بڑے مولانا حضرت رحیم بخش مظفرپوری رحمۃ اللہ علیہ| محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

مولانا رحیم بخش مظفر پوری رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: مولانا رحیم بخش مظفر پوری رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ولادت و تعلیم

عارف باللہ بڑے مولانا علامہ مفتی محمد رحیم بخش رحمۃ اللہ علیہ موضع باتھ اصلی مظفرپور (سیتا مڑھی) بہار میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے خاندانی بزرگوں سے حاصل کی، اور اعلیٰ تعلیم کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے، اس وقت وہاں باضابطہ مدرسہ کا انتظام نہیں تھا، سرکارِ اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکان پر ہی خاندان کے افراد اور مخصوص حضرات کو تعلیم دیتے تھے۔ بڑے مولانا کو حضور حجۃ الاسلام برکتِ الانام علامہ حامد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہم درس و ہم سبق ہونے کا شرف حاصل ہے۔ پہلے سفر میں سات سال اور دوسرے سفر میں پانچ سال یعنی بارہ سال امامِ اہلِ سنت کی بارگاہِ عالی میں رہ کر جملہ علوم و فنون میں مہارت و تربیت حاصل کی اور یگانۂ روزگار ہو کر واپس ہوئے۔

خدمات

بعدِ فراغت سرکارِ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے حکم پر شمالی دیناج پور مغربی بنگال کے علاقہ ڈیمٹھی، اسلام پور میں خدمتِ دین و اشاعتِ سنیت اور رشد و ہدایت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ حضرت علامہ رحم الٰہی منگوری رحمۃ اللہ علیہ (م ۱۳۲۶ھ) کے وصال کے بعد دار العلوم منظرِ اسلام میں ان کی جگہ پر حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ (م ۱۳۶۲ھ) نے آپ کا تقرر فرمایا اور اس کے لیے حضور حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ بنفسِ نفیس باتھ اصلی تشریف لائے، ممدوحِ گرامی کا وہاں جانا طے ہو گیا، لیکن کچھ رشتہ داروں کی ریشہ دوانیوں کے سبب غیر معمولی تاخیر ہو گئی، اس لیے بریلی شریف نہ پہنچے، پھر دوبارہ بنگال تشریف لے گئے، کچھ دنوں مدرسہ نور الہدٰی بوکھرا (سیتا مڑھی) میں بھی تدریسی خدمت انجام دی۔

بیعت و خلافت

آپ سرکارِ اعلیٰ حضرت کے دستِ حق پرست پر بیعت کے شرف سے مشرف ہوئے اور آپ ہی سے خلافت کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت سے آپ کی خلافت و اجازت کا واقعہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت حضور مفسرِ اعظم ہند (م ۱۳۸۴ھ) رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں:

”۲۰ اپریل ۱۹۶۲ء کو ڈیمٹھی، اسلام پور (دیناج پور، مغربی بنگال) پہنچنا ہوا، ۲۵ کو یہاں سے روانگی ہوئی، یہاں بھی ایک دو جلسے ہونے ہیں، یہاں حاجی محمد حلیم صاحب سے معلوم ہوا کہ ان کا ارادہ تھا کہ مرید ہوں، مونگیر (مولوی محمد علی مونگیری) کی طرف خیال تھا، کوئی فقیر منش شخص مانع ہوئے، اور مولانا رحیم بخش صاحب باٹھوی فاضلِ بریلی مرحوم و مغفور کی طرف اشارہ کیا، ان سے ہو جاؤ، انہوں نے مولانا رحیم بخش صاحب مرحوم سے کہا، انہوں نے فرمایا مجھے اعلیٰ حضرت سے اجازت نہیں ہے، جب تک اجازت نہ لے لوں بیعت نہیں کر سکتا، چنانچہ بہ قصدِ اجازت بریلی کا سفر کیا، اور بھی کچھ صاحبان ہمراہ تھے، یہ فقیر بھی، اعلیٰ حضرت سے ملاقات ہوئی، ابھی کچھ کہنے بھی نہ پائے تھے کہ فرمایا: اجازت ہے فوراً واپس جاؤ، ہم راہیان پر اعلیٰ حضرت کی اس کرامت کا عجیب اثر ہوا، چنانچہ مولانا رحیم بخش مرحوم باٹھوی واپس ہوئے اور یہاں کے لوگوں کو مرید کیا، اس لیے اس نواح کے باشندگان کو حق و باطل کی خوب تمیز ہے۔“ [ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی، جون ۱۹۶۲ء، ص: ۱۱]

وصال

مرضِ طاعون میں آپ کا وصال ہوا، اس طرح شہادت کا مرتبہ پایا، باتھ اصلی کے جنوبی قبرستان میں آپ کا مزار مرجعِ خلائق و منبعِ برکات اور فیض بخشِ عام ہے۔

القابات و خطابات

(۱) بڑے مولانا۔

امامِ اہلِ سنت کے خلفا میں ایک نام ”مولانا رحیم بخش مظفرپوری رحمۃ اللہ علیہ“ کا بھی آتا ہے۔ آپ کو امامِ اہلِ سنت کی طرف سے کون سا خطاب عطا ہوا؟ اس تعلق سے مفتی اشرف رضا قادری مہاراشٹر کی تحریر کے علاوہ کوئی اور حوالہ نہیں۔

مفتی صاحب قبلہ لکھتے ہیں:
”امامِ اہلِ سنت نے آپ کو ”بڑے مولانا“ کا خطاب و لقب عطا فرمایا۔“

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!