آفتابِ علم و عشق: قائدِ اہلِ سنت حضرت علامہ دل محمد نقشبندی

آفتابِ علم و عشق: قائدِ اہلِ سنت حضرت علامہ دل محمد نقشبندی
عنوان: آفتابِ علم و عشق: قائدِ اہلِ سنت حضرت علامہ دل محمد نقشبندی
تحریر: محمد افضل ضیاء درہ

قائدِ اہلِ سنت، فاضلِ جلیل، عظیم روحانی و علمی شخصیت حضرت علامہ مولانا دل محمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کو آج تیرہ برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسی شخصیات وقت کے پردوں میں اوجھل تو ہو جاتی ہیں لیکن ان کے علم، فکر، کردار اور خدمات کی روشنی صدیوں تک دلوں اور اذہان کو منور کرتی رہتی ہے۔ حضرت علامہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی دینِ متین کی سربلندی، عقیدۂ اہلِ سنت کے تحفظ، اشاعتِ علم اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔ ان کا وجود اس خطے کے لیے ایک عظیم نعمت تھا اور ان کے وصال کے بعد پیدا ہونے والا خلا آج بھی شدت کے ساتھ محسوس کیا جاتا ہے۔

ولادت باسعادت اور ابتدائی تعلیم:

حضرت علامہ مولانا دل محمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت ۱۳ فروری ۱۹۴۲ء کو ضلع راجوری کے گاؤں فتحپور بڈین میں حضرت صوفی حسن محمد رحمۃ اللہ علیہ کے دولت کدہ پر ہوئی۔ آپ نے ایک دینی و روحانی ماحول میں آنکھ کھولی اور ابتدائی تعلیم راجوری کے ایک ممتاز روحانی خانوادے میں حاصل کی۔ آپ کے اولین استاد حضرت پیر سید جہاں شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سوکڑ شریف والے تھے، جو علم و روحانیت کا روشن مینار شمار کیے جاتے تھے۔ حضرت سید جہاں شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق بھی عظیم روحانی مرکز لار شریف سے تھا اور وہ حضرت سید نثار حسین شاہ صاحب قبلہ کے والدِ گرامی تھے۔ یوں حضرت علامہ دل محمد رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و روحانی تربیت ابتدا ہی سے اہلِ بیتِ اطہار اور ساداتِ کرام کے فیوض و برکات کے سائے میں ہوئی۔

روحانی نسبت اور بیعت:

آپ حضرت بابا جی صاحب کے خلیفۂ اوّل حضرت قبلہ سید نوران علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے۔ حضرت سید نوران علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ تقسیمِ ہند کے بعد گاؤں لاہ سے ہجرت فرما کر پاکستان کے علاقہ سوہاوہ، میرپور میں مقیم ہوئے، جہاں آج بھی آپ کی عظیم الشان خانقاہ مرجعِ خلائق بنی ہوئی ہے۔

حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد بھی سید تھے، ابتدائی استاد بھی سید تھے، پاکستان میں جن جلیل القدر اساتذۂ کرام نے آپ کو زیورِ علم سے آراستہ فرمایا وہ بھی ساداتِ کرام میں سے تھے، اور آپ کی نمازِ جنازہ پڑھانے کی سعادت بھی حضرت قبلہ سید نثار حسین شاہ صاحب مدظلہ العالی کو حاصل ہوئی۔ یہ دراصل اہلِ بیتِ اطہار علیہم الرضوان کے اُس روحانی فیض، نسبت اور محبت کا اثر تھا جو ابتدا سے انتہا تک حضرت علامہ مرحوم کی پوری زندگی پر سایہ فگن رہا اور جس نے آپ کی علمی، روحانی اور دینی شخصیت کو ایک منفرد وقار عطا فرمایا۔

اعلیٰ دینی تعلیم کا سفر:

ان کے فرزند قاری محمّد انوار صاحب اور برادرم محمد اخیار نے مجھے بتایا کہ حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کے حصول اور اس کی اشاعت میں صرف کر دی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ پاکستان میں حضرت سید رسول شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے اکتسابِ فیض کیا، پھر ان کے مشورے پر پنجاب پاکستان کے عظیم دینی ادارے دارالعلوم محمدیہ رضویہ نوریہ بکھی شریف میں داخل ہوئے۔ وہاں آپ نے دس برس تک نہایت محنت، استقامت اور شوق کے ساتھ دینی علوم حاصل کیے۔ آپ کے اساتذۂ کرام میں حافظ مولانا بشیر احمد صاحب سرگوروی اور مولانا سید جلال الدین صاحب شامل تھے، جو محدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد قادری گرداسپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ممتاز شاگرد اور خلیفہ تھے۔

حضرت علامہ مرحوم اکثر اپنے اساتذہ کا ذکر انتہائی محبت اور عقیدت سے فرمایا کرتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ میرے استاذِ گرامی کی غیرتِ ایمانی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے پوری زندگی کسی بد عقیدہ سے مصافحہ تک نہیں کیا۔ یہی استقامت، یہی عشقِ اہلِ سنت اور یہی نظریاتی پختگی بعد میں حضرت علامہ دل محمد رحمۃ اللہ علیہ کی پوری شخصیت میں نمایاں نظر آئی۔

دینی و ملی خدمات اور "قائدِ اہلِ سنت" کا لقب:

قاری محمّد انوار صاحب نے مزید کہا کہ اعلیٰ دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۹۵۸ء میں علامہ صاحب نے درس و تدریس اور تبلیغِ دین کا سلسلہ شروع فرمایا، جو آخری سانس تک جاری رہا۔ اسی سال آپ راجوری تشریف لائے اور اس پورے خطے کو علم و معرفت کی روشنی سے منور کر دیا۔ آپ نے مساجد و مدارس کے قیام، عقائدِ اہلِ سنت کے فروغ، دینی بیداری اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے شب و روز بے مثال جدوجہد کی۔ قریہ قریہ، بستی بستی، پہاڑوں اور دشوار گزار علاقوں میں بھوکے پیاسے سفر کرنا، صرف اس لیے کہ کسی مسلمان کے عقیدے اور ایمان کی حفاظت ہو سکے، حضرت کی زندگی کا مستقل عنوان تھا۔

راجوری، پونچھ اور جموں و کشمیر کے دور افتادہ علاقوں میں اہلِ سنت کی مضبوط دینی شناخت قائم کرنے میں حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ جامع مسجد عیدگاہ راجوری، مرکزی جامع مسجد شہر، متعدد مدارس اور کئی عظیم دینی ادارے آپ ہی کی شبانہ روز محنتوں کا ثمر ہیں۔ آپ علماء اہلِ سنت صوبہ جموں کے صدر مقرر ہوئے اور مفتی بورڈ کا قیام عمل میں لایا۔ آپ کی دینی و ملی خدمات کو دیکھتے ہوئے ملک کے بڑے بڑے علماء و مشائخ کی جانب سے آپ کو “قائدِ اہلِ سنت” کا لقب دیا گیا۔

حسنِ اخلاق اور یادگار ملاقات:

حضرت علامہ مرحوم کی شخصیت علم و وقار، سنجیدگی و متانت اور شفقت و محبت کا حسین امتزاج تھی۔ راقم الحروف (افضل ضیاء) کو ۱۹۹۵ء میں درہال کے علاقہ "کسیاں" میں پہلی بار ایک دینی تقریب کے دوران حضرت سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جو آج بھی حافظے کے دریچوں میں تازہ ہے۔

مجھ ناچیز سے نعتیہ کلام سنا پھر فرمایا: "تسیں کمال پڑھدے او، اللہ تعالیٰ اواز وچ برکت عطا فرماوے"۔ نمازِ ظہر کا وقت ہوا مجھے حکم دیا: "اگے چلو نماز پڑھاؤ"۔ انکار کی گنجائش نہیں رہی، بس اتنی عرض کی کہ حضرت آپ کے ہوتے ہوئے؟ فرمایا: "ساہڈے واسطے ہور ای گناہ کافی نے، نماز تسیں پڑھاؤ"۔

ان کے زہد و تقوے کا یہ عالم تھا۔ اس کے برعکس آج ہمارے لوگ مصلے کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

حضرت کی گفتگو میں ایسی مٹھاس، شیرینی، سنجیدگی اور وقار پایا جاتا تھا کہ انسان بے اختیار متاثر ہو جاتا۔ آپ جب گفتگو فرماتے تو محسوس ہوتا جیسے الفاظ نہیں، حکمت اور اخلاص کے موتی بکھر رہے ہوں۔ بعض اوقات انتہائی سنجیدہ انداز میں ایسا ظریفانہ مزاح فرماتے کہ پوری محفل کشتِ زعفران بن جاتی، مگر اس مزاح میں بھی وقار، شائستگی اور حکمت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹتا۔

جشنِ تکریم اور اعترافِ خدمات:

اخیار بھائی نے مجھے مزید بتایا کہ حضرت کی دینی خدمات کے اعتراف میں عیدگاہ راجوری میں آپ کی پچاس سالہ دینی و تبلیغی خدمات کی تکمیل پر عظیم الشان جشنِ تکریم بھی منعقد ہوا، جس میں ہزاروں فرزندانِ اہلِ سنت نے شرکت کی۔ اس موقع پر عظیم روحانی و دینی شخصیت حضرت قبلہ میاں بشیر احمد لاروی رحمۃ اللہ بنفسِ نفیس تشریف لائے اور حضرت علامہ صاحب کو خصوصی اعزاز سے نوازا۔

وصالِ مبارک اور عظیم جنازہ:

بالآخر ۸ جنوری ۲۰۱۳ء بمطابق ۲۵ صفر المظفر کو یہ آفتابِ علم و عمل تقریباً ۷۰ برس ۱۰ ماہ اور ۲۵ دن کی عمر گزار کر اپنے ربِ کریم سے جا ملا۔ آپ کے وصال کی خبر پورے خطے میں بجلی بن کر گری۔ نمازِ جنازہ میں تقریباً ساٹھ ہزار افراد کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ لوگ حضرت سے کس قدر محبت کرتے تھے۔ راجوری کی تاریخ میں شاید یہ سب سے بڑا جنازہ تھا۔

حضرت کے وصال کے روز ایک شخص نے حسد بھرے انداز میں مجھ سے کہا: “سنا ہے تمہارے مولوی دل محمد صاحب چل بسے؟”

میں نے جواب دیا: “جی ہاں! وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، مگر ان کے جانے سے ایک عظیم نقصان ہوا ہے۔”

وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “کسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

میں نے کہا: “فرق تو واقعی کسی ایک انسان کے جانے سے نہیں پڑتا، مگر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے بعد پیدا ہونے والا خلا پُر ہونے میں صدیاں بیت جاتی ہیں۔ حضرت علامہ دل محمد رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے۔”

عظیم دینی ورثہ:

حضرت علامہ مولانا دل محمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیچھے ایک عظیم دینی ورثہ، ہزاروں شاگرد، لاکھوں عقیدت مند اور ایک صالح و دیندار خاندان چھوڑ گئے۔ آپ کے فرزندان میں قاری محمد انوار نعیمی صاحب، مہتمم دارالعلوم قائدِ اہلِ سنت فتحپور بڈین، نمایاں ہیں، جہاں حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ کا مزارِ پُرانوار بھی واقع ہے۔ اس کے علاوہ محمد اسرار صاحب اور محمد اخیار صاحب بھی آپ کی یادگار ہیں، جو اپنے والدِ گرامی کے مشن اور نسبت کو زندہ رکھنے میں مصروفِ عمل ہیں۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قائدِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا دل محمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، ان کے مزارِ اقدس کو انوار و تجلیات کا گہوارہ بنائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہم آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!