دین آسان ہے، لیکن ہم نے مشکل بنا لیا

دین آسان ہے، لیکن ہم نے مشکل بنا لیا
عنوان: دین آسان ہے، لیکن ہم نے مشکل بنا لیا
تحریر: یاسر حمید مدنی

اسلام اللہ تعالیٰ کا وہ کامل دین ہے جو قیامت تک تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا۔ اس کی بنیاد آسانی، رحمت، اعتدال اور حکمت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے احکام عطا فرمائے جو ان کی طاقت کے مطابق ہیں، لیکن افسوس کہ آج ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی بے جا سختیوں، رسم و رواج اور ذاتی خیالات کی وجہ سے دین کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ

ترجمہ: "اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا۔" [سورۃ البقرۃ: ۱۸۵]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ

ترجمہ: "بے شک دین آسان ہے، اور جو شخص دین میں بے جا سختی اختیار کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔" [صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: ۳۹]

بعض لوگ دین سیکھنے والے نئے نوجوان کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر اس قدر ڈانٹتے ہیں کہ وہ مسجد ہی آنا چھوڑ دیتا ہے، حالانکہ اسے محبت سے سکھانا چاہیے۔

سوشل میڈیا کے دور میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ہر اختلافی مسئلے پر دوسروں کو گمراہ یا بدعتی قرار دینے میں جلدی کرتے ہیں، جبکہ اصلاح کا صحیح طریقہ حکمت، دلیل اور حسنِ اخلاق ہے، نہ کہ سخت لہجہ اور تحقیر۔

اسی طرح بعض خاندانوں میں شادی کو غیر ضروری رسم و رواج، بے جا اخراجات اور نمود و نمائش کی وجہ سے اس قدر مشکل بنا دیا جاتا ہے کہ نوجوان گناہوں کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں، حالانکہ اسلام نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا

ترجمہ: "لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔" [المعجم الکبیر للطبرانی، الحدیث: ۱۰۹۵۴]

دین میں آسانی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شریعت کے احکام کو بدل دیا جائے یا اپنی خواہشات کے مطابق دین کی نئی تعبیر کی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے آسانی دی ہے، وہاں ہم اپنی طرف سے غیر ضروری سختیاں پیدا نہ کریں، اور لوگوں کو دین سے دور کرنے کے بجائے اس کے قریب لائیں۔

یاد رکھیے کہ: اسلام رحمت، اعتدال اور آسانی کا دین ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں، مساجد، مدارس اور سوشل میڈیا پر بھی نبی کریم ﷺ کے اسی انداز کو زندہ کریں۔ لوگوں کی اصلاح محبت سے کریں، آسانی پیدا کریں، دین کو خوبصورت انداز میں پیش کریں اور اپنی سخت مزاجی کو دین کا نام نہ دیں۔ یہی صحیح طریقہ ہے اور یہی امت کی کامیابی کا راستہ ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!