ہمیں انسان کی انسانیت کا درس لکھنا ہے سیرت النبی اور انقلاب

ہمیں انسان کی انسانیت کا درس لکھنا ہے
عنوان: ہمیں انسان کی انسانیت کا درس لکھنا ہے
تحریر: محمدثاقب نظامی

زمانۂ جاہلیت کی تاریکی اور ظلم و ستم

حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے۔ اخلاص، مروّت اور پاسداری چند خوبصورت الفاظ کی مانند تقریروں اور کتابوں تک محدود ہو گئی تھیں۔ ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ آسانی تھا۔ نہ کوئی کسی کا پُرسانِ حال تھا اور نہ کوئی کسی کی دعاؤں کا خواستگار۔ ایک عجیب پُرفتن ماحول دیکھنے کو ملتا تھا۔ پوری انسانیت ہلاکت کے دہانے پر کھڑی تھی۔ حکومت اپنی فرعونیت میں مست تھی، اہلِ ثروت عیش و عشرت میں مگن تھے، اور اہلِ قلم بجائے حق کی آواز بننے کے حکومت کی تملق میں مصروف تھے۔

ظلم و ستم کے آتش فشاں پہاڑوں سے مجبور و مظلوم انسانوں پر وحشت و بربریت کی شعلہ فشانی کا ایک لا متناہی سلسلہ قائم تھا۔ چاند کی پُررونق چاندنی میں عریانیت سے بھرپور حسیناؤں اور خوبصورت دوشیزاؤں کی ہوش رُبا انگڑائیوں سے پوری مجلس بدمست رہا کرتی تھی۔ شیر خوار بچیوں اور معصوم دوشیزاؤں کو صرف لڑکی ہونے کی پاداش میں سینکڑوں من مٹی کے نیچے دبا دینا، جہالت کی تاریکی میں ڈوبے انسانوں کا شب و روز کا مشغلہ بن چکا تھا۔ زنا کو ایک سامانِ تفریح سمجھا جاتا تھا۔

چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ
ہر اک لوٹ مار میں تھا یگانہ
نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل کے بے باک جیسے

رحمتِ الٰہی کا ظہور اور انسانیت کی مسیحائی

آخر کب تک ظلم و ستم کا سلسلہ برقرار رہتا؟ ستم کی دبیز چادر کب تک بوسیدہ نہ ہوتی؟ کب تک انسانوں کو تعفن زدہ ماحول میں زندہ رہنا پڑتا؟ آخر کب تک حیوانی خواہشات کی تکمیل ہوتی رہتی؟ کب تک معصوم بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا رہتا؟ آخر کب تک رحمتِ الٰہی جوش میں نہ آتی؟

آخرکار رحمتِ الٰہی جوش میں آ گئی، اور ربِ قدیر نے ایک ایسے مسیحا کو بھیجا جس نے یہ اعلان کیا کہ ہمیں انسان کی انسانیت کا درس لکھنا ہے۔ چنانچہ فاران کی چوٹی سے آوازِ حق بلند ہوئی، ظلم و ستم کی زنجیروں کو پاش پاش کیے جانے کا مژدہ سنایا گیا۔ آمنہؓ کی کوکھ نے جس گوہرِ مکنون کو جنم دیا، وہ دنیائے انسانیت کا دُرِ یتیم بن گیا۔ اس دُرِ یتیم نے سسکتی انسانیت کی مسیحائی کی اور دم توڑتی انسانیت کے لیے ایک ایسا درس رقم کیا جس کی نظیر آج تک کوئی پیش نہیں کر سکا۔

مساواتِ انسانی اور تکریمِ نسواں کا اعلان

چنانچہ پیغمبرِ انقلاب ﷺ نے رنگ و نسل کی تعصبیت کو مٹایا اور یہ اعلان فرمایا:
«لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَبْيَضَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَبْيَضَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى، النَّاسُ مِنْ آدَمَ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ.»
"لوگو! بے شک کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر، اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل ہے، سوائے تقویٰ کے۔ تمام انسان آدمؑ کی اولاد ہیں، اور آدمؑ مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں۔"

آپ ﷺ نے ظلم و ستم کی چٹان تلے سسکتی عورتوں کو عزت و شرف سے نوازا، بچیوں کو رحمت قرار دیا، ماؤں کے قدموں تلے جنت ہونے کی بشارت سنائی، اور لوگوں کو یہ پیغام دیا:
«الدنيا متاع، وخير متاعها المرأة الصالحة.»

معاشرتی انقلاب اور سیرتِ طیبہ

الغرض، سرورِ کونین ﷺ کی کرشمہ سازی کی بنا پر ایک ایسا انقلاب برپا ہوا کہ لوگوں کے دلوں میں عداوت و نفرت کی جگہ اخوت و محبت اور ایثار و الفت نے لے لی۔ تہذیب و تمدن کی سمت بدل گئی، لوگوں کے افکار بدلے، خیالات کے گوشے بدلے، زاویۂ نگاہ بدلا اور فکر کی سمت بدل گئی۔ خیر و شر کے معیار بدلے، معیشت و رہن سہن کے اطوار بدل گئے۔ حکومت کے دستور اور جنگ و جدال کے طریقے ہی نہیں بلکہ پورا انسان اور پوری سوسائٹی بدل گئی، اور خوفِ خدا، امانت و دیانت کی روح پورے نظام میں جاری و ساری ہو گئی۔

اللہ رب العزت نے رہتی دنیا تک کے لیے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو نمونہ بنا دیا۔ آپ ﷺ کی پوری زندگی، یعنی آپ کی حیاتِ مقدسہ کا ہر گوشہ، ہر صفحہ اور ہر باب انسانیت کی آنکھوں کا سرمہ اور عالم کی رفعتوں کا خوبصورت اور حسین عنوان ہے۔ کیا نہیں ہے آپ ﷺ کی تعلیمات میں؟ مَہد سے لے کر لحد تک اسلام اپنے ماننے والے کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ کسی شاہراہ، کسی دوراہے یا کسی راستے پر اسے تنہا اور اکیلا نہیں چھوڑتا، بلکہ ہر لمحہ نگرانی اور ہر ساعت تربیت کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ رسولِ کائنات ﷺ نے انسانوں کی سربلندی اور سرفرازی کے جو نسخے تجویز فرمائے ہیں، اگر وہ ہماری زندگی کا حصہ بن جائیں تو ناکامیوں، نامرادیوں، محرومیوں اور جنگوں کا ہر دروازہ بند ہو سکتا ہے۔

موجودہ دور کا بحران اور ہماری ذمہ داری

دورِ حاضر میں سسکتی انسانیت کے بحران کی ایک اہم وجہ پیغمبرِ انقلاب ﷺ کی تعلیمات سے دوری ہے۔ آج پوری انسانیت پھر سے ہلاکت کے دہانے پر کھڑی ہے، مگر اب کوئی نبی نہیں آنے والا۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہی ہمیں ہلاکت سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔

اب وقت نہیں رہا کہ ہم حجروں میں آرام کریں، خلوتوں میں وقت گزاریں اور اپنی کوششوں کو صرف اپنی ہی نجات تک محدود رکھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میدان میں نکلیں، مسلمانوں کی سپہ داری اور سپہ سالاری کا فرض انجام دیں، اور اپنے صحیح علم و صحیح عمل سے ان کی رہبری کریں۔ یہ رہبری صرف چند فقہی مسائل تک محدود نہ رہے بلکہ علم و عمل کی روشنی میں ہماری ذات ان کے لیے ایک چراغ ثابت ہو۔ اور ہم یہ عزم کریں کہ ہمیں انسان کی انسانیت کا درس لکھنا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!