باہر وبا کا خوف ہے۔۔۔ گھر میں بلا کی بھوک

باہر وبا کا خوف ہے۔۔۔ گھر میں بلا کی بھوک
عنوان: باہر وبا کا خوف ہے۔۔۔ گھر میں بلا کی بھوک
تحریر: محمدثاقب نظامی

کورونا وبا اور بھوک کا عالمی بحران

آج پوری دنیا جس نازک موڑ سے گزر رہی ہے، اس سے شاید ہی کسی کو انکار ہو۔ چین میں پیدا ہونے والا کورونا آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ حکمرانِ وقت اس وبا سے اپنے ملک کو بچانے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں اپنا رہے ہیں۔ علی العموم اکثر ممالک میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا ہے، لیکن کورونا کا قہر پورے شباب پر ہے۔

حکمرانوں کی ناکامی اور کورونا کا بڑھتا ہوا قہر دیکھ کر مجھے عباسی خاندان کے پانچویں خلیفہ، ہارون الرشید کے دورِ حکومت کا واقعۂ قحط یاد آتا ہے۔ دنیا اس مہلک وبا سے پہلے بھی مختلف بحرانوں کا شکار رہی ہے، جن میں سرفہرست بھوک اور بھوکمری کا مسئلہ رہا ہے۔ 2019ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں 82 کروڑ سے زائد لوگ بھوک اور کم خوراکی کا شکار تھے، تو یقیناً 2020ء میں ان اعداد و شمار میں اضافہ ہی ہوا ہوگا۔

حکومت کی بے حسی اور غریبوں کی فاقہ کشی

آئے دن یہ خبر سننے کو آتی ہے کہ فلاں جگہ بھوک و افلاس کے ہاتھوں تنگ آ کر ایک ماں نے اپنے بچے کو قتل کر دیا، کہیں نوکری نہ ملنے پر کسی نے خودکشی کر لی، اور کہیں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری اور غربت سے تنگ آ کر لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کو پیشہ بنا بیٹھا۔

ان سارے واقعات کی بنیادی وجہ حکمرانوں کی بے حسی اور اقتدار کی ہوس پرستی ہے۔ ایسا نہیں کہ دنیا میں اناج کی قلت ہو، بلکہ اصل وجہ ان کا غیر ذمہ دار ہو جانا ہے۔ ملکِ عزیز ہندوستان کا بھی یہی حال ہے۔ عام دنوں کے مقابلے میں آج تین گنا زیادہ اناج ذخیرہ گاہوں اور گوداموں میں موجود ہے، جہاں وہ خراب ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

ہمارے ملک میں ہزاروں ایسے گھر ہیں جن کے معصوم بچے نانِ شبینہ کو ترس رہے ہیں۔ سینکڑوں ایسی لاشیں ملی ہیں جن کا چہرہ بتاتا ہے کہ انہیں بھوک نے مارا ہے۔

چہرہ بتا رہا تھا کہ مارا ہے بھوک نے
لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ کچھ کھا کر مر گیا

غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن اور غریب طبقہ

آج ہر سو عجیب سی افراتفری مچی ہوئی ہے۔ کہیں لوگ کورونا سے مر رہے ہیں، تو کہیں اپنی بے بسی اور اپنے اہلِ خانہ کی فاقہ کشی دیکھ کر تل تل مر رہے ہیں۔ ایک طرف پورا ملک کورونا سے لڑ رہا ہے، تو دوسری طرف حکومت کی نااہلی اور بے حسی غریب مزدوروں کو بھوک اور پیاس سے لڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔

یقیناً یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان جو کہتے ہیں، وہ کرتے نہیں، اور جو کرتے ہیں، وہ پہلے سے بتاتے نہیں۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کی طرح بغیر کسی پیشگی اطلاع اور تیاری کے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔

اس ہنگامی لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں تمام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہیں خصوصاً غریب، مفلس، مزدور اور محنت کش طبقہ، جن کی روزمرہ زندگی روزانہ کی محنت اور مزدوری پر منحصر تھی، سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ وہ فاقہ کشی کا شکار ہو گئے، یہاں تک کہ ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر آنے لگی۔ غریب بستیوں میں رہنے والے لوگ یہاں تک کہنے لگے کہ کورونا سے موت یقینی تو نہیں لگتی، البتہ اگر لاک ڈاؤن اسی طرح جاری رہا تو بھوک اور پیاس سے موت یقینی ہے۔ سچ ہی تو ہے کہ بھوک برداشت کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب یہ حد پار ہو جاتی ہے تو بھوک ایک ایسے عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو انسان سے کچھ بھی کروا سکتی ہے۔

اسلامی تعلیمات اور باہمی تعاون کی ذمہ داری

یہ بات بھی حق ہے کہ ایسے مہلک حالات میں اسلام احتیاط اور جسمانی فاصلے (فزیکل ڈسٹینسنگ) کی تعلیم دیتا ہے۔ لاک ڈاؤن کوئی نئی چیز نہیں، نئی چیز اگر ہے تو حکومت کی نااہلی اور اس قدر غیر ذمہ دار ہونا۔ ایسے نازک وقت میں، جبکہ باہر وبا کا خوف ہے اور گھر میں بلا کی بھوک، ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم بلا تفریقِ رنگ و نسل، خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، سب کی مدد کریں، کیونکہ ایسے وقت میں اسلام صدا دیتا ہے:

«مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ.»
ترجمہ: جس کے پاس دو افراد کا کھانا ہو، وہ تیسرے کو بھی اپنے ساتھ شامل کرے، اور جس کے پاس چار افراد کا کھانا ہو، وہ پانچویں یا چھٹے شخص کو بھی اس میں شریک کر لے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الْاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ.»
ترجمہ: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے، دو کا کھانا چار کے لیے، اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوتا ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:
«لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَبِيتُ شَبْعَانَ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ.»
ترجمہ: وہ شخص کامل مؤمن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر سو جائے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو۔

الغرض، مختلف مواقع پر اسلام نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، ہمدردی اور امداد کی ترغیب دی ہے۔ صرف ترغیب ہی نہیں دی بلکہ رسولِ اکرم ﷺ نے خود اس پر عمل کر کے دکھایا اور اپنے صحابۂ کرامؓ سے بھی اس پر عمل کروایا، تاکہ امت پر حجت قائم ہو جائے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!