| عنوان: | مرد کن صورتوں میں اپنی بیوی کو مار سکتا ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد شہید حسین عطاری |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج نیپال |
بیوی اللہ پاک کی بہت بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ دنیا میں سب سے پہلا رشتہ میاں اور بیوی کا ہے۔ انہی دو رشتوں سے باقی رشتے وجود میں آئے، جیسے دادا دادی، نانا نانی، چچا چاچی وغیرہ۔ بیوی ہی مرد کے لیے اس کے بدن کی راحت اور روحوں کو چین و سکون حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے، اور بیوی ہی ہے کہ جس کے ذریعے جائز طریقے سے اولاد کا حصول ہوتا ہے۔ بیوی دنیا کے خوبصورت چہرے کی آنکھ ہے۔ الغرض ہم اصل موضوع کی طرف چلتے ہیں: ہمارا موضوع ہے کہ مرد کن صورتوں میں اپنی بیوی کو مار سکتا ہے؟
شوہر اپنی عورت کو ان امور پر مار سکتا ہے:
عورت اگر باوجود قدرت بناؤ سنگھار نہ کرے یعنی جو زینت شرعاً جائز ہے، اس کے نہ کرنے پر مار سکتا ہے، اور اگر شوہر مردانہ لباس پہننے کو یا گودنا گودنے کو کہتا ہے اور نہیں کرتی تو مارنے کا حق نہیں۔ یوں ہی اگر عورت بیمار ہے یا احرام باندھے ہوئے ہے یا جس قسم کی زینت کو کہتا ہے وہ اس کے پاس نہیں ہے تو نہیں مار سکتا۔
غسلِ جنابت نہیں کرتی۔
بغیر اجازت گھر سے چلی گئی جس موقع پر اسے اجازت لینے کی حاجت تھی۔
اپنے پاس بلایا اور نہیں آئی، جبکہ حیض و نفاس سے پاک تھی اور فرض روزہ بھی رکھے ہوئے نہ تھی۔
چھوٹے ناسمجھ بچے کے مارنے پر۔
شوہر کو گالی دی، گدھا وغیرہ کہا۔
یا اپنے شوہر کے کپڑے پھاڑ دیے۔
غیر محرم کے سامنے چہرہ کھول دیا۔
اجنبی مرد سے کلام کیا۔
شوہر سے بات کی۔
یا جھگڑا کیا اس غرض سے کہ اجنبی شخص اس کی آواز سنے۔
یا شوہر کی کوئی چیز بغیر اجازت کسی کو دے دی اور وہ ایسی چیز ہو کہ عادةً بغیر اجازت عورتیں ایسی چیز نہ دیا کرتی ہوں، اور اگر ایسی چیز دی جس کے دینے پر عادت جاری ہے تو نہیں مار سکتا۔
یا عورت اگر نماز نہیں پڑھتی ہے تو اکثر فقہا کے نزدیک شوہر کو مارنے کا اختیار ہے۔
[بہارِ شریعت، ج: 2، حصہ: 9، ص: 413]
جنتی زیور میں حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو چار باتوں پر سزا دے سکتا ہے اور وہ چار باتیں یہ ہیں:
شوہر اپنی بیوی کو بناؤ سنگھار اور صفائی ستھرائی کا حکم دے لیکن پھر بھی وہ پھوہڑ اور میلی کچیلی بنی رہے۔
شوہر صحبت کرنے کی خواہش کرے اور بیوی بلا کسی عذرِ شرعی منع کرے (یعنی نہ وہ حالتِ حیض میں تھی، نہ روزے کی حالت میں، اور نہ احرام میں، اور نہ وہ بیمار ہو)۔
عورت حیض اور جنابت سے غسل نہ کرتی ہو۔
بلاوجہ نماز ترک کرتی ہو۔
[جنتی زیور، ص: 71]
مرد اپنی بیوی کو کتنا مار سکتا ہے؟
عورت کو اتنا نہیں مار سکتا کہ ہڈی ٹوٹ جائے یا کھال پھٹ جائے یا نیلا داغ پڑ جائے، اور اگر اتنا مارا اور عورت نے دعویٰ کر دیا اور گواہوں سے ثابت کر دیا تو شوہر پر اس مارنے کی تعزیر ہے۔ [بہارِ شریعت، ج: 2، ص: 414]
چہرے وغیرہ پر نہ مارے۔ حدیثِ شریف میں ہے:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ». [متفق عليه / بلوغ المرام، كتاب الجامع، الحديث: 1287]
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص لڑے تو چہرے سے بچے (یعنی چہرے پر نہ مارے۔)“
خلاصۂ کلام
ان تمام باتوں سے ہمیں معلوم ہوا کہ کن کن صورتوں میں مرد اپنی بیوی کو مار سکتا ہے اور کن کن صورتوں میں نہیں مار سکتا۔ اور مرد کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنی بیوی کو پیار، محبت اور نرمی سے سمجھائے، اگر وہ مان جائے تو خیر، ورنہ ڈرائے دھمکائے، اور اگر اس پر بھی وہ باز نہ آئے تو اس شرط کے ساتھ مارنے کی اجازت ہوگی کہ ایسی سخت مار نہ مارے جس سے ہڈی ٹوٹ پھوٹ جائے یا کھال پھٹ جائے یا نیلا داغ پڑ جائے یا خوب لال ہو کر نشان پڑ جائے یا زخم پڑ جائے، اور ایک ہی جگہ پر بار بار نہ مارے کہ عضو خراب نہ ہو جائے، منہ، کان، سر، چہرے وغیرہ پر نہ مارے، اور نہ شرمگاہ کی جگہ پر، اور نہ پستانوں وغیرہ پر۔ البتہ ہر وہ عضو جس پر شرعاً مارنے کی اجازت نہیں ہے، اسے نہیں مار سکتے ہیں۔
