رہا جن کو شامل کیا جائے تو تقریباً پچاس سال بن جاتے ہیں۔ آپ نے تدریسی جوہر اس طرح لٹائے کہ آپ کی تدریسی مہارت کی شہرت اس وقت کے تمام مدارسِ دینیہ میں پھیل گئی اور بڑے بڑے اساتذہ آپ کے علم و فضل کے معترف و مداح تھے۔ آپ کی درس گاہِ علم و حکمت سے ایسے ایسے فقہاء و داعیان اور بے مثال علماء و فضلاء پیدا ہوئے جنھوں نے اپنے اپنے میدان میں امتیازی شان پیدا کی اور بلند و قد آور شخصیت کے مالک بن کر آفتاب و ماہتاب کی طرح مدت العمر چمکتے اور دمکتے رہے۔

ذرا آپ کی تدریسی صلاحیت کا فیض لوٹنے والوں کی ایک مختصر فہرست دیکھیے:

  1. مولانا حسن رضا

  2. مولانا محمد رضا

  3. مولانا حامد رضا

  4. مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی

  5. مولانا سید محمد اشرفی کچھوچھوی

  6. مولانا ظفر الدین بہاری

  7. مولانا عبد الاحد پیلی بھیتی

  8. مولانا حسنین رضا

  9. مولانا سلطان احمد بریلوی

  10. مولانا سید احمد امیر

  11. مولانا حافظ یقین الدین

  12. مولانا عبد الکریم

  13. مولانا سید نور احمد چاٹگامی

  14. مولانا منور حسین

  15. مولانا واعظ الدین

  16. مولانا سید محمد عبد الرشید عظیم آبادی

  17. مولانا غلام محمد بہاری

  18. مولانا حکیم عزیز غوث

  19. مولانا نواب مرزا

  20. ابو الحسنات مولانا سید محمد احمد قادری

  21. مولانا قلندر علی سہروردی

  22. مولانا سید ایوب علی رضوی

  23. مولانا محمد حسین فیروز پوری

تصنیف و تالیف

أستاذ العلماء ابو البرکات مولانا سید احمد قادری شیخ الحدیث مرکزی حزب الاحناف لاہور (متوفی 1398ھ / 1978ء) فرماتے ہیں:

”جب اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی عمر شریف پچاس برس ہو گئی تو آپ نے اپنی تمام تر توجہ تصنیف و تالیف کی طرف پھیر دی۔ اور فرمایا ایک دور یعنی نصف صدی گزر گئی، زمانے کے حالات بدل گئے اب ہمیں بھی اپنی عادت میں تبدیلی کرنی چاہیے۔ چوں کہ لوگ تحریر سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں اس لیے اعلیٰ حضرت تقریر کی بہ نسبت تحریر کی طرف زیادہ توجہ فرمایا کرتے تھے۔“ [یاد اعلیٰ حضرت از مولانا عبد الحکیم شرف قادری، مکتبہ قادریہ لاہور، ص: 24]

امامِ اہل سنت کی عمر جب پچاس سال کی ہو گئی یعنی 1322ھ میں آپ نے اپنی تمام تر توجہ تصنیف و تالیف کی طرف کر دی پھر آپ نے لکھا اور خوب لکھا اور اتنا لکھا کہ ایک ٹیم ورک بھی اتنا کام نہیں کر سکے گی اور اگر کر بھی لے تو جو اندازِ تحریر اور دلائل کی کثرت آپ کے یہاں ہے وہ کر دکھانا نہایت مشکل امر ہے۔ بہرحال جب آپ نے توجہ مکمل طور پر تصنیف و تالیف کی طرف لگا دی تو آپ کے سیال قلم نے لگ بھگ ایک ہزار سے زائد کتب و رسائل قوم کو دیے لیکن تمام محفوظ نہ رہ سکیں جس کے سبب تمام کا انحصار اور اسماء کا شمار کوئی بھی محقق نہیں کر پایا۔ البتہ جنہوں نے بھی اس جہت سے کام کیا اور جو منظرِ عام پر ہے ان میں مصلحِ قوم و ملت علامہ محمد عبد المبین نعمانی صاحب قبلہ سرفہرست ہیں؛ جنہوں نے ”الْمُصَنَّفَاتُ الرَّضَوِيَّةُ“ معروف بہ ”تصانیفِ امام احمد رضا“ کے نام سے امامِ اہل سنت کی کتب و رسائل کی چھان پھٹک کر کے جن کتابوں کی فہرست تیار فرمائی ہے اس کی روشنی میں امامِ اہل سنت نے کس موضوع پر کتنی کتابیں تحریر فرمائی ہیں سپردِ قرطاس کیا جاتا ہے۔

تعدادِ کتب و رسائل:

  1. تفسیر: 16

  2. اصولِ تفسیر و علومِ قرآن: 1

  3. رسمِ خطِ قرآن: 1

  4. حدیث: 36

  5. اسانیدِ حدیث: 3

  6. اصولِ حدیث: 6

  7. اسماء الرجال: 7

  8. جرح و تعدیل: 2

  9. تخریجِ احادیث: 4

  10. لغتِ حدیث: 1

  11. فقہ: 280

  12. اصولِ فقہ: 7

  13. رسم المفتی: 3

  14. فرائض: 4

  15. تجوید: 4

  16. عقائد و کلام: 125

  17. سیر: 6

  18. تصوف: 14

  19. اخلاق: 4

  20. سلوک: 5

  21. فضائلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: 26

  22. مناقب: 17

  23. اذکار: 8

  24. ادفاق: 1

  25. تکسیر: 5

  26. جفر: 8

  27. توقیت: 17

  28. تاریخ: 8

  29. شعر و ادب: 21

  30. مکتوبات: 2

  31. ملفوظات: 3

  32. اصلاح و نصائح: 3

  33. نحو: 2

  34. صرف: 1

  35. لغت: 3

  36. عروض: 1

  37. خطبات: 1

  38. تعبیر: 1

  39. نجوم: 5

  40. ہندسہ: 5

  41. حساب: 5

  42. ریاضی: 6

  43. لوگارثم: 2

  44. علمِ مثلث: 3

  45. ہیئت: 16

  46. زیجات: 7

  47. منطق: 4

  48. فلسفہ: 5

  49. ارثماتیقی: 4

  50. مناظرہ: 5

  51. جبر و مقابلہ: 3

وعظ و تقریر

آپ کی ابتدائی زندگی تدریسی مشاغل میں صرف ہوئی پھر آپ نے پوری توجہ تصنیف و تالیف کی طرف کر دی اور اسی مصروف ترین زندگی میں آپ نے وعظ و نصیحت اور تقریر و خطابت کے ذریعہ بھی خدمتِ دینِ متین کا فریضہ انجام دیا ہے۔ آپ کی تقریر مستقل طور پر صرف چند مواقع پر ہوا کرتی تھی۔

علامہ یسین اختر مصباحی صاحب قبلہ لکھتے ہیں:

”امام احمد رضا نے تحریر کو سب سے زیادہ اہمیت دی اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ تصنیف و تالیف میں گزارا۔ تقریر سال میں دو ایک بار کیا کرتے تھے۔ وہ بھی محتاط انداز میں پورے عالمانہ وقار کے ساتھ ہوتی تھی۔ تین مواقع پر آپ کی تقریر خاص طور سے ہوا کرتی تھی:

اولاً: جلسۂ دستار بندی مدرسہ اہل سنت و جماعت بمقام مسجد بی بی جی محلہ بہاری پور، بریلی۔

ثانياً: 12 ربیع الأول شریف در بریلی شریف۔

ثالثاً: 18 ذی الحجہ عرسِ حضرت مولانا سید آلِ رسول مارہروی قدس سرہ در بریلی شریف۔“ [امام احمد رضا اربابِ علم و دانش کی نظر میں، ص: 40]

لیکن وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر بھی آپ نے وعظ و خطاب فرمایا جن میں مارہرہ شریف، بدایوں شریف، اجمیر شریف، سیتاپور، جبل پور، بریلی شریف وغیرہ شامل ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!