کچھ بڑی بات تھی، ہوتے جو مسلمان بھی ایک اتحاد امت کی ضرورت

کچھ بڑی بات تھی، ہوتے جو مسلمان بھی ایک
عنوان: کچھ بڑی بات تھی، ہوتے جو مسلمان بھی ایک
تحریر: محمد ثاقب نظامی

ترقی اور تنزلی کا راز

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ اقوامِ عالم کی ترقی و تنزلی اتحاد و اتفاق کے وجود و فقدان پر موقوف ہے۔ جس قوم نے بھی اتحاد کے دامن کو مضبوطی سے تھاما، فتح و نصرت اس کے ساتھ ساتھ رہی۔

عصرِ حاضر میں مسلمانوں کی حالتِ زار

آج اس دورِ پرفتن میں اگر ایک طائرانہ نظر قومِ مسلم کے حالات کی طرف کی جائے، جو دنیا کی تمام اقوام و ملل میں تعداد کے اعتبار سے کثیر ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تقریباً ساٹھ مسلم ممالک ہیں اور ان کا محلِ وقوع بھی نہایت اہم ہے۔ وطنِ عزیز ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی تعداد پچیس کروڑ سے زیادہ ہے، لیکن پھر بھی مسلمان ہر ملک اور ہر شہر میں ذلیل و خوار کیوں ہیں؟ وہ ظلم و بربریت کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟ ان کی عزت و ناموس محفوظ کیوں نہیں ہے؟

بہت سے ممالک میں انہیں تہِ تیغ کیا جا رہا ہے، جن میں قابلِ ذکر فلسطین، افغانستان، عراق، شام، حلب اور میانمار ہیں۔ وطنِ عزیز ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے۔ کبھی شریعت میں رد و بدل کی کوشش کی جاتی ہے، تو کبھی گائے کے نام پر معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور کبھی اسلامی قلعوں، مدارس اور مساجد کی طرف انگشت نمائی کی جاتی ہے۔ آج قومِ مسلم پر جو مظالم و بربریت ڈھائی جا رہی ہے، اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں ایک اہم وجہ عدمِ اتحاد ہے۔

اتحادِ امت: قرآنی تعلیمات اور اسلاف کا نمونہ

اتحاد دنیا کی وہ عظیم طاقت ہے جسے کوئی طاقت چیلنج نہیں کر سکتی۔ ذرا قرونِ اولیٰ کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب اتحاد و اتفاق، اخوت و محبت کی صفت سے آراستہ ہوئے، اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾
(اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو)

اور رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد:
"المسلم أخو المسلم"
(مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے)

کے مطابق ایک ہوئے، تو دنیا پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے اور چہار دانگِ عالم پر چھا گئے۔

افتراق کا انجام اور موجودہ تقاضا

تاریخ شاہد ہے کہ جب تک اتحاد و اتفاق کی دولت مسلمانوں کے ہاتھ میں رہی اور وہ ارشادِ خداوندی پر عمل پیرا رہے، شان و شوکت کے ساتھ پوری دنیا پر حکومت کرتے رہے۔ لیکن جب مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات سے منہ موڑا اور اتحاد و اتفاق کے دامن کو اپنے ہاتھوں سے چھوڑ دیا تو ان کا شیرازہ بکھر گیا اور وہ افتراق و انتشار کے دو راہے پر آ کھڑے ہوئے۔

آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام مسلمان آپس میں شیر و شکر ہو جائیں، اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کی دعوت دیں، اور اس کے فضائل بیان کریں۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!