کاش میں مچھلی ہوتا، کاش میں پرندہ ہوتی!

کاش میں مچھلی ہوتا، کاش میں پرندہ ہوتی!
عنوان: کاش میں مچھلی ہوتا، کاش میں پرندہ ہوتی!
تحریر: سید احمد رضا صادق مدنی
پیش کش: مجمع التصانیف

جامعات المدینہ ہند کے ۲۰۲۶ء کے ششماہی (Mid-Term) امتحانات کا سلسلہ جاری ہے، ابھی میں امتحان گاہ میں حاضر ہوں اور طلبہ کرام کو دیکھتے دیکھتے ایک بات ذہن میں چل رہی ہے کہ ایک وقت تھا کہ جب ہم بھی انہی میں ہوتے تھے اور اساتذہ و ناظمین کو دیکھتے دیکھتے یہ بات ہمارے ذہن میں چل رہی ہوتی تھی کہ:

"واہ رے واہ! زندگی ہو تو ایسی ہو، کوئی ٹینشن نہیں،
بس ہمیں ہی دنیا بھر کی ٹینشن اور ان کو مل رہی ہے پینشن،
یہ پی رہے ہیں چائے پہ چائے اور زندگی ہماری ہائے رے ہائے،
عیش ہے ان کی زندگی واہ! اور کر دیا ہمارا سکون تباہ۔"

لیکن اب ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کاش ہم انہی میں سے ہوتے کہ:

"ہم کو تو لگی ہے فکرِ کیش اور ان کو تو بس عیش ہی عیش،
کھاؤ پیئو اور سوتے رہو اور ہم پیسہ کماؤ جیو پھر بھی روتے رہو،
ان کو تو کچھ نہیں فکرِ بال بس ہم ہی کو آتے ہیں عجیب و غریب خیال"

بالآخر سمجھ میں یہ آیا کہ ہر شخص کو اپنے علاوہ ہر دوسرا شخص سکون میں نظر آتا ہے، لیکن جب ہم اس مقام یا منزل پر پہنچ جاتے ہیں تب اس بات کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جیسے اولاد کو اس وقت تک والدین کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خود والدین نہ بن جائیں، اسی طرح شاگرد کو مسندِ استاد کا احساس اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خود اس فضیلت کو حاصل نہ کر لے۔

جیسے کہ ایک پرندہ نے مچھلی کو دیکھ کر کہا تھا کہ:
"I wish I could swim" (یعنی کاش! میں تیر سکتا)
پھر مچھلی نے پرندہ کو دیکھ کر کہا:
"I wish I could fly" (یعنی کاش! میں اڑ سکتی)

ایسا لگتا ہے کہ ہم نے زندگی کو مقابلہ (competition) بنا لیا ہے۔ سب خوش ہیں بس میں ہی پریشان ہوں۔۔۔

خیر موضوع بہت طویل ہے اور آپ کو بھی کہیں جانا ہوگا۔ اب کے لئے اتنا کافی ہے، بس جاتے جاتے اتنا ذہن میں رکھ لیجئے کہ "کروڑوں لوگ مجھ سے بہتر ہیں" نا نا نا... ایسا نہیں بلکہ اللہ پاک نے مجھے کروڑوں لوگوں سے بہتر بنایا ہے۔

صرف ایک بار یہ کہہ دیجئے: الحمد للہ!
اور ہاں، تھوڑا سا مسکرا لیجئے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!