آمدِ میلادِ مصطفی ﷺ اور ہماری ترجیحات

آمدِ میلادِ مصطفی ﷺ اور ہماری ترجیحات
عنوان: آمدِ میلادِ مصطفی ﷺ اور ہماری ترجیحات
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پیش کش: پی جی ریسرچ اسکالر، دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا، انڈیا

ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی فضاؤں میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ گلیاں سجتی ہیں، مساجد و مدارس میں محافلِ میلاد منعقد ہوتی ہیں، درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، نعتوں کی خوشبو بستی بستی پھیلتی ہے اور عاشقانِ رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد کی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں عالمِ انسانیت کو وہ عظیم ہستی عطا ہوئی جس نے انسان کو انسانیت کا شعور دیا، دلوں کو ایمان کی روشنی بخشی، اخلاق کو بلندی عطا کی اور زندگی گزارنے کا ایسا کامل نظام پیش کیا جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔

لیکن اس خوشی کے درمیان ایک سوال ایسا ہے جس سے ہمیں خود کو ضرور دوچار کرنا چاہیے: کیا ہماری محبتِ رسول ﷺ صرف محفل، چراغاں، جلوس، نعت اور نعروں تک محدود ہے، یا ہمارے کردار، معاملات اور معاشرتی زندگی میں بھی اس محبت کا عکس دکھائی دیتا ہے؟ یہ سوال کسی خاص طبقے یا فرد پر تنقید کے لیے نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے احتساب کا آئینہ ہے۔

محبت کا حقیقی ثبوت:

آج ہم میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی محافل میں بڑے شوق سے شرکت کرتے ہیں، درود و سلام پڑھتے ہیں، نعتیں سنتے ہیں اور محبتِ رسول ﷺ کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ محبت کے مظاہر ہیں؛ لیکن محبت کا سب سے بڑا ثبوت صرف زبان نہیں، اطاعت ہے؛ صرف جذبات نہیں، کردار ہے؛ صرف محفل نہیں، زندگی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہمارے لیے محض عقیدت کا مرکز نہیں بلکہ زندگی کا کامل نمونہ ہے۔

قرآنِ کریم نے ارشاد فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ: یعنی بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔

لہٰذا اگر ہم واقعی میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی منانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہماری زندگی میں مصطفیٰ ﷺ کی سنت کتنی موجود ہے؟

کیا ہماری زندگی میلاد کے پیغام سے جڑی ہے؟

ہم نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے معاملات میں صداقت ہے؟ ہم درود و سلام پڑھتے ہیں، مگر کیا ہماری زبان دوسروں کی عزت محفوظ رکھتی ہے؟ ہم نعتوں میں آپ ﷺ کی رحمت کا ذکر کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے دلوں میں اپنے پڑوسی، رشتہ دار، غریب اور کمزور کے لیے رحمت ہے؟ ہم آپ ﷺ کے اخلاق بیان کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے گھر کے افراد ہمارے اخلاق سے خوش ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں میلاد کا پیغام ہماری زندگی سے جڑتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے صرف عبادات نہیں سکھائیں؛ آپ ﷺ نے معاشرت سکھائی، تجارت سکھائی، رشتہ داری نبھانا سکھایا، پڑوسی کے حقوق بتائے، والدین کی خدمت سکھائی، بچوں سے شفقت سکھائی، عورتوں کے حقوق کی حفاظت فرمائی، یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھا، کمزوروں کی مدد کی، دشمنوں کے ساتھ بھی عدل کا حکم دیا اور انسان کو اس کے کردار سے پہچاننا سکھایا۔ مگر آج ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات ہم رسول اللہ ﷺ کے نام پر جذباتی تو بہت ہوتے ہیں، لیکن آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کے معاملے میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ہم محفلِ میلاد میں صفیں درست کر لیتے ہیں، لیکن زندگی کی صفیں بکھری ہوئی ہیں۔ ہم نعت میں ادبِ مصطفیٰ ﷺ کا ذکر کرتے ہیں، لیکن اپنے والدین سے گفتگو میں ادب بھول جاتے ہیں۔ ہم حضور ﷺ کی رحمت کا ذکر کرتے ہیں، لیکن اپنے ہی رشتہ داروں سے معمولی اختلاف پر برسوں تعلق ختم کر دیتے ہیں۔ ہم اخوتِ اسلامی کے نعرے لگاتے ہیں، لیکن معمولی مفاد کے لیے اپنے مسلمان بھائی کو دھوکا دینے سے نہیں چوکتے۔ یہ کیسا تعلق ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری زبان پر ہیں مگر ہماری زندگی میں نہیں؟

آج ایک شخص محفلِ میلاد میں شریک ہو کر گھر واپس آتا ہے، مگر اگلے ہی دن کاروبار میں جھوٹ بولتا ہے۔ کوئی نعتیہ محفل میں آنکھیں نم کرتا ہے، مگر گھر میں بیوی بچوں کے حقوق پامال کرتا ہے۔ کوئی محبتِ رسول ﷺ کا سب سے بڑا دعوے دار ہوتا ہے، مگر اپنے ملازم کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔ کوئی درود و سلام کی محفل میں بیٹھتا ہے، مگر سوشل میڈیا پر دوسروں کی عزت اچھالتا ہے۔ ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ اگر میلاد کے بعد ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے میلاد کے پیغام کو صرف رسم بنا دیا ہے؟

ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

میلاد کا مقصد محض ایک دن خوشی منانا نہیں؛ بلکہ اس عظیم ہستی کی آمد کی خوشی کے ساتھ اس مشن کو یاد کرنا بھی ہے جس کے لیے آپ ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے جہالت کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلائی، ظلم کے مقابل عدل قائم کیا، نفرت کے ماحول میں اخوت پیدا کی، طبقاتی غرور کو ختم کیا اور انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایا۔ اس لیے ہمیں اپنی ترجیحات پر غور کرنا ہوگا:

  • اگر ہم میلاد مناتے ہیں تو جھوٹ بھی چھوڑیں۔
  • اگر ہم نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو بدزبانی بھی چھوڑیں۔
  • اگر ہم درود و سلام پڑھتے ہیں تو حقوق العباد بھی ادا کریں۔
  • اگر ہم سیرت بیان کرتے ہیں تو سیرت کو اپنی زندگی میں بھی نافذ کریں۔
  • اگر ہم آپ ﷺ کی رحمت کا ذکر کرتے ہیں تو اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں رحمت کا کردار ادا کریں۔
  • اگر ہم آپ ﷺ کی شفاعت کے امیدوار ہیں تو آپ ﷺ کی سنت سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔

یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے: میلاد اور اتباع ایک دوسرے کے مقابل نہیں ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ میلاد منایا جائے یا رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے؛ بلکہ صحیح سوال یہ ہے کہ میلاد کی خوشی ہمیں تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل کی طرف کیسے لے جائے؟ ہم میلاد منائیں، محبت کا اظہار کریں، درود و سلام پڑھیں، سیرت بیان کریں؛ لیکن اس کے ساتھ اپنے آپ سے یہ عہد بھی کریں کہ ہم اپنے محبوب ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ کیونکہ جب انسان واقعی رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل شروع کرتا ہے تو اس کے اندر خود بخود محبتِ رسول ﷺ کے مظاہر پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس کی زبان درود سے تر ہوتی ہے، اس کا دل محبت سے معمور ہوتا ہے، اس کے معاملات میں سنت نظر آتی ہے، اس کے اخلاق میں مصطفوی رنگ پیدا ہوتا ہے اور اس کی زندگی خود سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا ایک چھوٹا سا آئینہ بن جاتی ہے۔

  • اصل کامیابی یہ نہیں کہ صرف ہمارے گھروں پر چراغاں ہو؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارے دل بھی چراغِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن ہوں۔
  • اصل کامیابی یہ نہیں کہ صرف ہماری زبان پر نعت ہو؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارے کردار میں سنت ہو۔
  • اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم صرف میلاد کی محفل میں بیٹھیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کی محفل بنا دیں۔

معاشرے کو مصطفوی انقلاب کی ضرورت:

آج ہمارے معاشرے کو اسی انقلاب کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے مسلمان درکار ہیں جن کے چہروں پر محبتِ رسول ﷺ اور کردار میں سیرتِ رسول ﷺ نظر آئے۔ ایسے تاجر جو حضور ﷺ کی صداقت کو اپنے کاروبار میں اپنائیں، ایسے والدین جو آپ ﷺ کی شفقت کو اپنے بچوں کے ساتھ برتیں، ایسے نوجوان جو آپ ﷺ کی پاکیزگی اور حیا کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں، ایسے پڑوسی جو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اپنے پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں اور ایسے مسلمان جو اختلاف کے باوجود عدل، اخلاق اور احترام کا دامن نہ چھوڑیں۔

  • ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی کا سب سے خوبصورت ثبوت یہ ہے کہ ہمارے رویے مصطفوی ہو جائیں۔
  • جب ہم جھوٹ چھوڑتے ہیں تو گویا سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے اپنا تعلق مضبوط کرتے ہیں۔
  • جب ہم کسی مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں تو گویا تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کو زندہ کرتے ہیں۔
  • جب ہم والدین کی خدمت کرتے ہیں، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرتے ہیں، یتیم کا خیال رکھتے ہیں، پڑوسی کو تکلیف نہیں دیتے، کسی کی عزت پامال نہیں کرتے اور اپنے معاملات میں دیانت داری اختیار کرتے ہیں تو ہماری زندگی اس عظیم نبی ﷺ کی تعلیمات کی عملی گواہی بن جاتی ہے۔ لہٰذا ربیع الاول ہمیں صرف جشن کا پیغام نہ دے بلکہ تبدیلی کا پیغام بھی دے۔
  • ہم اپنے گھروں کو سجائیں، مگر اپنے اخلاق بھی سجائیں۔
  • ہم محفلیں سجائیں، مگر اپنے کردار کو بھی سجائیں۔
  • ہم گلیاں روشن کریں، مگر اپنے دلوں کو بھی روشن کریں۔
  • ہم نعتیں پڑھیں، مگر سنتیں بھی اپنائیں۔
  • ہم درود و سلام پڑھیں، مگر حقوق العباد بھی ادا کریں۔
  • ہم میلاد کی خوشی منائیں، مگر میلاد والے مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا دستور بھی بنائیں۔

کیونکہ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہی ہے کہ جس ذاتِ اقدس سے محبت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کی اطاعت اور اتباع بھی زندگی میں نظر آئے۔ میلاد کی محفل چند گھنٹوں کے لیے ہوتی ہے، مگر سیرتِ مصطفیٰ ﷺ پوری زندگی کے لیے ہے۔ اور شاید ہمارے دور کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم میلاد کو صرف ایک تقریب نہیں، ایک تحریک بنائیں؛ صرف ایک موسم نہیں، ایک مسلسل زندگی بنائیں؛ صرف ایک نعرہ نہیں، ایک کردار بنائیں۔

جب ہمارے معاملات میں مصطفیٰ ﷺ ہوں گے، ہمارے اخلاق میں مصطفیٰ ﷺ ہوں گے، ہمارے گھروں میں مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات ہوں گی، ہماری تجارت میں مصطفیٰ ﷺ کی دیانت ہوگی، ہماری معاشرت میں مصطفیٰ ﷺ کی رحمت ہوگی اور ہماری زبان و دل میں درود و محبتِ مصطفیٰ ﷺ ہوگی، تو پھر ہمارا میلاد محض ایک تقریب نہیں رہے گا بلکہ ہماری پوری زندگی میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے پیغام کی عملی تصویر بن جائے گی۔

آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی منائیے، ضرور منائیے؛ مگر اس خوشی کو اپنی زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنائیے۔ کیونکہ جس مصطفیٰ ﷺ کی آمد پر ہم خوشی مناتے ہیں، ان کے طریقے پر چلنا ہی اس خوشی کی سب سے خوبصورت تکمیل ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!