| عنوان: | آزاد ہندوستان میں قومِ مسلم کی حالت کیوں ہے لائقِ اشکبار؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمدثاقب نظامی |
مایوسی کے سائے اور دردناک حقائق
﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾
بات ایک رات کی ہے۔ عادت کے مطابق میں نے سونے سے قبل اخبار اٹھایا۔ اخبار کے مطالعے کے دوران میری نگاہ شاعرِ ہند مولانا نعمان اشرف کے بڑے ہی دردمندانہ انداز میں لکھی گئی ایک نظم "میں عید مناؤں کیسے؟" پر پڑی۔ جوں جوں میں اس نظم کو پڑھتا گیا، آنسوؤں کے قطرات میری آنکھوں سے رواں ہوتے گئے۔ پھر کیا تھا، میرے اندر کے خوابیدہ خیالات بیدار ہو گئے۔
وطنِ عزیز ہندوستان میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم نے مجھے مضطرب کر دیا۔ کبھی میرے کانوں میں برما کے مظلوم مسلمانوں کی چیخیں سنائی دیتیں تو کبھی گجرات کے جلتے دہکتے دن رات میرے لہو کو گرما دیتے۔ کبھی ننھی آصفہ کی معصومیت مجھے جھنجھوڑ کر انصاف طلب کرتی، تو کبھی خاک و خون میں تڑپتے غفران و تسلیم کی لاشیں پکار پکار کر کہتیں: اے مسلمان! جاگ اور غفلت کے خوابوں سے نکل۔
اسلاف کی قربانیاں اور موجودہ بے بسی
ہر ہر پل رات کی سیاہی بڑھتی جا رہی تھی۔ بھیانک سناٹے نے تیرگی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ دن بھر کے تھکے ماندے انسان، رونے والے بچے، کھانسنے اور کراہنے والے بیمار بوڑھے، سب شب کے پردۂ سکوت میں چھپ گئے تھے۔ ہاں، کبھی کبھار سناٹے کو چیرتی ہوئی کسی گیدڑ کی آواز کانوں سے ٹکراتی اور ماحول کو مزید ہیبت ناک بنا جاتی تھی۔
کائنات محوِ خواب تھی، مگر میری آنکھیں نیند کے لیے ترس رہی تھیں، اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ بات ان ہندی مسلمانوں کی تھی جن کے اسلاف نے پھانسی کے پھندوں کو چوم کر ہندوستان کی آزادی کی منزل کا پتہ پوچھا تھا۔ بات ان بہو بیٹیوں کی عصمت و عفت کی تھی جن کے آبا نے برسرِ عدالت نغمۂ آزادی سنایا تھا۔ بات ان مدارس کی تھی جنہوں نے تن کے گورے، من کے کالے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا۔ بات ان نوجوانوں کی تھی جن کے اجداد نے صدیوں اس ملک پر حکومت کی تھی۔
میں خود سے سوال کیے جا رہا تھا کہ آخر کیوں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالتِ زار آہ و بکا کر رہی ہے، چیخ و پکار کی صدائیں دے رہی ہے؟ اپنی بے چارگی اور مظلومیت پر ذرہ ذرہ ماتم کناں ہے۔ میرا ضمیر مجھے جھنجھوڑ کر خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہوئے کہتا: اٹھو تو سہی! دیکھو، بے قصور مسلمانوں کے خون اور ان کی بے کسی و بے بسی سے مسلمانوں کے آنسوؤں کا سیلاب امنڈ رہا ہے۔ ہندوستان کا گوشہ گوشہ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے بھرا پڑا ہے۔ ان کی بہو بیٹیوں کی عصمت و عفت کے دامن تار تار ہیں، مسلمانوں کی زندگی سسک رہی ہے اور نفرت و تعصب کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔
صدائے مؤذن اور قرآنی پیغام
ابھی میں انہی خیالوں میں محو تھا کہ صدائے مؤذن نے مجھے خیالات کی دنیا سے باہر نکالا۔ میں وضو کر کے بوجھل قدموں کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھڑی کی سوئیاں اپنی رفتار سے گردش کرتی ہوئی جماعت کے وقت پر آ گئیں۔ امام صاحب مصلیٰ پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔ سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد امام صاحب نے سورۂ آلِ عمران کی تلاوت شروع کی۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے:
﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾
تو یہ آیت میری سماعت سے ٹکرائی، میں چونک سا گیا۔ جیسے یہ آیت مجھے میرے اسلاف کے تاریخی صفحات کی ورق گردانی کا مطالبہ کر رہی ہو، جیسے مجھے پکار پکار کر یہ بتا رہی ہو کہ تم اپنے اسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کرو، تمہاری الجھن ختم ہو جائے گی۔
عروج و زوال کا اصل سبب
دوستو! جب میں نے اپنے اسلاف کی زندگی پر غور کیا تو پتہ چلا کہ ان کی زندگی تقویٰ سے عبارت تھی۔ وہ راہِ خدا میں اپنا تن، من، دھن سب نچھاور کر دینے والے تھے۔ ان کے عمل میں اخلاص تھا۔ وہ آخرت کی زندگی کو دنیاوی زندگی پر ترجیح دیتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ:
«لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ»
یعنی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے۔
رب العالمین نے اپنا وعدہ پورا کیا: ﴿وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ﴾ یعنی تم ہی سربلند رہو گے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ سربلندی ایسی تھی کہ شیر نے سواری دی، دریاؤں نے راستہ دیا، ہواؤں نے سواری کروائی، اور ایک طویل صدی تک ہم نے حکمرانی کی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دورِ حاضر کے مسلمانوں کی حالت لائقِ اشکبار کیوں ہے؟ یہ بھی تو رب العالمین کے پجاری ہیں، رحمت للعالمین ﷺ کے امتی ہیں۔ دوستو! فرق صرف اتنا سا ہے کہ وہ خدا کو ماننے کے ساتھ خدا کی بھی مانتے تھے، لیکن آج ہم خدا کو تو مانتے ہیں، مگر خدا کی نہیں مانتے۔ رسول اللہ ﷺ کو مانتے ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ کی نہیں مانتے۔ قرآن کو مانتے ہیں، مگر قرآن کی نہیں مانتے۔ صحابۂ کرامؓ کو مانتے ہیں، مگر صحابۂ کرامؓ کی نہیں مانتے۔ ہم نے راہِ خدا پر چلنا چھوڑ دیا تو خدا نے بھی اپنا رخ موڑ لیا۔ ہم جب بھی اللہ رب العزت کے حکم سے بغاوت کریں گے، ذلیل و رسوا ہوں گے، ناکامی و نامرادی ہمارا مقدر ہو گی۔ صرف اس کا نام لینا اور اس کی وفاداری کا دم بھرنا کافی نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ماننے کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ماننی بھی ہوگی۔
خوابِ غفلت سے بیداری کی ضرورت
اب ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار ہونا ہوگا۔ اگر ہماری یہی حالت رہی تو نہ معلوم کتنی مساجد ویران کر دی جائیں گی۔ اگر ہم نے اپنی حالت نہ بدلی تو نہ معلوم کتنے مدارس مقفل ہو جائیں گے۔ اگر ہمارے اندر تبدیلی نہ آئی تو نہ معلوم کتنے نوجوان ناحق قید خانوں کی نذر کر دیے جائیں گے۔ اگر ہم میں انقلاب نہ آیا تو یقینا ہمیں بنگال کی کھائی میں پھینک دیا جائے گا۔ اگر ہم یوں ہی پڑے سوئے رہے تو نہ معلوم کتنی معصوم بچیاں اہلِ ہوس کا شکار ہوتی رہیں گی۔ اگر ہماری یہی حالت رہی تو ایک دن اس ہندوستان میں وہی داستانِ خوں چکاں دہرائی جائے گی جو صدیوں پہلے مسلمانانِ بغداد جھیل چکے ہیں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں
حالانکہ قرآنِ مجید آج بھی مایوسیوں کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں ڈوبی ہوئی ملت کے لیے شمعِ امید جلائے ہوئے ہے۔ ناامیدی کی دبیز چادر اتار کر قرآن ہم سے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے:
﴿وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾
تم ہی سربلند رہو گے، بشرطیکہ مومنِ کامل بن کر زندگی گزارو۔
آج بھی ہو جو ابراہیمؑ سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
