| عنوان: | الیکشن کی آمد اور قومِ مسلم کی تیاریاں |
|---|---|
| تحریر: | محمدثاقب نظامی |
یوپی الیکشن کا فیصلہ کن مرحلہ
اتر پردیش ان دنوں پھر سرخیوں میں ہے، مانو یوپی میں خطرے کی گھنٹی بج چکی ہو، قیامت سر پر آن کھڑی ہو۔ ہاں، آپ نے صحیح سمجھا، اب یوپی الیکشن کا صور پھونک دیا گیا ہے اور یوپی کی سیاست کا ایک بڑا معرکہ گرم ہے؛ ایک ایسا معرکہ جو آنے والے پانچ برسوں، بلکہ اس سے متعلق کئی مزید پانچ برسوں کے لیے فیصلہ کن ہوگا۔ ہاں، یوپی اور بالخصوص یوپی کے مسلم طبقات ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے سے گزرنے والے ہیں جس پر ان کے مستقبل کا بہت کچھ دار و مدار ہے۔ ہاں، ان کے لیے فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے۔
سیاسی زوال اور لائحۂ عمل کا فقدان
لیکن یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ رب تعالیٰ نے جس قوم کو منصبِ قیادت کا حامل بنایا تھا، وہ امت جسے ملک کے نازک لمحات میں قیادت کا فریضہ انجام دینا تھا، آج قیادت تو درکنار، خود اپنے لیے کسی مثبت تبدیلی سے مایوس اور خوف زدہ ہو کر مکمل سیاسی بن باس لے چکی ہے۔ انہیں نہ تو اس فیصلہ کن لمحے کی اہمیت کا احساس ہے اور نہ ہی ان میں اس کے لیے کوئی قابلِ ذکر تیاری کے آثار نظر آتے ہیں۔ اور وہ جنہیں رہنمائی سونپی گئی تھی، ان میں سے بیشتر خیر کی دشوار راہوں سے منحرف ہو چکے ہیں۔ خاموشی ہے، مکمل خاموشی۔ ان کے لیے یہی عافیت ہے، یہی جنت ہے۔
دوسری طرف مسلمانوں کا جمہور شدید خوف اور تذبذب کی کیفیت میں مبتلا ہے کہ قیامت (الیکشن) آنے کو ہے، جس کے لیے نہ کوئی تیاری ہے اور نہ کوئی اجتماعی لائحۂ عمل۔ وہ اس بات سے بھی خوب واقف ہیں کہ آنے والی مصیبت مستقبل کے کئی برسوں کے لیے ان کی قسمت پر فیصلہ ثبت کر دے گی۔ وہ کچھ کرنے، بلکہ کر گزرنے کے آرزومند ہیں، البتہ کسی لائحۂ عمل کے تعین کے سلسلے میں ان کا دامن یکسر خالی ہے۔ فکری اور عملی رہنمائی سے عاری لاکھوں مسلمانوں کے لیے آخر اس کے سوا چارہ ہی کیا رہ جاتا ہے کہ وہ ترحم بھری نظروں سے اغیار کی طرف دیکھیں، قاتلوں سے مسیحائی کی توقع وابستہ کریں، اور منافقانہ وعدوں میں سے ہی کسی ایک وعدے پر صدقِ دل سے ایمان لے آئیں۔
کاسۂ گدائی کی سیاست اور احساسِ کمتری
مسلم لیڈران کئی برسوں سے جس سیاسی لائحۂ عمل پر کاربند رہے ہیں، اسے بجا طور پر ہم زندگی کی بھیک مانگنے والی سیاست کہہ سکتے ہیں۔ اگر ان کا کوئی مطالبہ رہا ہے تو وہ صرف یہ کہ ہمیں زندگی جینے دیا جائے۔ لیکن عملی طور پر ہوا کیا؟ زندگی جینے کی ہر خواہش ہمیں موت سے زیادہ قریب لے آئی۔ دنیا میں جینے کے آرزومند ہم اب ایک ایسی زندگی جینے پر مجبور ہو گئے ہیں جہاں ہماری زندگی پر موت کا گمان ہوتا ہے۔
ذرا غور تو کیجیے، ہم کون ہیں؟ اور ہم کس سے زندگی کی بھیک طلب کر رہے ہیں؟ کاش! ہمیں اپنی حیثیت کا احساس ہوتا۔ کاش! ہم یہ جان پاتے کہ ہمارا رشتہ اس مشن سے جا ملتا ہے جس کی نصرت کے لیے آسمان و زمین کے رب کا وعدہ ہے۔ کاش! ہم یہ نہ بھولتے کہ ہم آخری نبی ﷺ کی امت ہیں اور رہتی دنیا تک انبیائی قیادت کی جانشینی ہمارا حصہ ہے۔
فکر و نظر کا یہ کتنا بڑا زوال ہے کہ دوسروں کو زندگی بخشنے والی امت کفار و مشرکین سے اپنی زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔ دنیا میں جینے کی شدید خواہش کبھی تو ہمیں کانگریس کے در پر لے گئی، اور جب اس در سے ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا تو ہم اپنا کاسۂ گدائی لیے امید کی کیفیت میں دوسرے دروازے کھٹکھٹاتے رہے۔ ہماری کئی سالہ سیاست گدائی کی شرمناک اور عبرت ناک سیاست ہے۔ شاید ہم یہ حقیقت بھلا بیٹھے ہیں کہ گدائی، بہرحال گدائی ہے، اور گداگر کو بہت سی منت سماجت کے بعد اگر کچھ مل بھی سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف ذلت۔ درحقیقت یہی ہمارے سیاسی لیڈروں کی کئی سالہ سیاسی کمائی کا نتیجہ ہے۔
اقتدار سے دوری کا خمیازہ اور بیداری کی دعوت
غور کرو! اگر ہم صاحبِ اقتدار ہوتے تو کیا ہوتا؟ بابری مسجد شہید نہ ہوتی، اذان پر پابندیاں عائد نہ کی جاتیں، بچیوں کے حجاب پر پابندیاں نہ لگتیں، ہمارے مذہبی و سماجی مسائل میں مداخلت نہ کی جاتی، اور طلاقِ ثلاثہ پر کوئی قانون نہ بنایا جاتا۔ اگر ہم صاحبِ اقتدار ہوتے تو آج معاملہ کچھ اور ہوتا۔
ذرا غور کیا جائے، ہمارے فکر و عمل میں کس قدر زوال آ گیا ہے۔ قیادت کے منصب پر فائز کی گئی امت رہنمائی کے لیے دوسروں کی طرف دیکھتی ہے۔ ہم حق کی طرف لوگوں کو بلانے اور پکارنے والے تھے، مگر آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم خود باطل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امتِ محمدیہ ﷺ کی اس سے بڑی تذلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ منصبِ قیادت سے منحرف ہو کر باطل قوتوں کا ضمیمہ بن جائے اور اسی میں اپنی عافیت سمجھے۔
