ہائے یہ آزادی! ایک ہندوستانی مسلمان کے دل کی آواز

ہائے یہ آزادی! ایک ہندوستانی مسلمان کے دل کی آواز
عنوان: ہائے یہ آزادی! ایک ہندوستانی مسلمان کے دل کی آواز
تحریر: محمد ارمان قادری علیمی

تاریخِ آزادی اور مجاہدین کی قربانیاں

انگریزوں نے ہمارے پیارے ملک ہندوستان پر تقریباً دو صدیوں تک حکومت کی۔ یہ وہی ہندوستان تھا جسے کبھی ’’سونے کی چڑیا‘‘ کہا جاتا تھا، مگر انگریزوں نے یہاں کے وسائل کو لوٹا، باشندوں پر مختلف مظالم ڈھائے، ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، ہندو کو مسلمان سے اور مسلمان کو ہندو سے لڑایا اور اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔

پھر ایک آواز اٹھی کہ ہمیں اپنے ملک ہندوستان میں امن و شانتی، بھائی چارے اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔ یہ آواز ان مجاہدینِ آزادی اور پرستارانِ وطن کی تھی، جنہوں نے اپنے مال و جان، عزت و آبرو اور آرام و سکون کو داؤ پر لگا کر ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ اس عظیم جدوجہد میں مسلمان، ہندو، عیسائی، سکھ، جین اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بلاامتیازِ مذہب و مسلک اپنا کردار ادا کیا۔ بالآخر برطانوی حکومت کو ہندوستان سے رخصت ہونا پڑا اور ۱۹۴۷ء میں ہمارا پیارا ملک ہندوستان غلامی کے چنگل سے آزاد ہوا۔

۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے لال قلعے سے قوم سے خطاب کیا اور آزادی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس آزادی کا بنیادی تصور یہی تھا کہ ہندوستان کا ہر شہری اپنے مذہب، عقیدے اور تہذیب کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکے، کسی پر مذہب یا عقیدے کے معاملے میں جبر نہ ہو اور سب کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔

موجودہ حالات اور ایک بے چین کرنے والا سوال

آج ہندوستان کو آزاد ہوئے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے اور ہم اسی آزادی کا جشن منا رہے ہیں جو ہمارے بزرگوں نے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دے کر حاصل کی تھی۔ انہوں نے ہندوستان کو غیر ملکی اقتدار کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے بے شمار صعوبتیں برداشت کیں۔ آج ہم اسی آزادی کا جشن مناتے ہیں۔

لیکن اسی موقع پر ایک سوال دل کو بے چین کر دیتا ہے:
• کیا وہ آزادی، جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا، آج ہر ہندوستانی کو حقیقی معنوں میں حاصل ہے؟
• کیا آج ہم اسی آزادی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں جس میں ہر شہری کو اپنے مذہب، عقیدے اور شناخت کے ساتھ عزت و وقار سے جینے کا حق حاصل ہو؟

اگر ہم انصاف کی نظر سے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو بہت سے ہندوستانی مسلمانوں کے دل میں یہ احساس ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آزادی کے اتنے برس گزر جانے کے باوجود انہیں آج بھی مختلف سماجی، معاشی اور مذہبی مسائل کا سامنا ہے۔ کہیں مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات پیدا ہوتے ہیں، کہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات سامنے آتے ہیں، کہیں ہجومی تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں، کہیں مسلمانوں کو ’’پاکستانی‘‘ یا ’’بنگلہ دیشی‘‘ کہہ کر ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جاتا ہے، اور کہیں انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی محسوس کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بزرگوں کی قربانیاں اور مشترکہ ورثہ

یہ صورتِ حال ایک حساس سوال پیدا کرتی ہے:
کیا ہمارے بزرگوں نے جس آزادی کے لیے قربانیاں دیں، اس کا مقصد یہی تھا کہ آزادی کے بعد بھی کسی قوم کو خوف، عدمِ تحفظ اور امتیازی سلوک کا احساس رہے؟ کیا علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ رحمۃ الرضوان کی قربانی رائیگاں گئی؟ کیا مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کی قربانی بے معنی تھی؟ کیا آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے علماء، مجاہدین اور دیگر اہلِ وطن کی قربانیاں بھلا دی جائیں؟

نہیں! ہرگز نہیں۔ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ آزادی ایک مشترکہ قومی ورثہ ہے اور اس کی حفاظت بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض حلقوں کی جانب سے ایسا بیانیہ فروغ دیا جاتا ہے جس میں ہندوستان کو کسی ایک مذہب، قوم یا مخصوص ذہنیت کے لوگوں کا ملک ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِ فکر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کسی ایک طبقے یا قوم کی جاگیر نہیں، بلکہ یہاں بسنے والے تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے۔ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی آزادی کی جدوجہد میں مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔ کسی ایک قوم کی قربانیوں کو نظرانداز کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے، اور کسی دوسری قوم کی قربانیوں کو تسلیم نہ کرنا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

حقیقی آزادی کا تقاضا

ہمیں نفرت کا جواب نفرت سے نہیں، بلکہ تاریخ، دلیل، انصاف اور اتحاد سے دینا ہوگا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ آزادی کا اصل حسن اسی وقت باقی رہ سکتا ہے جب ہندوستان کا ہر شہری—خواہ وہ مسلمان ہو، ہندو ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو—اپنے وطن میں عزت، امن، مساوات اور آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

ہائے یہ آزادی!
آج جشنِ آزادی کے موقع پر یہی سوال ایک ہندوستانی مسلمان کے دل سے اٹھتا ہے:
کیا آزادی صرف غیر ملکی اقتدار سے نجات کا نام ہے، یا ہر شہری کو خوف، نفرت، تعصب اور ناانصافی سے آزاد زندگی گزارنے کا حق بھی آزادی کا حصہ ہے؟

اگر آزادی کا مطلب واقعی سب کے لیے مساوات، امن اور انصاف ہے، تو ہمیں مل کر ایسی ہندوستانی فضا قائم کرنی ہوگی جہاں کسی شہری کو اپنے مذہب، نام، لباس یا شناخت کی وجہ سے اپنے ہی وطن میں اجنبی ہونے کا احساس نہ ہو۔ یہی حقیقی آزادی کا تقاضا ہے، اور یہی ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا حقیقی احترام بھی۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!