نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیت اور اسلامی رہنمائی

نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیت اور اسلامی رہنمائی
عنوان: نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیت اور اسلامی رہنمائی
تحریر: سمير أحمد الفيضي الازہری
پیش کش: جامعۃ الأزہر الشریف، القاہرہ

یہ پیغام اس بہترین امت کے ان نوجوانوں کے نام ہے جو نہ معلوم کس کی نظرِ بد کا شکار ہوگئے ہیں یا یوں کہیں کہ جن پر شیطانی وسوسوں کا غلبہ ہوگیا ہے، جو اپنے وسوسوں کے ذریعے انھیں معاصی پر ابھارتا ہے اور یہ اس کے جال میں پھنستے چلے جارہے ہیں، اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔

وہ نوجوان جو کل تک امت کے قائد تھے آج قیادت کا لفظ سن کر گھبراتے ہیں۔ جو نوجوان امت کا مستقبل کہے جاتے ہیں؛ وہی امت کو زبوں حالی اور خستہ حالی کی طرف ڈھکیل رہے ہیں، وہ نوجوان جنھیں اللہ رب العزت نے اعلائے کلمۃ اللہ کی اہم ذمہ داری کا مکلف بنایا ہے، وہ اسے غیر اہم اور غیر ضروری سمجھنے لگے ہیں۔ وہ معرفتِ الٰہی جو انھیں نبیوں اور رسولوں سے وراثت میں ملی ہے تاکہ اس نورِ معرفت کے ذریعہ دوسروں کے لیے روشنی پیدا کریں، اسے چھوڑ کر نفس پرستی کی تاریکی میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ امت کے نوجوانوں کے سامنے قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کی ذمہ داری کو بیان کیا جائے اور بتایا جائے کہ قیادت کے لائق و مستحق سب سے زیادہ آپ ہیں۔ آپ ہی قوم کی صحیح رہبری کر سکتے ہیں، آپ کی قیادت سے امت کو ایک حوصلہ ملے گا، ایک نیا جوش اور نئی سوچ دنیا کو ملے گی۔

قرآن و حدیث کی روشنی اور نوجوانوں کا کردار:

اگر ہم قرآن میں غور و فکر کریں اور احادیثِ نبوی کا مطالعہ کریں، تاریخ کے صفحات کو پلٹیں، تو ماضی کے کارناموں کی ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی، جس میں نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، جیسا کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمْرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ [سنن الترمذی]

ترجمہ: صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جانِ ایمان ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے۔ اپنی عمر کن کاموں میں گزاری؟ جوانی کی توانائی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟

چونکہ دورِ شباب انسان کی زندگی کا اہم دور ہوتا ہے اور نوجوان ہی امتِ مسلمہ کا بیش قیمت سرمایہ ہوتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو بلند ہمت، باشعور، پرجوش اور پرعزم نوجوان ہی ہر زمانے میں اسلامی انقلاب کے سرکردگان رہے ہیں۔ وہ قومیں خوش نصیب ہوتی ہیں جن کے نوجوان فولادی ہمت اور بلند عزم و استقلال کے مالک ہوتے ہیں۔ کامیابی ہمیشہ ان قوموں کا مقدر ہوتی ہے، جن کے نوجوان مشکلات سے گھبرانے کے بجائے دلیری سے مقابلہ کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔ وہ قومیں ہمیشہ سرخرو رہتی ہیں، جن کے نوجوان طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

تاریخِ اسلام کے درخشاں نوجوان ستارے:

اسلام کے ابتدائی ادوار نے نوجوانوں پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں، کائنات کی تاریخ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نوجوان جماعت نے اپنے کردار و اخلاق سے قیامت تک آنے والی نسلوں کو متاثر کیا، جس کی مثال ملنا دشوار ہی نہیں ناممکن ہے:

  • حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ: جن کو اللہ کے نبی ﷺ نے شہادت کی خوشخبری دی، جو احد کی لڑائی میں آپ ﷺ کے لیے ڈھال بن کر کھڑے رہے اور کفار سے آپ کی حفاظت کی، اس وقت آپ کی عمر شریف تقریباً ۳۰ سال کے قریب تھی۔
  • حضرت عبد الرحمن الداخل: جو دمشق سے افریقہ و اندلس میں دولتِ اسلامیہ کو زندہ کرنے کے لیے اکیلے نکل پڑے، اس وقت ان کی عمر ۳۱ سال تھی۔
  • حضرت عبد الرحمن الناصر: جب بنو امیہ نے گھٹنے ٹیک دیے تھے تب تقریباً ۲۱ سال کی عمر میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اکیلے بے نظیر کارنامہ انجام دیا، جس سے یورپ کی قیادت بھی اسلامی رنگ میں رنگ گئی۔
  • حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ: جن کو آپ ﷺ نے رومیوں کے خلاف غزوہ کی ذمہ داری سونپی، جب کہ آپ نے صرف اپنی عمر کی ۱۸ بہاریں ہی دیکھی تھیں۔
  • سلطان محمد الفاتح: جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کیا اور آپ نے ابھی صرف ۲۲ سال کی عمر گزاری تھی۔
  • حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شوریٰ میں رکھا، آپ کی عمر بھی تقریباً ۲۰ سال تھی۔

دورِ شباب ہی میں مولائے کائنات حضرت علی شیرِ خدا، صحابیِ رسول حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عمار بن یاسر، حضرت خالد بن ولید، حضرت عمرو بن العاص، اور حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین نے نبی کریم ﷺ کا ساتھ دیا اور بے شمار غزوات میں اپنی قربانیوں کو پیش کیا۔ اور دورِ شباب میں سلطان صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے مسلم سالاروں نے اپنے کارناموں سے اسلامی تاریخ کو زندہ اور روشن و تابناک بنایا۔ تاریخ میں ایسے ایسے نوجوان پیدا ہوئے، جنہوں نے اپنی جوانی کے ایک ایک لمحہ کو قیمتی جانا۔

موجودہ حالات اور مسلم قیادت کا چیلنج:

موجودہ حالات میں نوجوانوں میں اعتماد بحالی کی اشد ضرورت ہے۔ آج کہیں قیادت عورتیں کر رہی ہیں تو کہیں بغیر قائد کے احتجاجات اور مظاہرات جاری ہیں۔ یہ ہمارے لیے باعثِ تشویش ہے کہ جس قوم کے پاس محمدِ عربی ﷺ جیسے نبی ہوں، خلفائے راشدین جیسے جانشین ہوں، جس امت کو رہبری کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہو، اس امت میں مؤثر اور ہمہ گیر قیادت کا فقدان ہے۔

ہوسکتا ہے موجودہ حالات سے کچھ نوجوان قیادتیں ابھر کر سامنے آجائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ان کے اندر قیادت کی اہلیت و صلاحیت ہے یا نہیں؟ اسلامی تعلیمات سے کتنا واقف ہیں، دشمنوں کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں؟

طریقۂ نجات اور نفسیاتی تربیت:

اور طریقۂ نجات یہ ہے کہ نفسیاتی تربیت قرآن کریم کے ذریعہ ہو۔ دل کو ایمانی غذا دی جائے، نیک لوگوں کی صحبت کو غنیمت سمجھ کر اختیار کیا جائے، وعظ و نصیحت کی مجلسوں میں بھی شرکت کی جائے؛ جیسا کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی:

يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ [سورۃ لقمان: ۱۷]

ترجمہ: اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم کرو اور برے کام سے منع کرو؛ اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرو، بلاشبہ یہ سب باتیں بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو ہر قوم کی اصل قوت اس کا اخلاق اور کردار ہے۔ بغیر اخلاق و کردار کے زندگی میں کوئی لطف نہیں، بسا اوقات اخلاق سے عاری انسان ظالم بن جاتا ہے؛ اسی کو پیغمبرِ اسلام ﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ

تو چلیں! ہم سب مل کر بیک زبان عہد کریں کہ ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں گے اور اپنے اندر سے نوجوان قیادت کو جنم دیں گے۔ ایسی قیادت؛ جس میں جوش بھی ہوگا اور ہوش بھی ہوگا، حکمت کے ساتھ مصلحت بھی ہوگی، بلند ہمتی بھی ہوگی اور حوصلہ بھی ہوگا۔ جینا بھی امت کے لیے ہوگا اور مرنا بھی امت کے لیے ہوگا۔

لہٰذا آج کا افضل ترین کام یہ ہے کہ اس فکری اضطراب اور نفسیاتی الجھنوں کا علاج کیا جائے جس میں آج کا تعلیم یافتہ جوان بری طرح گرفتار ہے۔ اسلام کی حقانیت پر نوجوانوں کا کھویا ہوا اعتماد واپس لایا جائے، پھر بعید نہیں کہ ہم بھی ماضی کے کارنامے دوبارہ انجام دینے پر قادر ہو جائیں اور تاریخ کے روشن صفحات میں ہمارا نام بھی درج ہوجائے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!