| عنوان: | علم و فن کا کوہ گراں امام احمد رضا |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
عظیم شخصیت اور عشقِ رسول ﷺ
اسلامی ہند و پاک میں تقریبا ایک صدی سے ایک نام گونج رہا ہے ،حدیث کے اسرار و حکم کی بحث ہو یا قرآنی علوم و معارف کی،جدید و قدیم تعلیم کا مسئلہ ہو یا اسلامی تشخص کی بقا کا،مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کی گفتگو ہو یا آزدی وطن کی تحریک کا تذکرہ ہر مجلس اور ہر محفل میں یہ نام انتہائی ادب و احترام اور پورے احساس عظمت کے ساتھ لیا جارہا ہے۔۔۔۔وہ نام حضور اعلیحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کا جن کو انتہائی عقیدت و ارادت سے صرف اعلیحضرت کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے،،
حضور اعلیحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ مختلف علوم و فنون کے ماہر اور کثیر التصنیف بزرگ ہونے کے علاوہ ایک سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے۔ عشق رسول آپ کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا اور اس سلسلے میں آپ کسی بھی قسم کی مداہنت کو برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔فقہ و فتاوی سے آپ کو کافی مناسبت تھی اور اس میدان میں آپ نے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے ۔آپ کے ہم عصروں اور بعد کے علماء نے بھی آپ کے علم کی گہرائی،وسعت مطالعہ اور مختلف علوم و فنون میں آپ کی مہارت کا اعتراف کیا ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال فرماتے ہیں ہندوستان کے دور آخر میں اعلیحضرت رحمہ اللہ علیہ جیسا طباع اور ذہین فقیہ پیدا نہیں ہوا میں نے ان کے فتوی کے مطالعہ سے یہ رائے قائم کی ہے اور ان کے فتوی ان کی ذہانت، فطانت جودت طبع ،کمال فقاہت ،علوم دینیہ میں تبحرعلمی کے شاہد عادل ہیں۔ مولانا ایک دفعہ جو رائے قائم کرلیتے ہیں اس پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں ۔انہیں اپنے شرعی فیصلوں اور فتاوی میں کبھی کسی تبدیلی یا رجوع کی ضرورت نہیں پڑتی ۔۔
ولادت سے تکمیل علوم تک
اعلیحضرت عظیم المرتبت حضور احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ ۱۰ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ / جون۱۸۵۶ء کو شمالی ہند کی ریاست اترپردیش کے بریلی شہر میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا اصل نام محمد ہے۔ البتہ آپ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی علیہ الرحمۃ نے آپ کا نام احمد رضا رکھا اور اسی نام سے آپ کو شہرت ملی۔۔۔
بسم اللہ خوانی ۔تقریبا تین سال کی عمر مبارک میں آپ کے جد امجد مولانا رضا علی خاں بریلوی علیہ رحمہ نے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کروائی بسم اللہ خوانی کے بعد آپ کی تعلیم کا سلسلہ جارہی ہوگیا آپ نے چار سال کی عمر شریف میں ناظرہ قرآن ختم کر لیا۔آپ نے از اول یا آخر تقریبا تمام تر تعیلم اپنے والد ماجد حضور تاج العلماء سند المحققین حضرت مولانا نقی علی خان علیہ الرحمہ سے حاصل کی والد ماجد سے روایتی تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ آپ نے جن علماء و مشائخ عظام سے کسب فیض کیا اور حدیث و فقہ کےعلوم میں رہنمائی حاصل کی ان میں چند نمایاں نام یہ ہیں۔ مولانا غلام قادر بایگ بریلوی، مولانا عبدالعلی رامپوری ، مولانا سید شاہ آل رسول برکاتی، مولانا شاہ عبد الحسین احمد نوری، شیخ سراج مکی، شیخ حسین بن صالح مکی،وغیرہم
آپ نے اپنے والد گرامی اور اساتذہ مکرم سے جن علوم پر کسب فیض کیا وہ یہ ہیں۔ علم قرآن،علم تفسیر ،علم حدیث، اصول حدیث، فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی اور مالکی حنبلی ،اصول فقہ جدل مہذب، علوم العقائد والکلام ،علم صرف و نحو، علم معانی،علم بیان ،علم بدیع،علم منطق،علم مناظرہ، علم فلسفہ،ابتدائی علم تکسیر، ابتدائی علم ہئیت ،علم حساب ۔علم ہندسہ،وغیرہ
علمی کارنامے
آپ تیرہ برس کی عمر مبارک میں ان تمام علوم فنون سے فارغ التحصیل ہوئے اور دستارے فضیلت سے نوازے گئے۔ اور اسی وقت سے فتوی نویسی ،تدریس، اور تصنیف کے کاموں میں مصروف ہوگئے۔ آپ نے کم و بیش پچاس مختلف علوم فنون پر ایک ہزار کتابیں لکھیں ہیں آپ کی ہر تصنیف آپ کے علم و عمل اور فضل و کمال کی آئینہ دار اور آپ کی شان عبقریب کو نمایاں کرنے والی ہیں،ذیل میں آپ کی چند نمایاں کتابوں کا مختصر جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔۔
عطايا النبويہ في الفتاوي الرضويہ: یوں تو آپ نے ہزاروں فتوے لکھے۔ لیکن سب کو نقل نہ کیا جاسکا، جو نقل کر لیے گئے تھے ان کا نام العطا یا النبویہ فی الفتاوی رضویہ رکھا گیا۔
نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان: اس کتاب میں آپ نے قرآنی آیات سے زمین کو ساکن ثابت کیا ہے۔اور سائنس دانوں کے اس نظریے کا کہ زمین گردش کرتی ہے رد فرمایا ہے۔
جد الممتار علی الردالمختار: علامہ ابن عابدین شامی کی ردالمختار شرح درمختار پر عربی حواشی ہیں۔
الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ: دوسری بار جب حج کے لیے مکہ میں تھے، اس وقت کچھ ہندوستانی حضرات نے مسئلہ علم غیب سے متعلق ایک استفتاء پیش کیا۔ قرآن و حدیث کے علاوہ اس کتاب میں منطق، فلسفہ اور ریاضیاتی دلائل پیش کیے گئے۔
کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم: (1906ء) کاغذی کرنسی، سے متعلق علمائے حرمین کے سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔
حسام الحرمین: مرزا غلام احمد قادیانی، رشید احمد گنگوہی، اشرف علی تھانوی، محمد قاسم نانوتوی، خلیل احمد انبہٹوی وغیر کی عبارات پر علمائے حرمین کا فتوی کفر۔
کنزالایمان: قرآن مجید کا ترجمہ۔
ان کتابوں کے علاوہ ہزاروں اور آپ کے علمی کارنامے ہیں جنکا ذکر یہاں مشکل ہے۔ آپ تعلیم سے فراغت کے بعد تصنیفی خدمات کے علاوہ تدریسی خدمات کو بھی انجام دیا البتہ آپ کسی مخصوص درسگاہ سے وابستہ نہیں ہوئے۔جو لوگ تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سےآتے انہیں اپنے گھر پر ہی پڑھاتے ،اس طرح ہزاروں کی تعداد میں طالبان علم نے آپ سے استفادہ کیا اور اپنے علاقوں میں جاکر علم کے چراغ روشن کئے۔۔
عظمت کا سب سے بڑا راز
تقریبا تمام سوانح نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضور اعلیحضرت کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ،آپ کا سب سے بڑا کمال اور آپ کی عظمت و محبت کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آپ نے اپنے بعد ایسی باکمال کتابیں چھوڑی جس کے بدولت ایک غریب سنی بچہ اسٹیج پر کھڑا ہوکر زمانہ موجودہ کے فرعون، نمرود، ابو جہل،اور ابو لہب جو اپنی جماعت میں مخدوم الکل ،شیخ الاسلام، حکیم الامت قاسم العلوم کہلاتے ہیں ان کی بیدینی کی دھجیاں اڑاتا ہے ان کے کفر و ارتداد کو بےنقاب کرتاہے۔ یہ اعلیحضرت ہی کا فیض ہے کہ ہمارا مناظر میدان مناظرہ میں باطل پرست سے لوہے کے چنے چنواتا ہے۔
حضرت شیر بیشہ اہلسنت علامہ لکھنوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔کہ مجھ کو بھی حضور اعلیحضرت کی مقدس کتاب تمھید یمان دیکھنے ہی سے اسلام و سنیت کی بے بہا دولت عطا ہوئی ورنہ میں بھی دیوبندیت کی تاریک کفری گھٹائوں میں پھنس کر اسلام و سنیت کے آفتاب کے حقیقی نور سے بہت دور جا پڑا تھا۔ یہ اعلیحضرت کی مقدس تصانیف ہی کا فیض ہے جس نے ہر عدالت میں علامہ لکھنوی علیہ الرحمہ کو سربلند رکھا اور دشمنان اسمام کی ساری کوششوں پر پانی پھرتا رہا ۔۔۔۔
شعر و شاعری
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ عظیم المرتبت مفسر،جلیل القدر محدث اور بلند پایہ فقیہ و بلیغ کے علاوہ فن اور ادب کے بھی سہ سوار تھے قدرت نے انہیں دوسری علمی و روحانی صفات کے ساتھ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی دولت بے بہا سے بھی نواز رکھا تھا ۔ یہی عشق رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم طبع موزوں کی بدولت صفت و ثنائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نغمات میں ڈھلتا رہا ۔ آپ تمام اصناف سخن پر یک گونہ مہارت رکھتے تھے ۔ نعت کہتے ہوئے علوم شریعت میں اپنی دسترس کی وجہ سے جوش عشق و عقیدت کے با وجود بھی کمال کی احتیاط برتی ۔ آپ نے قرآن حکیم کو نعت گوئی کا منبع نہ صرف قرار دیا بلکہ اپنی شاعری میں اس کا عملی اظہار بھی کیا ۔
شاعری میں آپ ک مداح رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) سیدنا حسان بن ثابت رضی ا لله تعالیٰ عنہ کی ذات گرامی مشعلِ راہ تھی۔ آپ اپنے دور کے شعرا میں مولانا کفایت علی کافی کی نعت گوئی سے متاثر تھے۔ اکابرکے ہاں جس قدر ادب و احتیاط کا غلبہ تھا ویسا ہی منظر وہ ہر دور کے نعت گو شعراء کے ہاں دیکھنا چاہتے تھے۔
نعت گوئی کے بارے آپ کا عقیدہ ان الفاظ سے عیاں ہوتا ہے: ”حقیقتاً نعت شریف کہنا بڑا مشکل کام ہے جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ہے اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں صاف راستہ ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔ غرض حمد میں اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب حد بندی“ ۔آپ کے حمد و نعت، مناقب و سلام اور رباعیات پر مشتمل خوبصورت اور دلکش دیوان ،حدائق بخشش، کے نام سے کئی کتاب گھروں سے شائع ہو کر داد وتحسین کی خراج وصول کر چکا ہے۔
زیارت حرمین شریفین
ذو الحجہ ۱۲۹۴ھ مطابق دسمبر ۱۸۷۷ء میں پہلی بار آپ نے زیارت حرمین شریفین اور طوافِ کعبہ فرمایا۔ اسی موقع پر امام شافعیہ حسین ابن صالح نے آپ کو دیکھکر فرمایا تھا ’’انی لاجد نوراﷲ من ھذا الجبین‘‘ اور آپ کو سلسلہ قادریہ کی سند اپنے دستخط خاص کے ساتھ عطا فرمائی ،نیز صحاح ستہ کی بھی سند مرحمت فرمائی۔ دوسری بار آپ نے ربیع الاوّل ۱۳۲۴ھ بمطابق اپریل ۱۹۰۶ء کو بارگاہِ رسالت میں حاضری دی۔ ایک ماہ تک مدینہ طیبہ میں قیام رہا۔ اسی دوران بڑے بڑے علماء آپ کی علمی کمالات اور دینی خدمات کو دیکھکر آپ کی نورانی ہاتھوں پر مرید ہوئے اور آپ کو استاد وپیشوا مانا۔ اس سفر مبارک میں جو تین اہم کارنامے منظر عام پر آئے وہ یہ ہیں ۔ (۱) بحالت بیداری آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت ہوئی۔ (۲) ۲۵؍ ذی الحجہ کو آپ رحمتہ اﷲ نے علماء نجد کی طرف سے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے علم غیب کے متعلق پانچ سوالات کے جواب میں شدت بخار کے باوجود بغیر کسی کتب کو دیکھے صرف آٹھ گھنٹوں میں عربی زبان کے اندر ایک کتاب موسوم بہ الدولہ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ لکھی، جس پر علماے عرب نے نہ صرف داد سے نوازابلکہ شریف مکہ نے وہ کتاب سطر بہ سطر لفظ بہ لفظ سماعت کی۔ (۳) اور آپ کو علماء عرب نے ’’مجدّد ماء ۃ حاضرۃ‘‘ کے لقب سے نوازا ۔
علمی جامعیت پر چند حضرات کے اقوال
آپ کی شخصیت کا سب سے بڑا حسن آپ کی جامعیت اور علمی جلالت شان ہے،آپ ایک وسیع المطالعہ عالم اور علم وکمال کے ایسے بحرذخار تھے جس کی حدوں کو ناپا نہیں جا سکتا ہر فن پر عبور،اسلامی علوم و فنون کے شعبوں پر گہری نظر آپ کے تبحرعلمی کا پتہ دیتی ہے، آپ کی علمی و عملی جامعیت کے ضمن میں چند حضرات کے اقوال نقل کئے جارہے ہیں۔۔
مولوی نظام الدین احمدپوری: علامہ شامی اور صاحب فتح القدیر مولانا کے شاگرد ہیں۔یہ تو امام ابو حنیفہ ثانی معلوم ہوتے ہیں۔۔
مولوی سید محمد شاہ بنوری: اگر اللہ تبارک و تعالٰی ہندوستان میں احمد رضا خان بریلوی کو نہ پیدا فرماتا تو ہندوستان میں حنفیت ختم ہوجاتی،،
ابو الاعلی مودودی: مولانا احمد رضا خان بریلوی صاحب کے علم و فضل کا میرے دل میں بڑا احترام ہے فی الواقع وہ علوم دینی پر بڑی وسیع نظر رکھتے ہیں۔اور ان کی اس فضیلت کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔۔۔۔
ملک غلام علی نائب ابو الاعلی مودودی صاحب: حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمدرضا خان بریلوی صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ ان کی بعض تصانیف اور فتاوے کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی ہے وہ بہت کم علماء میں پائی جاتی ہے اور عشق خدا اور رسول تو ان کی سطر بہ سطر سے پھوٹا پڑتا ہے۔ ۔۔
عاجزی و خاکساری
تقرب الی اللہ کا منصب دلوانے والی صفات میں عجز و انکساری، تواضع و تذلل کو نمایاں مقام حاصل ہے، منکسر المزاجی خدائے تعالیٰ کو بہت پسند ہے، امام احمد رضا قادری برکاتی قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز بلاشبہ بحر العلوم ہیں، ماہر الفنون ہیں، لیکن ان تمام حقائق کے باوجود تواضع کی شان اور عجز و تذلل کی جان آپ کے کردار و عمل، تحریر و تقریر اور تصنیف و تالیف سے نہ صرف جھلکتی ہے بلکہ اپنے وجود کا پورا احساس دلاتی ہے، آپ کے فتاوٰی، تصانیف، خطوط و مکاتیب دیکھے، فتاوٰی پر نظر دوڑائی، ہر جگہ، ہر مقام پر “فقیر احمد رضا قادری عُفِیَ تحریر ملے گا، آپ معذرت، معافی اور عفوِ تقصیر کے لیے ہمہ وقت دل کھلا رکھتے۔
مولانا مولوی احمد بخش صاحب قبلہ کو اپنے ایک مکتوب میں یوں تحریر کرتے ہیں:“تاخیرِ عریضہ ضروری ہوئی، اس کی معافی اور دعائے عفو و عافیت کا خواہاں ہوں، حاشا کہ مسائلِ سامیہ کو باعثِ تکلیف خیال کروں، ایسا خیال آنے سے جو تکلیف خاطرِ سامی کو اس کی بھی معافی چاہتا ہوں، یہ مشتِ استخواں ادھر کس مصرف کا کہ سوالِ مسائلِ دینیہ کو تکلیف جانے؟" اللہ والوں کی یہی شان ہوتی ہے، اپنے وقت کا مجددِ فقیہِ اسلام، محدثِ اعظم، اعلمِ علما اس انداز میں گفتگو فرما رہا ہے، کیا شانِ تواضع ہے!
حضرت سیدنا شاہ اسماعیل حسن میاں صاحب قدس سرہ بیان کرتے ہیں: والدین کی اتباع کا یہ حال تھا کہ جب آپ کے والد ماجد جناب مولانا نقی علی خاں صاحب کا انتقال ہوا۔ اپِنے حصئہ جائیداد کے خود مالک تھے۔ مگرسب اختیار والدہ ماجدہ کے سپرد تھا۔وہ پوری مالکہ اور و مترفہ تھیں۔ جس طرح چاہتیں صرف کرتیں۔ جب مولانا کو کتابوں کی خریداری کے لیے کسی غیر معمولی رقم کی ضرورت پڑتی تو والدہ ماجدہ صاحبہ کی خدمت میں درخواست کرتے اور اپنی ضرورت ظاہر کرتے جب وہ اجازت دیتیں اور درخواست منظور کرتیں تو کتابیں منگواتے۔
وفات
آپ رحمہ اللہ علیہ ۲۵ صفر ۱۳۴۰ھ / ۲۸اکتوبر ۱۹۶۱ء کو جمعہ کے دن اذان اول کے دوران دین اسلام کا یہ عظیم محدث و مبلغ اس دنیائے فانی میں اپنی زندگی کے۔۔۔۔۔سال گزار کر دائمی اور اخروی منزل کی طرف کوچ کر گیا اور اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
گلشن اسلام میں ایک اور گل کی کمی ہو گئی لیکن اس گل کی خوشبوئوں سے آج بھی عالم اسلام معطر ومعنبر ہے آپ اسلام کا بہت سرمایہ تھے۔آپ کی وفات کے وقت لوگوں کی حالت بہت عجیب تھی ہر آنکھ پرنم تھی اور ہردل غمزدہ آپ رحمہ اللہ علیہ کی روح ہزاروں لوگوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر عالم بلا کی طرف پرواز کرگئی یہاں دنیا میں لوگ آپ کی جدائی سے غمگین و پریشان تھے اور عالم بالا میں آپ کے استقبال کی تیاریاں ہورہی تھی ۔اور آپ کی آمد پر خوشی و مسرت کا سماں تھا۔
عرش پر دھومیں مچھیں وہ مومن صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھا وہ طیب و طاہر گیا
