حضرت شیخ ابو الحسین سید محمد بن عبد الرحمن المرزوقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

حضرت شیخ ابو الحسین سید محمد بن عبد الرحمن المرزوقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: حضرت شیخ ابو الحسین سید محمد بن عبد الرحمن المرزوقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نام و نسب

آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد بن عبد الرحمن بن محبوب المرزوقی حنفی تھا اور کنیت ابو الحسین تھی۔

تاریخ و مقامِ ولادت

شیخ ابو الحسین کی ولادت 1287ھ میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم

آپ رحمۃ اللہ علیہ کم عمری میں قرآنِ کریم حفظ کر کے فقہِ اسلامی کے متنوں کو حفظ کرنے میں مشغول ہو گئے۔ مفتی مدینہ شیخ کمال کی خدمت میں رہ کر علمِ فقہ حاصل کیا اور اس میں عبور حاصل کیا۔ نحو، منطق، معانی، بیان، فقہ اور حدیث میں مہارتِ تامہ حاصل کی۔

بیعت و خلافت

شیخ ابو الحسین المرزوقی رحمۃ اللہ علیہ شیخ عبد الحق الٰہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، آپ کے شیخ نے آپ کو خلافت و اجازت سے نوازا۔ جب امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو شیخ ابو الحسین المرزوقی رحمۃ اللہ علیہ نے امامِ اہلِ سنت سے خلافت و اجازت طلب فرمائی اور امامِ اہلِ سنت نے آپ کو تمام سلاسل کی خلافت و اجازت عطا فرما دی۔

سیرت و خصائص

قدوۃ العلماء، زبدۃ الفقہا حضرت علامہ مفتی شیخ ابو الحسین المرزوقی رحمۃ اللہ علیہ زاہد، عابد، متقی، جواد و ولی، اور عالمِ شریعت و طریقت تھے۔ آپ “ابو حنیفہِ صغیر” کے لقب سے ملقب ہوئے۔ فضل و کمال کی وجہ سے مسجدِ حرام میں آپ کے لیے مسندِ تدریس رکھی جاتی تھی جس میں کبارِ علما حلقۂ درس میں شامل ہو جاتے۔ اسی طرح آپ کو حکومتی سطح پر ایک ہی وقت میں کئی بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا گیا، جنہیں آپ نے خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا اور ان عہدوں کے تمام حقوق کا تحفظ کر کے عوام الناس کو نفع پہنچایا، اور اپنی زندگی کے آخری وقت تک آپ انہی عہدوں پر فائز رہے۔

حکمِ شرع کی تنفیذ و تعمیل آپ کو بہت محبوب تھی، ہر وقت اسی میں کوشاں رہتے کہ لوگ شریعت کی پابندی و پاسداری کریں۔ جہاں کہیں خلافِ شرع کوئی کام دیکھتے فوراً اسے ردّ و کوب کرتے، جس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں خلافِ شرع کام کرنے کا تصور ہی نہیں آتا تھا۔ اپنے حکومتی عہدوں کو بھرپور طریقے سے نبھانے کے باوجود آپ کے دینی کاموں میں کوئی تزلزل نہیں آتا تھا، بلکہ جوش و جذبے کے ساتھ دین کی خدمت کرتے اور اسی کو اول ترجیحیت دیتے۔

تاریخِ وصال

شیخ ابو الحسین المرزوقی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 1365ھ میں مکہ مکرمہ میں ہوا۔ [ماخذ و مراجع: امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماے مکہ مکرمہ]

القابات و خطابات

  1. امین التقویٰ

  2. یمین التقویٰ

  3. الفاضل الجلیل

  4. السید الجمیل

  5. جامع الفضائل

  6. قامع الرذائل

  7. الفقیہ الوجیہ

  8. النبِیہ النبیہ

شیخ سید ابو الحسین مرزوقی رحمۃ اللہ علیہ مکہ شریف کی جلیل القدر علمی شخصیات میں سے تھے۔ آپ کی قدر و منزلت کا اندازہ اس سے بخوبی ہوتا ہے کہ آپ “ابو حنیفہِ صغیر” کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ امامِ اہلِ سنت بھی آپ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آپ بھی امامِ اہلِ سنت کی بڑی عزت کرتے تھے۔ امامِ اہلِ سنت نے آپ کو کئی خطابات سے نوازا تھا۔

“امین الفتویٰ، مکین التقویٰ”: الاجازات المتینہ میں امامِ اہلِ سنت آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھते ہیں:

مَوْلَانَا السَّيِّدِ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَرْزُوقِيِّ أَمِينِ التَّقْوَى وَيَمِينِ التَّقْوَى. [الاجازات المتینہ، ص: 29]

مذکورہ کتاب ہی میں دوسرے مقام پر آپ کو ایسے عظیم القاب سے یاد کیا ہے جس سے امامِ اہلِ سنت کی کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ علامہ مرزوقی کی عظمتِ شخصیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ امامِ اہلِ سنت لکھتے ہیں:

اَلْفَاضِلُ الْجَلِيلُ، اَلسَّيِّدُ الْجَمِيلُ، جَامِعُ الْفَضَائِلِ الْإِنْسِيَّةِ، قَامِعُ الرَّذَائِلِ الدَّنَسِيَّةِ، اَلْفَقِيهُ الْوَجِيهُ النَّبِيلُ النَّبِيهُ، مَوْلَانَا الشَّيْخُ السَّيِّدُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدٌ الْمَرْزُوقِيُّ - سَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - ابْنُ السَّيِّدِ الْعَالِمِ الْكَبِيرِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيِّ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -. [الاجازات المتینہ، ص: 33]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!