| عنوان: | مداح الحبیب صوفی جمیل الرحمن قادری رحمۃ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاءالنبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ولادت و نام
مداح الحبیب حضرت صوفی شاہ محمد جمیل الرحمن قادری برکاتی رضوی بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مرکزِ علم و فن بریلی شریف میں تولد ہوا۔
تعلیم و تربیت
جماعت اہلِ سنت کی مرکزی علمی و دینی دانش گاہ دار العلوم منظر اسلام میں تعلیم حاصل کی، سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی اکتسابِ فیض کیا، نعتیہ شاعری کا فن خاص کر سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سیکھا البتہ تعلیم کہاں تک حاصل کی اس کی تفصیل دستیاب نہیں۔ آپ کے اساتذہ کرام میں امام اہلِ سنت اور استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان کے اسمائے گرامی ملتے ہیں۔
جماعت رضائے مصطفیٰ سے وابستگی
17 ربیع الآخر 1339ھ / 17 دسمبر 1920ء میں مجددِ اعظم امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے "جماعتِ رضائے مصطفیٰ" بریلی شریف قائم فرمایا اور سرپرستِ اول قرار دیے گئے۔ اس تنظیم سے امام احمد رضا کے رفقاء، مریدین، خلفاء اور تلامذہ زیادہ تر منسلک تھے۔ ان میں مجلسِ شوریٰ میں جماعتِ اہلِ سنت کے سرخیل میں سے 11 نفوسِ قدسیہ کے اسماء مبارکہ شامل ہیں، ان میں پانچویں نمبر پر حضرت مداح الحبیب صوفی شاہ مولانا جمیل الرحمن قادری رضوی بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اسمِ گرامی اس طور پر درج ہے: "مولانا جمیل الرحمن قادری رضوی"۔ اسی طرح عہدے داران میں 5 ویں نمبر پر "مداح الحبیب مولانا جمیل الرحمن خان قادری رضوی، واعظ و مبلغ جماعت" درج ہے۔ اسی جماعتِ رضائے مصطفیٰ بریلی شریف کے شعبہ تبلیغ و ارشاد کی فہرست میں چوتھے نمبر پر "مداح الحبیب مولانا جمیل الرحمن خان رضوی بریلوی" تحریر ہے۔ (ماخوذ از تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ مرتب مولانا شہاب الدین رضوی، مطبوعہ: فرید بک اسٹال، لاہور)
بیعت و خلافت
حضرت صوفی شاہ جمیل الرحمن قادری رضوی بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اجازت و خلافت بھی حاصل تھی۔
رحلت
حضرت صوفی شاہ جمیل الرحمن قادری رضوی بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 1343ھ / 1924ء میں بریلی شریف میں مرشدِ برحق سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصالِ حق کے چوتھے سال میں ہوا، اور خود آپ نے وصیت کی تھی کہ "مجھے میرے استاد محترم حضرت استاذِ زمن کے جوارِ مرحمت انگیز میں دفن کرنا"، چنانچہ بعدِ وصال آپ کو سٹی قبرستان میں استادِ محترم کے متصل دفن کیا گیا۔ (قبالۂ بخشش، مطبوعہ: مدرسہ قادریہ، ممبئی، 2014ء)
القابات و خطابات
-
مداح الحبیب
-
مداح سرکارِ دو جہاں
مداح الحبیب
حضرت جمیل الرحمن قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی امام احمد رضا کی بارگاہِ فیض سے فیض یاب ہوئے اور امام نے آپ کے لیے بھی خطاب تجویز فرمایا جسے آپ خود بڑے فخر سے بیان کرتے۔ چنانچہ حضرت جمیل قادری اپنے دیوان "قبالۂ بخشش" میں لکھتے ہیں:
کر دیا تیرا لقب مرشد نے مداح الحبیب
کر جمیل قادری مدحت رسول اللہ کی
(قبالۂ بخشش، ص: 337)
اور امامِ اہلِ سنت کی قائم کردہ عظیم دینی، دعوتی اور تبلیغی تنظیم "جماعتِ رضائے مصطفیٰ" میں عہدہ داران اور شعبۂ دعوت و تبلیغ کی فہرست میں آپ کا اسمِ گرامی اس طرح درج ہے: جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عہدے داران میں 5 ویں نمبر پر ہے: "مداح الحبیب مولانا جمیل الرحمن خان قادری رضوی، واعظ و مبلغ جماعت"۔
اسی جماعتِ رضائے مصطفیٰ بریلی شریف کے شعبۂ تبلیغ و ارشاد کی فہرست میں چوتھے نمبر پر "مداح الحبیب مولانا جمیل الرحمن خان رضوی بریلوی" تحریر ہے (تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ)۔ اور فہرستِ خلفا میں امام نے آپ کا نام اس طرح تحریر فرمایا: "مداح الحبیب جناب مولوی حبیب الرحمن خان صاحب، بریلی محلہ بہاری پور، (میلاد خواں خوش الحاں، مداح سرکار دو جہاں)"۔ [حوالہ: امام احمد رضا اور القاب نوازی | صفحات: 203 تا 204]
