| عنوان: | نیٹ ورک مارکیٹنگ اور آن لائن کاروبار کے نام پر مسلم خواتین کا بڑھتا ہوا فتنہ |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
نیٹ ورک مارکیٹنگ اور آن لائن کاروبار کا فتنہ
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے جہاں علم، تجارت اور دعوت کے بے شمار دروازے کھولے ہیں، وہیں انہی ذرائع سے کئی ایسے فتنے بھی پھیل رہے ہیں جن سے خصوصاً ہماری نوجوان نسل اور مسلم خواتین کو محتاط رہنے کی سخت ضرورت ہے۔ ان میں ایک خطرناک رجحان نیٹ ورک مارکیٹنگ، غیر واضح آن لائن بزنس، مشتبہ کمائی اور لوگوں کو اپنی ٹیم میں شامل کرنے کے نام پر ہونے والی تشہیر بھی ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ ہر آن لائن کاروبار یا ہر قسم کی ڈیجیٹل تجارت ناجائز نہیں۔ حلال اشیا کی جائز تجارت، واضح شرائط کے ساتھ درست کاروبار اور شرعی حدود میں رہ کر کمائی اپنی جگہ جائز ہو سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کاروبار کے نام پر لالچ، دھوکا، نامحرم سے غیر ضروری رابطہ، فحش گفتگو، ویڈیو کالز، ذاتی پیغامات، جھوٹی کامیابیوں کی نمائش اور لوگوں کو مسلسل اپنی ٹیم میں شامل کرنے کا جنون پیدا ہو جائے۔
پیسے کی خاطر حیا کو قربان کرنا خسارے کا سودا ہے
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ چند پیسوں، کمیشن اور ظاہری کامیابی کے لیے اپنی دینی و اخلاقی حدود کو پامال کرنے لگتے ہیں۔ پہلے اجنبی مردوں کو پرسنل میسج، پھر کاروباری گفتگو، پھر مسلسل رابطہ، پھر ویڈیو کال اور آخرکار ایسی مجلسیں جن میں شرعی حجاب، حیا اور اسلامی آداب کی کوئی پروا نہیں رہتی۔
یاد رکھیے!
جس کمائی کے لیے حیا بیچنی پڑے، وہ کمائی نہیں بلکہ آزمائش ہے۔ جس کاروبار کے لیے ایمان و اخلاق داؤ پر لگ جائیں، اس سے دور رہنا ہی عقل مندی ہے۔
ہر شخص کو اپنا شکار بنانے کی کوشش
بعض نیٹ ورک مارکیٹنگ کے نظام میں اصل توجہ مصنوعات یا حقیقی تجارت سے زیادہ نئے لوگوں کو شامل کرنے پر ہوتی ہے۔ ایک شخص دوسرے کو، دوسرا تیسرے کو اور تیسرا مزید لوگوں کو اپنی ٹیم میں شامل کرتا چلا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام، ٹیلیگرام اور دیگر ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ دینی گروپس، تعلیمی حلقے اور خواتین کے باہمی گروپس تک کو بعض اوقات کاروباری تشہیر کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔
پھر شروع ہوتا ہے:
پرسنل میسج، روزانہ اسٹوری، مشکوک آفرز، بڑی آمدنی کے خواب، کامیابی کی مصنوعی کہانیاں اور بار بار ٹیم میں شامل ہونے کی دعوت۔ یہ طرز عمل نہ علم کی خدمت ہے، نہ دعوت، نہ خیر خواہی؛ بلکہ اکثر صورتوں میں لوگوں کی سادگی اور لالچ سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
مسلم خواتین خصوصی طور پر محتاط رہیں
ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے مؤدبانہ مگر دوٹوک گزارش ہے:
• کسی اجنبی مرد سے غیر ضروری آن لائن رابطہ نہ رکھیں۔
• کسی ایسی ویڈیو کال یا میٹنگ میں شریک نہ ہوں جہاں شرعی حجاب اور اسلامی آداب کی پابندی نہ ہو۔
• کسی ایسی اسکیم میں داخل نہ ہوں جس کی حقیقت، آمدنی کا طریقہ، شرعی حیثیت اور قانونی حیثیت واضح نہ ہو۔
• صرف اس وجہ سے کسی کاروبار کو درست نہ سمجھیں کہ اس میں آپ کی کوئی جاننے والی، بہن یا سہیلی شامل ہے۔
لوگوں کی کثرت کسی کاروبار کے حلال ہونے کی دلیل نہیں۔
سوشل میڈیا کی چمک سے دھوکا نہ کھائیں
کسی کو مہنگی گاڑی میں دیکھ کر، کسی کو بڑے گھر میں دیکھ کر، کسی کو ہزاروں روپے کی آمدنی کا دعوی کرتے دیکھ کر فوراً متاثر نہ ہوں۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی ہر کامیابی حقیقت نہیں ہوتی۔
بعض اوقات چند افراد کی تصاویر اور ظاہری کامیابی کو استعمال کرکے سیکڑوں لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ بھی چند دنوں میں امیر ہو جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ حلال رزق محنت، دیانت اور صحیح طریقے سے حاصل ہوتا ہے؛ صرف خواب دکھانے اور لوگوں کو جوڑنے سے دولت نہیں آتی۔
سب سے خطرناک نقصان: ایمان اور حیا کا کمزور ہونا
مال کا نقصان دوبارہ پورا ہو سکتا ہے، لیکن اگر کسی انسان کی حیا، دینی غیرت، اخلاق اور ایمان کمزور ہو جائیں تو معاملہ بہت سنگین ہے۔ آج ایک غیر ضروری میسج معمولی محسوس ہوتا ہے، کل ایک اجنبی سے دوستی معمولی لگتی ہے، پھر ویڈیو کال معمول بن جاتی ہے، پھر نامحرم سے بے تکلف گفتگو اور رفتہ رفتہ وہ حدود ٹوٹنے لگتی ہیں جن کی حفاظت اسلام نے کی ہے۔
شیطان بھی انسان کو ایک دم گناہ کی انتہا تک نہیں لے جاتا؛ وہ قدم بہ قدم آگے بڑھاتا ہے۔ اس لیے ابتدا ہی میں دروازہ بند کرنا ضروری ہے۔
دین کے نام پر کاروبار نہ چمکائیں
یہ بھی انتہائی افسوس ناک ہے کہ بعض لوگ دینی لباس، مذہبی الفاظ اور اسلامی ماحول کو بھی اپنے کاروباری مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دینی گروپ میں شامل ہونا اس بات کا لائسنس نہیں کہ وہاں اپنے کاروبار کی تشہیر کی جائے۔ کسی عالم، مدرسے، دینی جماعت یا اسلامی بہنوں کے حلقے کو کاروباری شکار گاہ بنانا انتہائی نامناسب رویہ ہے۔ دین علم و اصلاح کے لیے ہے، لوگوں کو اپنی مارکیٹنگ ٹیم میں شامل کرنے کے لیے نہیں۔
والدین اور ذمہ دار افراد بھی اپنا فرض ادا کریں
والدین اپنی بیٹیوں کو صرف موبائل دینا کافی نہ سمجھیں بلکہ انہیں حیا، نامحرم سے معاملہ، سوشل میڈیا کے آداب، حلال و حرام کمائی اور آن لائن فراڈ کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔ خواتین بھی اپنی بہنوں کو ایسی سرگرمیوں سے بچائیں اور اگر کوئی شخص غیر ضروری طور پر پرسنل میسج کرکے کاروبار، مشتبہ اسکیم یا نامناسب تعلق کی دعوت دے تو خاموش نہ رہیں۔ اسکرین شاٹ محفوظ کریں، بلاک کریں اور متعلقہ ذمہ دار کو اطلاع دیں۔
کڑوی مگر ضروری بات
صرف چند ہزار روپے، کمیشن یا ظاہری کامیابی کے لیے اپنی حیا، پردہ، عزت، دینی اصول اور سکون کو خطرے میں ڈالنا انتہائی خسارے کا سودا ہے۔ دنیا کی دولت چند روزہ ہے، مگر انسان کے اعمال اس کے ساتھ جاتے ہیں۔
اپنے آپ سے سوال کیجیے:
کیا یہ کمائی واقعی حلال ہے؟
کیا اس میں دھوکا تو نہیں؟
کیا اس میں نامحرم سے ناجائز تعلقات تو نہیں؟
کیا اس میں لوگوں کو لالچ دے کر شامل تو نہیں کیا جا رہا؟
کیا اس کاروبار کے لیے مجھے اپنی شرعی حدود تو نہیں توڑنی پڑ رہیں؟
اگر جواب اطمینان بخش نہیں تو صرف پیسے کی خاطر آگے بڑھنا دانش مندی نہیں۔ حلال کم ہو تو بھی بہتر ہے، حرام یا مشتبہ زیادہ مال سے۔
اللہ رب العزت ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ فرمائے، انہیں حلال رزق عطا فرمائے، سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچائے، نامحرم سے ناجائز تعلقات سے محفوظ رکھے، ان کی حیا و عزت کی حفاظت فرمائے اور ہر ایسے کاروبار سے دور رکھے جو ان کے دین و ایمان کے لیے نقصان دہ ہو۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
نوٹ: تمام مسلم بھائیوں اور بالخصوص تمام خواتین سے گزارش ہے کہ اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ خواتینِ اسلام تک پہنچائیں، تاکہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں آن لائن مارکیٹنگ، نیٹ ورک مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا کے نام پر ہونے والے فتنوں، دھوکے اور غیر شرعی روابط سے باخبر رہیں اور اپنے ایمان، حیا اور عزت کی حفاظت کر سکیں۔ ایک بہن بھی اگر اس تحریر کے ذریعے کسی فتنے سے محفوظ ہوگئی تو ان شاء اللہ یہ ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن سکتا ہے۔
رشحاتِ قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
24 صفر المظفر 1448ھ / 8 اگست 2026ء
بانی و صدر، محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن، لہوریا شریف، ضلع سیتامڑھی، بہار
