عشقِ مصطفیٰ ﷺ: ناموسِ رسالت کے تحفظ کی اصل روح

عشقِ مصطفیٰ ﷺ: ناموسِ رسالت کے تحفظ کی اصل روح
عنوان: عشقِ مصطفیٰ ﷺ: ناموسِ رسالت کے تحفظ کی اصل روح
تحریر: محمدثاقب نظامی

تنظیموں کی کثرت اور خود احتسابی کا سوال

آج ہندوستان میں اسلامی تحریکوں اور تنظیموں کی کثرت کے باوجود ہم تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے معاملے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی کیوں حاصل نہیں کر پا رہے؟ یہ سوال خود احتسابی کا متقاضی ہے، کیونکہ مسئلہ تنظیموں یا انجمنوں کا نہیں، بلکہ ہمارے اپنے دلوں اور ارادوں کا ہے۔ جہاں دلوں میں تڑپ مفقود ہو، وہاں فتوحات خواب و خیال بن جاتی ہیں۔ وہ روحِ ایمانی اور وہ جوش و جذبہ، جس کی بنیاد پر نبی ﷺ کے عشاق دنیا کے سامنے سربلند ہوتے تھے، آج کی تحریکوں سے کوسوں دور ہے۔

مصلحت پسندی اور عشق کی چنگاری کا زوال

اگر ہم تاریخ کے آئینے میں جھانکیں تو دیکھیں گے کہ اہلِ ایمان نے کبھی مصلحت پسندی یا دنیاوی مفادات کے لیے اپنے ایمان کو قربان نہیں کیا تھا۔ ان کے دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی وہ آگ بھڑکتی تھی، جو انہیں حق کی راہ میں مر مٹنے کے لیے بے چین رکھتی تھی۔ آج کے دور میں، وہی آتش عشق اور شوق شہادت جو مسلمانوں کو ناقابل تسخیر بنا دیتا تھا، اب مادی خواہشات اور دنیاوی مفادات کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔

آج کے داعی مصلحتوں میں الجھے ہوئے ہیں، اور ان کے اندر وہ جرات و ہمت باقی نہیں رہی جو نبی کریم ﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو جاتی تھی۔ ان کے پاس بریف کیس ہیں، دستاویزات ہیں، اور منصوبے ہیں، مگر دلوں میں وہ تڑپ، وہ اضطراب نہیں، جو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔ وہ عشق کی وہ چنگاری، جس نے ابتدائی مسلمانوں کو دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں سے بے نیاز کیا تھا، آج ماند پڑ چکی ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جو ہمیں کامیابیوں سے دور اور ذلت و پستی کے دلدل میں جکڑے ہوئے ہے۔

ایمان کی حرارت اور مادی وسائل کی حدود

آج کے مسلمان کا ایمان مصلحتوں میں الجھ چکا ہے، اور اس کے اعمال دنیاوی مفادات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ایمان کی وہ حرارت، جو انسان کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے، اب دلوں میں موجود نہیں۔ ہمیں اپنے اندر کی اس کمی کا ادراک کرنا ہوگا، کیونکہ جب تک ہمارے دل عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی تڑپ سے سرشار نہیں ہوں گے، ہم ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

حقیقی کامیابی کا راز: جانثاری اور قربانی

تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے جان کی بازی لگانا وہ جذبہ تھا جو ابتدائی مسلمانوں کے دلوں میں موجزن تھا۔ وہ لوگ مادی دنیا کی فکروں سے بے پروا ہو کر عشقِ رسول ﷺ کی راہ میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتے تھے۔ آج، ہم میں وہ جرات اور قربانی کا جذبہ کہاں ہے؟ ہم نے اپنی تمام جدوجہد کو رسمی تحریکوں اور مادی وسائل میں محدود کر دیا ہے، جبکہ حقیقی کامیابی کا راز عشق و وفا اور قربانی کی اس انمول دولت میں پوشیدہ ہے۔

اخلاص کی واپسی اور عزت و وقار کی بحالی

اگر ہمیں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے کامیابی حاصل کرنی ہے، تو ہمیں اپنی تحریکوں اور تنظیموں سے پہلے اپنے دلوں کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں اپنی روحوں میں وہ عشق، وہ جذبہ، اور وہ جوش پیدا کرنا ہوگا، جس نے ابتدائی دور کے مسلمانوں کو ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ جب تک ہم ایمان کی حرارت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی آگ کو اپنے دلوں میں نہیں بھڑکائیں گے، تب تک ہماری تحریکیں محض رسمی اور ظاہری اقدامات تک محدود رہیں گی، اور ہم ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے معاملے میں کامیابی سے محروم رہیں گے۔

آج، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی صفوں کو درست کریں اور اپنی جدوجہد میں وہ سچائی اور اخلاص واپس لائیں، جو نبی کریم ﷺ کی محبت میں سرشار دلوں کا خاصہ تھی۔ تبھی ہم اس دنیا میں وہ عزت و وقار دوبارہ حاصل کر سکیں گے، جس کی بنیاد عشقِ رسول ﷺ ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!