| عنوان: | حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی داعیانہ صفات |
|---|---|
| تحریر: | عبدالصمد قادری |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار نیپال گنج |
اللہ رب العزت نے لوگوں کی رشد و ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو ہادی و مرشد اور اعلیٰ صفات کا حامل بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ انہی رسولوں میں سے ایک اول العزم رسول حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہیں، جن کو وحدہٗ لا شریک لہٗ نے فرعون جیسے جابر و ظالم اور اس کی سرکش قوم کی طرف داعیِ اللہ بنا کر بھیجا۔
اللہ رب العزت قرآنِ مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾
ترجمہ کنز العرفان: اور موسیٰ نے فرمایا: اے فرعون! میں ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔ (الاعراف، 7: 104)
البتہ! جب اللہ رب العزت نے آپ (علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) کو اتنے عظیم کام اور ایسی سرکش قوم کی طرف مبعوث فرمایا تو آپ کے رب نے آپ کو کچھ انوکھے اوصاف سے بھی متصف فرمایا تاکہ وہ تبلیغِ دین میں معین و مددگار ہوں۔ انہی اوصاف میں سے چند کو نوکِ قلم سے عرضِ قرطاس پر منتقل کرنے کی سعی کرتا ہوں:
اخلاصِ نیت
کسی بھی کام کی تکمیل اور اس کو انتہا تک پہنچانے میں اخلاصِ نیت اور رضائے الٰہی پیشِ نظر رکھنا بے حد لازم و ضروری ہے، لا سیما دعوتِ دین میں۔ اس وصف میں بھی حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھیے تو آپ سب پر فائق نظر آتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کے رب نے خود آپ کو وصفِ 'مخلص' سے یاد فرمایا۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
﴿وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى٘-اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا﴾
ترجمہ کنز العرفان: اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو، بیشک وہ چنا ہوا بندہ تھا اور وہ نبی رسول تھا۔ (مریم، 19: 51)
مدعو کے ساتھ نرمی
آپ (علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) اپنے مدعو کو انتہائی شفقت و نرمی کے ساتھ دینِ اسلام کی طرف بلاتے تھے۔ چنانچہ! آپ کو اللہ رب العزت نے نرمی کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى﴾
ترجمہ کنز العرفان: تو تم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔ (طہٰ، 20: 44)
دوام و استقامت
حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام پر اتنے مصائب و آلام آئے اور فرعون جیسے جابر و ظالم بادشاہ کی جانب سے بارہا قید و بند اور ہلاکت کی دھمکیاں ملیں، اس کے باوجود آپ علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مشن سے ایک آن کے لیے بھی اور ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے اور جرأت و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہے۔ چنانچہ! اللہ رب العزت قرآنِ مقدس میں فرعون کا قول بیان فرماتا ہے:
﴿قَالَ لَىٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ﴾
ترجمہ کنز العرفان: (فرعون نے) کہا: (اے موسیٰ!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا۔ (الشعراء، 26: 29)
یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے جرأت مندانہ جواب دیا:
﴿قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍ﴾
ترجمہ کنز العرفان: موسیٰ نے فرمایا: کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لے آؤں؟ (الشعراء، 26: 30)
صبر و شکر
اللہ رب العزت نے آپ (علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) کے صبر کو کچھ اس طرح بیان فرمایا:
﴿وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ﴾
ترجمہ کنز العرفان: اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا، اے میری قوم! مجھے کیوں ستاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ (الصف، 61: 5)
یہ انتہا درجے کا صبر ہے کہ تکالیف و آلام ملنے کے باوجود، اور اس تکلیف پر ردِ عمل ظاہر کرنے پر قادر ہونے کے باوجود، آپ نے احسن انداز سے تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دیا۔
توکل علی اللہ
دعوت و تبلیغ میں جب جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا اور بظاہر آپ کے پاس اس سے بچاؤ کا کوئی سبب نہ تھا، تو اس وقت آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلیٰ درجے کے 'توکل علی اللہ' کا مظاہرہ فرمایا۔ چنانچہ! اللہ رب العزت قرآنِ مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ۔ قَالَ كَلَّاۚ-اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ﴾
ترجمہ کنز العرفان: پھر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا: بیشک ہمیں پالیا گیا۔ موسیٰ نے فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔ (الشعراء، 26: 61-62)
اس توکل کا فائدہ یہ ہوا کہ اللہ رب العزت نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو نجات عطا فرمائی:
﴿وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَ﴾
ترجمہ کنز العرفان: اور ہم نے موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو بچا لیا۔ (الشعراء، 26: 65)
اللہ پاک ہمیں بھی ان مبارک اوصاف سے متصف فرمائے۔ آمین ثم آمین!
