| عنوان: | مذہب اور جدید چیلنج - ایک فکری و اصلاحی مطالعہ |
|---|---|
| تحریر: | تبسم رضا عطاری |
تعارف اور بنیادی سوالات
آج کا دور سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور معلومات کی غیر معمولی ترقی کا دور ہے۔ انسان نے کائنات کے رازوں کو سمجھنے کے لیے بے شمار راستے کھول لیے ہیں، زمین و آسمان کے فاصلے ناپ لیے ہیں اور قدرت کے کئی قوانین دریافت کر لیے ہیں۔ مگر اس تمام ترقی کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی انسان کے سامنے موجود ہے کہ انسان آخر ہے کون، وہ اس دنیا میں کیوں آیا ہے، اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے، اور موت کے بعد اس کا انجام کیا ہوگا؟ مولانا وحید الدین خان کی کتاب "مذہب اور جدید چیلنج" انہی بنیادی سوالات کو سامنے رکھ کر جدید انسان اور مذہب کے درمیان پیدا ہونے والی فکری کشمکش کا جائزہ لیتی ہے۔ کتاب کا مقصد جدید علم یا سائنس کو رد کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھانا ہے کہ سائنس کی اپنی ایک حدود اور مذہب کے اپنے بنیادی سوالات ہیں۔
جدید دور اور مذہب کا چیلنج
جدید دور میں جب سائنس نے قدرت کے بہت سے مظاہر کی وضاحت پیش کی تو بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب مذہب کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ان کے نزدیک جو چیز پہلے خدا یا مذہب سے منسوب کی جاتی تھی سائنس نے اس کی طبیعی وجہ بیان کر دی ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی واقعے کا "کیسے" معلوم ہو جانا اس کے "کیوں" کا جواب نہیں ہوتا۔ مثلاً سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ بارش کس طرح بنتی ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ کائنات میں ایسے قوانین اور ایسا منظم نظام موجود ہی کیوں ہے؟ اسی طرح طبیعی قوانین یہ بتاتے ہیں کہ چیزیں کس اصول کے تحت حرکت کرتی ہیں مگر قانونِ فطرت کے وجود کی آخری بنیاد کیا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ اسی لیے کتاب کا ایک بنیادی فکری اصول یہ ہے کہ فطرت خود ایک حقیقت ہے، مگر وہ اپنی آخری وضاحت نہیں۔
استدلال اور انسانی علم
کتاب کا ایک نہایت اہم پہلو انسانی علم کے طریقہ کار کو سمجھنا ہے۔ انسان صرف وہی چیزیں نہیں جانتا جو اس کی آنکھوں کے سامنے موجود ہوں، بلکہ وہ مشاہدات سے نتائج اخذ کرتا ہے، مختلف واقعات میں تعلق تلاش کرتا ہے اور پھر استدلال کے ذریعے ایسی حقیقت تک پہنچتا ہے جو براہِ راست اس کے سامنے نہیں ہوتی۔ یوں انسانی علم کا ایک اہم طریقہ یہ ہے: مشاہدہ، غور و فکر، استدلال اور نتیجہ۔ سائنس بھی اسی طریقہ کار سے بہت سے قوانین دریافت کرتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ جو چیز براہِ راست نظر نہیں آتی وہ موجود نہیں، انسانی علم کے مکمل طریقہ کار کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہی اصول خدا کے وجود کے سوال پر بھی غور کرنے کا راستہ کھولتا ہے، کیونکہ انسان کائنات کے نظم، اس کے قوانین اور اس کی باقاعدگی کو دیکھ کر اس کے پیچھے موجود آخری حقیقت کے بارے میں استدلال کر سکتا ہے۔
کائنات خدا کی گواہی دیتی ہے
کائنات محض بے ترتیب مادے کا مجموعہ نہیں بلکہ اس میں ایک حیرت انگیز نظم، قانون اور باقاعدگی پائی جاتی ہے۔ سورج، چاند، زمین، ستارے، زندگی اور قدرت کے قوانین ایک ایسے نظام کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس پر غور کرنا انسان کو خدا کے سوال تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ نہیں کہ سائنس کو چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ سائنس کی دریافتوں کو ان کے صحیح دائرے میں سمجھا جائے۔ سائنس ہمیں کائنات کے بہت سے طریقہ کار بتاتی ہے، لیکن کائنات کے آخری مقصد اور آخری بنیاد کا سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
دلیلِ آخرت
انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ وہ دنیا میں کتنے سال زندہ رہتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا؟ اگر موت ہی سب کچھ ختم کر دیتی ہے تو پھر انسانی اعمال، اخلاق، قربانی، ظلم، انصاف اور نا انصافی کی آخری معنویت کیا رہ جاتی ہے؟ لیکن اگر آخرت موجود ہے تو دنیا کی زندگی ایک امتحان اور ذمہ داری کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ آخرت کا تصور انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کے اعمال بے مقصد نہیں ہیں، اور اسے اپنی زندگی، اپنے کردار اور اپنے فیصلوں کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اسی تصور سے اخلاقی ذمہ داری اور زندگی کا مقصد مضبوط ہوتا ہے۔
الحاد اور اس کے سوالات
جدید دور میں الحاد بھی ایک بڑا فکری چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ خدا کے وجود سے انکار کرنے والا شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ کائنات اور زندگی کو خدا کے بغیر سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن خدا کے انکار کے بعد بھی بنیادی سوالات باقی رہتے ہیں: کائنات کیوں موجود ہے، زندگی کہاں سے آئی، قوانینِ فطرت کی آخری بنیاد کیا ہے، انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے، اخلاق کی بنیاد کیا ہے، اور موت کے بعد کیا ہوگا؟ چنانچہ خدا کو نہ ماننے سے سوالات ختم نہیں ہوتے، بلکہ صرف ان کے جوابات کا مسئلہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
قرآن - خدا کی آواز
کتاب کا اگلا اہم مرحلہ یہ سوال ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو انسان تک اس کی ہدایت کیسے پہنچے۔ یہیں قرآن سامنے آتا ہے، جو انسان کو صرف خدا کے وجود کے بارے میں نہیں بتاتا بلکہ اسے زندگی کی سمت، اخلاق، مقصد، ذمہ داری اور آخرت کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یوں کتاب کا فکری سفر صرف "خدا ہے یا نہیں؟" تک محدود نہیں رہتا بلکہ آگے بڑھ کر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر خدا ہے تو انسان کو کس طرح زندگی گزارنی چاہیے، اور قرآن اس سوال کا جواب ہدایت کی صورت میں پیش کرتا ہے۔
مذہب اور جدید دنیا
جدید دنیا نے انسان کو بے شمار سہولتیں دی ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا، معلومات کے دروازے کھولے اور انسان کو قدرت کے کئی رازوں تک پہنچایا ہے۔ لیکن مادی ترقی کے باوجود انسان مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوا، کیونکہ اس کے سامنے آج بھی مقصدِ زندگی، ذہنی سکون، اخلاقی ذمہ داری، اچھائی اور برائی، موت، آخرت اور خدا جیسے سوالات موجود ہیں۔ اس لیے مادی ترقی کو مکمل انسانی کامیابی سمجھ لینا درست نہیں ہے۔ انسان کو صرف سہولت نہیں، سمت بھی چاہیے؛ صرف معلومات نہیں، معنی بھی چاہیے؛ صرف دنیا نہیں، آخرت کا شعور بھی چاہیے۔
زندگی کی صحیح جہت اور اختتامیہ
کتاب کا ایک نہایت خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ مذہب کو صرف بحث و مناظرہ کا موضوع نہیں بناتی بلکہ اسے انسان کی عملی زندگی سے جوڑتی ہے۔ انسان کے پاس دولت، تعلیم، شہرت اور سہولتیں ہوں، لیکن اگر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ زندگی کا مقصد کیا ہے تو اس کی تمام کامیابیاں اندرونی خلا کو لازماً ختم نہیں کر سکتیں۔ مذہب انسان کو یہ احساس دیتا ہے کہ زندگی بے مقصد نہیں، انسان بے جواب دہ نہیں اور اس کے اعمال بے معنی نہیں ہیں۔ مذہب انسان کو خدا سے تعلق، اخلاقی زندگی، ذمہ داری اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
"مذہب اور جدید چیلنج" کا بنیادی پیغام یہ نہیں کہ انسان جدید دنیا سے منہ موڑ لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جدید دنیا کو سمجھتے ہوئے اپنے بنیادی روحانی اور اخلاقی سوالات کو بھی نہ بھولے۔ سائنس ہمیں کائنات کے بہت سے راز سمجھا سکتی ہے، مگر انسان کے دل میں موجود مقصدِ زندگی کی طلب کو صرف سائنسی معلومات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکنالوجی ہماری رفتار بڑھا سکتی ہے، مگر یہ لازماً نہیں بتاتی کہ ہمیں کس سمت جانا ہے۔ اسی لیے مذہب آج بھی انسان کے لیے اہم ہے؛ وہ اسے کائنات کے پیچھے موجود خالق کا شعور، زندگی کا مقصد، اخلاقی سمت اور آخرت کی جواب دہی کا احساس دیتا ہے۔ آخرکار انسان کے پاس علم کتنا ہی بڑھ جائے، ایک سوال ہمیشہ باقی رہتا ہے کہ "میں دنیا میں کیوں آیا ہوں، اور مجھے اپنی زندگی کس مقصد کے لیے گزارنی ہے؟" اگر انسان اس سوال کا جواب تلاش کر لے تو اس کی زندگی محض زندہ رہنے کا نام نہیں رہتی بلکہ ایک مقصد کے ساتھ جینے کا نام بن جاتی ہے۔
