فقیہ ملت علامہ عبد الغفور شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ|محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

فقیہ ملت علامہ عبد الغفور شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: فقیہ ملت علامہ عبد الغفور شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ولادت مبارکہ

فقیہِ ملت حضرت مولانا شاہ عبد الغفور قادری رضوی شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ مبارکہ ایک متدین اور سنی گھرانے میں شاہ پور (پنجاب) میں ہوئی۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت قاضی مولانا مولوی قاری حافظ محمد الحکیم قادری شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ متصلب سنی تھے اور معمولاتِ اہلِ سنت کے سخت پابند تھے۔ آپ کا گھرانہ علمِ دین اور بزرگانِ دین کا متوالا تھا۔

تعلیم و تربیت

حضرت فقیہِ ملت علامہ عبد الغفور قادری رضوی شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، حفظ و قراءت پڑھا اور والدِ گرامی نے اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند بھیج دیا، غالباً اس وقت تک پاکستان کے سنی حضرات کو دار العلوم دیوبند کے مفاسد کا نہ علم تھا۔ جب حضرت علامہ عبد الغفور قادری شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ دار العلوم دیوبند سے تحصیلِ علم کے بعد اپنے گھر شاہ پور تشریف لائے، تو ان کے والدِ ماجد حضرت مولانا قاضی عبد الحکیم شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ نے محسوس کیا کہ مولانا موصوف سلفِ صالحین کی راہ سے ہٹ گئے ہیں، چنانچہ وہ شہزادۂ محترم کو مرکزِ علم و ادب بریلی شریف لے گئے تاکہ وہ شکوک و شبہات رفع کر دیے جائیں جو دار العلوم دیوبند کی بد عقیدگی کے ماحول میں پیدا کر دیے گئے ہیں۔ آپ کے والدِ گرامی جناب مولانا قاضی عبد الحکیم شاہ پوری بذاتِ خود مولانا عبد الغفور قادری رحمۃ اللہ علیہ کو بریلی شریف لے کر حاضر ہوئے، سب سے پہلے شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خاں بریلوی (م ۱۳۶۲ھ / ۱۹۴۳ء) اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی قادری رضوی اعظمی (م ۱۳۶۷ھ) سے ملاقات ہوئی۔ جیسا کہ سندِ تکمیل سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ عبد الغفور قادری قدس سرہ نے ان حضرات سے بعض کتابیں پڑھی ہیں۔ ان دونوں نفوسِ قدسیہ سے ملاقات کے بعد جب امامِ احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ العزیز (م ۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء) کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے تو سارے شکوک و شبہات حرفِ غلط کی طرح مٹ گئے۔

حضرت علامہ عبد الغفور قادری رحمۃ اللہ علیہ نے بریلی شریف حاضر ہو کر بارگاہِ اعلیٰ حضرت سے علمی استفادہ بھی کیا ہے اور تکمیلِ علومِ اسلامیہ پر دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے آپ کو ۲۶ ذی قعدہ ۱۳۳۰ھ کو سندِ تکمیل سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں ایک سندِ حدیث آپ کو حضور مفتیِ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (م ۱۴۰۲ھ / ۱۹۸۱ء) کے استاذِ محترم استاذ الاساتذہ حضرت علامہ سید بشیر احمد علی گڑھی (م ۱۳۵۴ھ) تلمیذ حضرت علامہ مفتی لطف اللہ علی گڑھی (م ۱۳۴۳ھ) نے عنایت کی ہے۔

بیعت و خلافت

حضرت علامہ عبد الغفور قادری رضوی شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہوئے اور غلامانِ غوث الوریٰ میں اپنے آپ کو شامل کیا۔ آپ کی علمی قابلیت اور شریعتِ مطہرہ کے پاس و لحاظ کی بنا پر حضرت مجددِ اعظم امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں شرفِ خلافت سے مشرف فرمایا اور سندِ خلافت بھی عطا فرمائی۔ اس سند پر آخر میں حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے دستخط اور مہر ثبت ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی، حضرت حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خاں قادری بریلوی، حضور مفتیِ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف کی مہریں ہیں۔

وصالِ مبارک

جماعتِ اہلِ سنت کا یہ عظیم مبلغ اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کا بہترین داعی کا غالباً ۱۳۸۵ھ / ۱۹۶۶ء میں انتقال ہوا اور شاہ پور (پنجاب) میں مزارِ پر انوار مرجعِ خلائق ہے۔ [تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص: ۴۶۶ تا ۴۶۷]

القابات و خطابات

  1. عالمِ عامل

  2. برادرِ یقینی

  3. صالح سعید

  4. فاضلِ حمید

  5. حسنِ شمائل

  6. محمود الخصائل

آپ پہلے کچھ بد عقیدوں سے متاثر تھے اور ذہن میں شکوک و شبہات نے جگہ بنا لیا تھا لیکن جب بریلی شریف آمد ہوئی اور بارگاہِ امام سے فیض یاب ہوئے تو تمام شکوک و شبہات زائل ہو گئے۔ آپ کو بریلی شریف سے سندِ تکمیل بھی ملی اور سندِ خلافت بھی، جس میں آپ کے لیے درجِ ذیل القاب لکھے گئے تھے:

عالمِ عامل: علامہ عبد الغفور شاہ پوری قدس سرہ کی سندِ فراغت میں آپ کا اسمِ گرامی ان القاب کے ساتھ لکھا ہوا ہے:

"العالم العامل والفاضل المولوی عبد الغفور بن قاضی عبد الحکیم المتوطن پنجہ ضلع شاہ پور"۔ [تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص: ۴۶۷]

برادرِ یقینی، صالح سعید، فاضلِ حمید، حسنِ شمائل، محمود الخصائل: امامِ اہلِ سنت کی طرف سے ملنے والی سندِ خلافت میں حضرت علامہ عبد الغفور قادری شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ کو ان القاب کے ساتھ یاد کیا گیا ہے:

"برادرِ یقینی، صالح سعید، فاضلِ حمید، حسنِ شمائل، محمود الخصائل، راغب الی اللہ، الغفور الشکور قاری حافظ مولوی عبد الغفور بن مولوی حافظ قاری محمد عبد الحکیم شاہ پوری نور بالنور المعنوی والصوری"۔
[ایضاً، ص: ۴۶۷]
[امام احمد رضا اور القاب نوازی، ص: ۲۰۰ تا ۲۰۲]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!