پیر طریقت علامہ منظور احمد شاہ کا عشق مدینہ

پیر طریقت علامہ منظور احمد شاہ کا عشق مدینہ
عنوان: پیر طریقت علامہ منظور احمد شاہ کا عشق مدینہ
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی بنارسی

عشقِ مدینہ کا والہانہ انداز

شہرِ مدینہ سے محبت و عقیدت تو ہر عاشقِ رسول ﷺ کے دل میں ہوتی ہے، مگر بعض خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جن کی محبتِ مدینہ عام محبت سے بڑھ کر ایک والہانہ عشق کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ان کا اندازِ زیست، مدینہ کا تذکرہ، شوقِ زیارت اور فرقتِ مدینہ کی کیفیات دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں، اور ان کے واقعات سن کر دوسروں کے دلوں میں بھی محبتِ مدینہ کی شمع روشن ہو جاتی ہے۔

ایسی ہی باکمال شخصیات میں پیرِ طریقت، عالمِ شریعت، مصنفِ کتبِ کثیرہ، استاذ العلما حضرت سید منظور احمد شاہ رحمۃُ اللہِ علیہ کا نام نہایت نمایاں ہے، جن کی پوری زندگی عشقِ مدینہ اور محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو سے معطر نظر آتی ہے۔

اگرچہ حضرت سید منظور احمد شاہ رحمۃُ اللہِ علیہ کی پوری زندگی عشقِ مدینہ کی جلوہ سامانیوں سے معمور نظر آتی ہے، لیکن صرف آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف "مدینۃ الرسول" ہی کا مطالعہ کر لیا جائے تو آپ کے والہانہ عشقِ مدینہ کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس کتاب میں آپ نے مدینۂ منورہ کے فضائل و برکات، تاریخی یادگاروں، ایمان افروز واقعات اور اپنے مشاہدات کو جس محبت، وارفتگی اور دل نشیں انداز میں قلم بند کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

آپ کا اسلوبِ بیان ایسا سوز و گداز اور عشق و مستی سے لبریز ہے کہ قاری پڑھ کر جھوم اٹھے۔ اس کا مطالعہ کرنے سے دل میں مدینۂ منورہ کی محبت موجزن ہونے لگتی ہے اور شوقِ زیارت تڑپانے لگتا ہے۔ آئیے! اس عشقِ مدینہ کی چند جھلکیاں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پہلے کتاب کا مختصر تعارف دیکھیے!

کتاب کا مختصر تعارف

نامِ کتاب: مدینۃ الرسول
مصنف: پیر طریقت علامہ منظور احمد شاہ
موضوع: ذکرِ مدینہ (تاریخ)
کل صفحات: ۴۶۷
ناشر: مکتبہ نظامیہ

انتسابِ کتاب

انتسابِ کتاب سے ہی آپ کی محبتِ مدینہ ظاہر و باہر ہے، دیکھیے!

انتساب:
• ہر اس آنکھ کی طرف جو مدینۃ الرسول کی یاد میں بہتی ہے۔
• ہر اس جان کی طرف جو مدینۃ الرسول پر قربان ہے۔
• ہر اس دل کی طرف جو مدینۃ الرسول کی یاد میں تڑپتا ہے۔
• ہر اس روح کی طرف جو مدینۃ الرسول کی حاضری کے لیے مضطرب ہے۔
• ہر اس دماغ کی طرف جو مدینۃ الرسول کی سوچ میں مستغرق ہے۔
• ہر اس قدم کی طرف جو مدینۃ الرسول کی طرف اٹھتا ہے۔
• ہر اس سوچ کی طرف جس کا محور و مرکز مدینۃ الرسول ہے۔

انہی کے وسیلے سے اپنی اس کتاب کو دربارِ گوہر بار حضور سیدِ عالم ﷺ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔

نجات کا ذریعہ اور زندگی کا ماحصل

پیرِ طریقت حضرت علامہ منظور احمد شاہ رحمۃُ اللہ علیہ نے مختلف دینی، اصلاحی اور روحانی موضوعات پر متعدد کتب و رسائل تصنیف فرمائے، لیکن مدینۂ منورہ سے آپ کی والہانہ محبت کا یہ عالم تھا کہ اپنی تصنیف "مدینۃ الرسول"، جو فضائلِ مدینہ پر مشتمل ہے، کو اپنی نجات و مغفرت کا خاص ذریعہ تصور فرماتے تھے۔ چنانچہ اس کتاب کے مقدمے میں نہایت عاجزی اور محبتِ مدینہ سے سرشار ہو کر رقم طراز ہیں:

"مجھے اپنی کم مائیگی اور علمی بے بضاعتی کا پورا پورا احساس ہے، لیکن تحدیثِ نعمت کے طور پر یہ کہنا بھی کوئی مبالغہ نہیں کہ مدینہ منورہ کے درو دیوار، راہ و غبار سے جو قلبی تعلق جوادِ مطلق نے مجھے میسر فرمایا ہے وہ میری نجات کے لیے کافی سامان ہے۔ کون نہیں جانتا کہ سرکارِ دو جہاں کی بارگاہِ بے کس پناہ وہ بارگاہ ہے جہاں سیدنا جبرائیل علیہ السلام تو کیا انبیا علیہم السلام بھی نفس گم کردہ ہیں۔"

ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
بَنَفَس گم کردہ می آید مسیحا و کلیم ایں جا


اور بقول حضرت امام احمد رضا خان بریلوی یہ کہنا بھی سرمایۂ افتخار ہے کہ:

اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاج دار پھرتے ہیں


"یوں تو میں عرصہ تیس سال سے قلم و قرطاس سے وابستہ ہوں لیکن زیرِ نظر کتاب 'مدینۃ الرسول' پر قلم اٹھانے میں مجھے فخر ہے اور یہ میری زندگی کا ماحصل ہے۔ بارہا کی حاضری صرف عجز و نیاز، ہدیۂ سلام اور ذوقِ قلمی کی ہی نہ تھی بلکہ مطالعاتی بھی تھی۔ میں نے اس عرصہ میں دیارِ پاک کے کوچہ و بازار کی تاریخ تلاش کرنے میں جان جوکھوں میں ڈال کر جتنی کتابیں میسر آئیں سب کے متن پڑھے، حاشیے ٹٹولے، بین السطور میں جھانکا، شروع کو دیکھا اور زبانی اہل علم و فضل سے ملتا رہا۔ مسلسل پچیس سال سے کوے جاناں کی آب و ہوا، سگانِ محترم، معزز باسیوں، خدامِ محترم، اور ذی جاہ حاضرین سے ملنے کے بعد یہ صحیفۂ نجات مرتب کرنے میں کام یاب ہوا۔ میرے لیے تو یہ (کتاب) قلبی واردات، آنسوؤں کی زبان، محبت کا سوز اور عشق کی سرمستی ہے۔" (مدینۃالرسول، ص: ۲۷)

میری تحریر کو فروغ ملا

علامہ موصوف لکھتے ہیں:
"میری اس کتاب 'مدینۃ الرسول' سے نہ تو مدینہ منورہ کی کوئی عظمت میں اضافہ ہوا ہے، نہ ہی میری اس تحریر سے تاریخِ مدینہ کی حفاظت مطلوب، وہ تو محفوظ ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مقدس عنوان پر لکھنے سے میری تحریر کو فروغ ملا ہے۔ دل کو جلا اور سکون نصیب ہوا ہے۔ ۔۔۔۔ میری عقیدت کا یہ گلدستہ، اجڑے دلوں کے لیے بہار، ویران بستیوں کے لیے رونق، دکھی دلوں کے لیے مرہم ثابت ہو۔" (مدینۃالرسول، ص: ۲۹)

دل و دماغ مدینۃ الرسول میں

بیان کرتے ہیں کہ استاذِ محترم علامہ سید احمد کاظمی صاحب نے کتاب 'مدینۃ الرسول' لکھنے کا حکم دے کر مجھ پر احسانِ عظیم کیا ہے۔ دورانِ تالیف میں جہاں بھی رہا مگر میرا دل، میرا دماغ، عقل، ہوش و خرد سبھی مدینہ منورہ کی جگہ، بازاروں، مسجدوں، پہاڑوں، باغات، وادیوں، چشموں کی زیارت میں مصروف رہے۔ لکھتے لکھتے ایسا بھی ہوا ہے قلم رک گیا اور بارگاہِ رسالت میں صلاۃ و سلام کا ہدیہ پیش کرنا شروع کر دیا، کہ روح، دل و دماغ نے گنبدِ خضریٰ کو دیکھ لیا۔ کون ہے جو جلوۂ محبوب دیکھ کر بغیر صلاۃ و سلام گزر جائے۔ ایسی صورت پیش آنے پر اعلیٰ حضرت کا شعر یاد آیا:

جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

(مدینۃالرسول، ص: ۳۴)

تحریر: عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
پیشکش: مجمع التصانیف

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!