غور و فکر اور فطری صلاحیتیں

جب تک آدمی غور و فکر نہیں کرتا، وہ اپنی فطری صلاحیتوں سے محروم رہتا ہے
عنوان: جب تک آدمی غور و فکر نہیں کرتا، وہ اپنی فطری صلاحیتوں سے محروم رہتا ہے
تحریر: محمد ثاقب نظامی

غور و فکر ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو اس کی اندرونی اور بیرونی دنیا کی حقیقتوں سے روشناس کراتا ہے۔ انسان کی شخصیت کے مختلف پہلو اور اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں اس وقت تک پردۂ اخفا میں رہتی ہیں جب تک وہ ان پر غور و فکر نہ کرے اور انہیں بروئے کار نہ لائے۔ ہر انسان کے اندر بے پناہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں، لیکن ان کو پہچاننے اور صحیح طور پر استعمال کرنے کے لیے عقل و فہم، مشاہدہ اور غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔

انسان کی تخلیقی اور فطری صلاحیتیں قدرت کی عطا ہوتی ہیں، لیکن ان صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور عملی زندگی میں استعمال کرنے کے لیے اس کا اپنا شعوری کردار نہایت اہم ہے۔ اگر انسان زندگی کی سطحی خواہشات اور معمولات میں کھو جائے اور اپنے دماغ کو سوالات اٹھانے اور جوابات تلاش کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دے، تو وہ اپنے اندر کے خزانے سے کبھی واقف نہیں ہو پائے گا۔

فلسفہِ خودی اور علامہ اقبال کا پیغام

علامہ اقبال کا فلسفہ خودی اسی بات پر زور دیتا ہے کہ انسان اپنی فطری صلاحیتوں کا ادراک کرے اور ان کا بھرپور استعمال کرے۔ خودی کی پہچان اور اس کا اظہار، غور و فکر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اقبال کے نزدیک غور و فکر، تجسس اور فکر کا عمل ہی انسان کو اس مقام پر پہنچا سکتا ہے جہاں وہ اپنی فطرت کے حقیقی رازوں کو سمجھ سکے اور اپنے لیے زندگی کا ایک بلند مقصد طے کر سکے۔

اقبال کی ایک مشہور نظم میں وہ کہتے ہیں:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے؟


یہ اشعار اس بات کا غماز ہیں کہ انسان جب اپنی ذات پر غور کرتا ہے، اپنے اندر چھپے ہوئے رازوں کو سمجھتا ہے، تو وہ خود اپنی تقدیر کا خالق بن جاتا ہے۔ یہ غور و فکر کا عمل ہی ہے جو انسان کو بلند مقام عطا کرتا ہے اور اس کے اندر کی پوشیدہ صلاحیتوں کو سامنے لاتا ہے۔

زندگی کا بامقصد سفر اور فکری انقلاب

زندگی میں غور و فکر کی اہمیت کو سمجھے بغیر انسان محض ایک خودکار مشین کی طرح زندگی گزارتا ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی کو بامعنی بنانا چاہتا ہے اور اپنے وجود کی اصل حقیقت کو جاننا چاہتا ہے، تو اسے فکر و تدبر کی راہوں پر چلنا ہوگا۔ ہر نئے سوال کا جواب اور ہر نئے مسئلے کا حل غور و فکر کی روشنی میں ہی ملتا ہے۔

گویا کہ غور و فکر ایک لازمی شرط ہے جو انسان کو اپنی فطری صلاحیتوں سے متعارف کراتی ہے اور اس کے وجود کو بامقصد بناتی ہے۔ انسانی تاریخ کے عظیم ترین مفکرین، دانشور اور مصلحین وہی لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کے معمولات پر سوالات اٹھائے، غور و فکر کیا، اور اس کے ذریعے اپنے معاشروں میں انقلاب برپا کیے۔

آخر میں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے، اپنے آپ کو پہچانے، اور غور و فکر کے عمل کو اپنائے۔ تبھی وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھا کر زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو انسان کو عروج کی منازل تک لے جاتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!