دو چار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانے کتنے ہیں مجاہدینِ آزادی اور مسلم قربانیاں

دو چار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانے کتنے ہیں
عنوان: دو چار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانے کتنے ہیں
تحریر: محمد ثاقب نظامی

آئین، مشترکہ تہذیب اور جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار

وہ لوگ جنہوں نے خوں دے کر اس چمن کو زینت بخشی ہے
دوچار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانے کتنے ہیں


مجھے اپنے آزاد وطن ہندوستان، اپنے سیکولر جمہوری آئین اور اپنی گنگا جمنی مشترکہ تہذیب پر ناز ہے، ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جو کثرت میں وحدت اور سیکولر جمہوری قدروں کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ ہمارا آئین ہر مذہب و عقیدہ کے ہندوستانی کی شخصی آزادی، ہر فرد کی مذہبی، سماجی، روایتی قدروں کے تحفظ کا ضامن ہے، ہر قوم ہر فرقہ ہر قبیلہ اور ہر عقیدہ کے ہندوستانیوں کے حقوق مساوی ہیں۔ مقدس ہندوستانی آئین کی رو سے ہندو، مسلم، سکھ عیسائی سب کے حقوق برابر ہیں، کسی کو کسی پر فوقیت نہیں، کوئی برتر اور کوئی کمتر نہیں۔

اور یہ اس لئے ہے کیونکہ ہندوستان کی حریت کا دیپ شہیدوں کے لہو سے ہی روشن ہوا ہے، انہی کی عظیم اور لازوال قربانیوں کی بدولت ہم آج شان سے کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہندوستان کے آزاد باسی ہیں، ملک ہندوستان کی آزادی ہندو مسلم سکھ عیسائی کے اتحاد سے پوری ہوئی، ملک کے سبھی طبقات نے جنگ آزادی میں برابر کا حصہ لیا۔

تاریخی فراموشی اور مسلم مجاہدینِ آزادی

مگر یہ بڑے ہی تعجب کی بات ہے کہ آزادی کے بعد مسلمان مجاہدینِ آزادی کو نظر انداز کر دیا گیا، ان کو تاریخ کے صفحات سے لے کر عجائب گھروں تک سے ان کی نشانیاں مٹائی جا چکی ہیں۔ ہزاروں ایسے مجاہدینِ آزادی تھے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کی تھیں، مگر آج ان کا ذکر نہیں ملتا ہے۔

بہادر شاہ ظفر پہلی جنگ آزادی کے پیشوا تھے اور ان کی قیادت میں ملک کے سبھی طبقات نے انگریزوں سے لوہا لیا تھا، جنرل بخت خاں آخری مغل تاجدار کے سپہ سالار تھے جن کی فوجی قیادت نے انگریزوں کے قدم لرزا دیئے تھے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی جنہوں نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد مرتب کیا تھا، لکھنؤ کی بیگم حضرت محل جو اخیر تک اودھ کو غیر ملکی قابضوں سے بچانے کی کوشش میں لگی رہیں۔ آج ان سبھی لوگوں کو فراموش کیا جا चुका ہے جو یقیناً اس دیس کے محسن ہیں۔

مولوی باقر اور شہداء کی لازوال قربانیاں

آج مولوی باقر کو کوئی نہیں جانتا جو پہلے صحافی تھے جنہیں حق گوئی کی پاداش میں پھانسی پر چڑھایا گیا تھا، آج تاریخ کے صفحات میں ان علماء کرام کا نام نہیں ملتا جنہوں نے 1857ء کے انقلاب میں بڑی بڑی قربانیاں دیں اور ان میں سے سینکڑوں کو کالا پانی کی سزا ہوئی۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!