| عنوان: | حجت الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | حناء کوثر |
| منجانب: | مدرسۃ الفاطمہ قادریہ للبنات گلبرگہ شریف |
ولادت با سعادت
حضرت حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ اسلامی مہینہ کی فصلِ بہار ربیع الاول ۱۲۹۲ھ / ۱۸۸۰ء میں اپنے دادا خاتم المحققین علامہ نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ (م ۱۲۹۷ھ / ۱۸۸۰ء) کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے۔
نام و لقب
امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بڑے صاحب زادے کا نام ارشادِ حدیث کے مطابق رکھا۔ اور بحسابِ حروفِ ابجد “اسمِ محمد” کے اعداد سے آپ کا سالِ ولادت “۱۲۹۲” ظاہر ہوا۔ پکارنے کے لیے “حامد رضا خاں” تجویز ہوا اور عوام نے “بڑے مولانا” کہہ کر خراجِ عقیدت پیش کیا اور خواص نے “حجۃ الاسلام” کا لقب دے کر آپ کے علم و فضل کا اقرار کیا۔
تعلیم و تربیت
حسبِ معمول جب چار سال چار ماہ کی عمر ہوئی تو تعلیم کا آغاز کیا پھر بڑھتے ہی گئے اور از ابتدا تا انتہا مکمل تعلیم اپنے والدِ ماجد اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی اور نہ صرف حاصل کی بلکہ “اپنے معاصرین میں یہ امتیاز پایا کہ صرف ۱۹ سال کی عمر میں ۱۳۱۱ھ / ۱۸۹۴ء میں فارغ التحصیل ہو گئے”۔ [تذکرہ جمیل از مولانا ابراہیم خوشتر قادری رضوی، ص: ۱۱۰]
مسندِ افتا
فراغت کے ایک سال بعد مسندِ افتا پر جلوہ افروز ہوئے اور پھر دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ کارِ افتا کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ اس طرح مکمل پچاس سال تک مسندِ افتا کو رونق بخشی۔ اس کا انداز بھی کیسا نرالا کہ “فراغت کے بعد ہی ۱۳۱۲ھ / ۱۸۹۵ء سے اپنے عمِ محترم حضرت حسن بریلوی کے وصال ۱۳۲۶ھ / ۱۹۰۸ء تک اپنے والدِ نام دار امام احمد رضا کی خدمت و صحبت میں تربیت کے مراحل سے گزرتے رہے”۔ [مصدرِ سابق، ص: ۱۱۱]
اپنے والدِ ماجد کی خدمت و صحبت میں صرف حصولِ تربیت ہی نہ کرتے بلکہ اپنے والدِ ماجد کا تعاون بھی کرتے جس میں “امام احمد رضا کے لیے اندر سے کتابیں نکال کر لانا سندوں کی عبارتیں تلاش کرنا بھی تھا۔ آپ کی یہ خدمت ۱۳۶۲ھ تک جاری رہی یہاں تک کہ حضرت مولانا حسن رضا خان حسن بریلوی کے وصال کے بعد منظرِ اسلام کا اہتمام آپ نے سنبھال لیا”۔ [ایضاً، ص: ۱۸۱]
درس و تدریس
افتا کی مصروفیت کے ساتھ ساتھ “منظرِ اسلام” بریلی شریف میں تدریس کا فریضہ بھی انجام دیا کرتے اور تدریس و تفہیمِ کتب کا عالم یہ ہوتا کہ “منظرِ اسلام میں نہ صرف حدیث بلکہ معقول و منقول کے اعلیٰ درجات کی کتابیں بھی آپ نے ایسی پڑھائیں کہ شاید و باید... ہر درجہ میں پڑھنے والوں کا ہجوم رہا”۔ [ایضاً، ص: ۱۸۰]
کارِ افتا کا ہجوم اور تدریس کا فریضہ اس پر مستزاد، ظاہر ہے کہ مصروفیت میں اضافہ ہونا ہی ہے اور ہوا بھی یہی کہ آپ کی مصروفیات میں خاصا اضافہ رہا جس کا ذکر آپ نے خود اپنے ایک مکتوب میں یوں تحریر فرمایا: “اس سال بوجہ حدیث شریف پڑھانے کے فقیر کو قطعاً فرصت نہ ملی۔ درمیانِ سال میں مدرسِ اول دار العلوم منظرِ اسلام بعض احباب کے اصرار سے میرٹھ بھیج دیے گئے، درس فقیر کے سر رہا”۔ [ایضاً، ص: ۱۸۱]
بیعت و خلافت
آپ کے مرشدِ گرامی حضرت نور العارفین مولانا سید ابو الحسین نوری (م ۱۳۲۴ھ / ۱۹۰۶ء) اور مرشد ہی کے حکم سے آپ کے والدِ نام دار امام احمد رضا قادری برکاتی نے آپ کو تمام سلاسلِ عالیہ اور تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ اور اوراد و اشغال میں ماذون فرمایا۔ طریقت و معرفت کے تیرہ سلاسل میں آپ کو اجازت و خلافت حاصل ہوئی۔
تصنیفات و تالیفات
اب ذرا ایک نظر تصنیف و تالیف پر بھی۔ اگرچہ مصروفیات و مشاغل کے سبب زیادہ کتابیں منصہ شہود پر نہ آئیں لیکن ان گوناگوں مشاغل کے باوجود جب کبھی بھی موقع میسر آتا آپ اپنے والدِ ماجد کی روش کے مطابق فتویٰ نویسی میں متوجہ ہو جاتے اور تصنیف و تالیف کا بھی کام جاری رکھتے۔
خیر! مصروفیات کے باوجود جو کچھ بھی تحریری خدمات آپ نے اہل سنت و جماعت کے لیے پیش کیں، وہ اپنے موضوع پر نہایت ہی اہم اور قابلِ استفادہ ہیں۔ یہ بات ان کتب کے اسمائے گرامی ہی سے واضح ہے: (۱) مجموعہ فتاویٰ (یہی فتاویٰ حامدیہ کے نام سے شائع ہوا) (۲) الصَّارِمُ الرَّبَّانِي عَلَى إِسْرَافِ الْقَادِيَانِي (۳) نعتیہ دیوان (یہی دیوان “بیاضِ پاک” کے نام سے شائع ہوا) (۴) تمہید و ترجمہ الدَّوْلَةُ الْمَكِّيَّةُ (۵) الْإِجَازَاتُ الْمَتِينَةُ لِعُلَمَاءِ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ (۶) تمہید كِفْلُ الْفَقِيهِ الْفَاهِمِ (۷) خطبہ الْوَظِيفَةُ الْكَرِيمَةُ (۸) سَدُّ الْفِرَارِ (۹) سَلَامَةُ اللهِ لِأَهْلِ السُّنَّةِ مِنْ سَيْلِ الْعِنَادِ وَالْفِتْنَةِ (۱۰) حاشیہ ملا جلال (۱۱) کنز المصلی پر حاشیہ (۱۲) أَجْلَى أَنْوَارِ رِضَا (۱۳) آثَارُ الْمُبْتَدِعِينَ لِهَدْمِ حَبْلِ اللهِ الْمَتِينِ (۱۴) وقایۂ اہل سنت [تذکرہ جمیل، ص: ۱۸۵] (۱۵) اجْتِنَابُ الْعُمَّالِ عَنْ فَتَاوَى الْجُهَّالِ (یہ رسالہ فتاویٰ حامدیہ میں شامل ہے) (۱۶) مقالاتِ حامدیہ (۱۷) حاشیہ خیالی (۱۸) حاشیہ توضیح تلویح (۱۹) حاشیہ ہدایۂ اخیرین (۲۰) حاشیہ بیضاوی (۲۱) حاشیہ صحیح بخاری [تذکرہ جمیل، ص: ۱۱۰]
وصال
حضرت حجۃ الاسلام کی علالت کا آغاز ۱۹۳۹ء سے ہی ہو گیا تھا، لیکن اس عالم میں بھی آپ نے متعدد تبلیغی اسفار کیے، جن میں جودھ پور اور بنارس کے اسفار خاص ہیں۔ آپ اپنے وصال سے ایک سال قبل ہی اپنی رحلت کے حالات و کوائف بیان فرمانے لگے تھے، آپ اپنے وصال کی کیفیت بیان کرتے اور فرمایا کرتے تھے: زبان سرکار صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام اور ذکر میں مشغول ہو کر، روح قربِ وصال سے چھلکتے ہوئے کیف و سرور کے جام سے محظوظ ہو گی۔ آپ کا وصالِ مبارک ۱۷/ جمادی الاولی ۱۳۶۲ھ مطابق ۲۳/ مئی ۱۹۴۳ء دورانِ نمازِ عشاء حالتِ تشہد میں ہوا، نمازِ جنازہ تلمیذِ رشید حضرت محدثِ پاکستان علامہ سردار احمد رضوی نے پڑھائی، لاکھوں کی تعداد میں عاشقانِ حجۃ الاسلام شریکِ جنازہ تھے۔
خطابات
القابات و خطابات: (۱) ولدی الاعز (۲) بڑے مولانا (۳) حامیِ سنت (۴) فاضل نوجوان۔
حضور حجۃ الاسلام، امام اہل سنت کے بڑے صاحب زادے تھے اور آپ کے جانشین ہوئے جس کا اشارہ امام اہل سنت نے اپنی حیات ہی میں فرما دیا تھا جیسا کہ آپ کی سوانح عمری کے مطالعہ سے واضح ہے۔ امام اہل سنت نے اپنے جانشین کو کب اور کن القابات سے یاد فرمایا، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
ولدی الاعز
امام اہل سنت بریلوی نے حضور حجۃ الاسلام کے حق میں اپنی جانشینی کا اعلان کرتے اور آپ کو سندِ اجازت عطا فرماتے ہوئے آپ کے حق میں تحریر فرمایا:
“وَقَدْ كُنْتُ أَجَزْتُ وَلَدِيَ الْأَعَزَّ مُحَمَّدًا الْمَعْرُوفَ بِالْمَوْلَوِيِّ حَامِدِ رِضَا خَان سَلَّمَهُ الرَّحْمَنُ عَنْ طَوَارِقِ الْحَدَثَانِ وَنَوَازِغِ الشَّيْطَانِ، وَجَعَلَهُ خَيْرَ خَلَفٍ لِسَلَفِهِ الصَّالِحِينَ، وَوَفَّقَهُ مُدَّةَ عُمْرِهِ لِحِمَايَةِ الدِّينِ، وَنِكَايَةِ الْمُفْسِدِينَ، وَإِنَّهُ وَلِيُّ ذَلِكَ وَخَيْرُ مَالِكٍ، وَالْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِجَمِيعِ السَّلَاسِلِ وَالْعُلُومِ وَالْأَذْكَارِ وَالْأَشْغَالِ وَالْأَوْرَادِ وَالْأَعْمَالِ وَسَائِرِ مَا وَصَلْتُ إِلَى إِجَازَتِهِ مِنْ مَشَايِخِيَ الْأَجِلَّاءِ أُولِي الْأَفْضَالِ”۔ [تذکرہ جمیل، ص: ۶]
المعتقد المنتقد کی شرح المعتمد المستند میں تحریر فرماتے ہیں:
“وَلَقَدْ تَفَرْعَنَ وَتَشَيْطَنَ رَجُلٌ مِنْ قَادِيَانَ قَرِيبَةٍ مِنَ الْبُنْجَابِ، فَادَّعَى أَنَّ خُرُوجَهُ هُوَ الْمُرَادُ بِنُزُولِ عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَأَنَّهُ هُوَ الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ، وَقَدْ بَيَّنَ فَسَادَ قَوْمِهِ وَضَلَالَ زَعْمِهِ بِأَبْيَنِ وَجْهٍ وَأَوْضَحَهُ الْوَلَدُ الْأَعَزُّ مُحَمَّدٌ الْمَعْرُوفُ بِالْمَوْلَوِيِّ حَامِدِ رِضَا خَان حَفِظَهُ اللهُ تَعَالَى وَأَرْقَاهُ أَعْلَى مَدَارِجِ الْكَمَالِ، وَأَبْقَاهُ، وَوَقَاهُ كُلَّ شَرٍّ وَوَبَالٍ، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ رِسَالَةً حَسَنَةً سَمَّاهَا “الصَّارِمُ الرَّبَّانِي عَلَى إِسْرَافِ الْقَادِيَانِي” (۱۳۱۵هـ)”۔ [المعتمد المستند، ص: ۱۸۸]
بڑے مولانا
اس لقب کے تعلق سے خلیفۂ حجۃ الاسلام علامہ ابراہیم خوشتر قدس سرہ علامہ تقدس علی خاں رحمۃ اللہ علیہ کی زبان کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہوئے لکھتے ہیں:
“صاحبِ تذکرہ کا عنفوانِ شباب تھا، آپ کے والدِ ماجد گرامی وقار امام احمد رضا سے ایک اسمعیل نامی وہابی آمادۂ بحث تھا۔ آپ نے اپنے والد سے گفتگو کی اجازت طلب کی اور وہابی مذکور کو خاموش کر دیا۔ اس پر امام احمد رضا نے اپنے کمسن مگر فاضل صاحب زادے حامد رضا خان کو “بڑے مولانا” کہہ کر خطاب فرمایا۔ یہ لقب اتنا مشہور ہوا کہ اہل سنت بریلوی کے حلقہ میں بڑے مولانا سے صاحبِ تذکرہ حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ذات سمجھی جاتی ہے”۔ [تذکرہ جمیل، ص: ۱۰۷]
حامیِ سنت
امام اہل سنت کی حیاتِ مبارکہ ہی میں کچھ حضرات نے آپ کی خلافت کا ذاتی مفاد کے لیے استعمال شروع کیا جس کی اطلاع امام اہل سنت کو ہوئی تو آپ نے اپنے پچاس خلفاے کرام کے اسمائے گرامی کی فہرست جاری فرمائی جس میں اپنے صاحب زادے علامہ حامد رضا کو ان الفاظ سے یاد فرمایا:
“صاحب زادہ جناب مولانا الحاج مولوی محمد حامد رضا خان صاحب محلہ سوداگران، بریلی۔ عالم فاضل مفتی کامل مناظر مصنف حامیِ سنت و مجازِ طریقت ہیں”۔
فاضل نوجوان
امام اہل سنت نے قادیانی کے رد میں ایک رسالہ “السُّوءُ وَالْعِقَابُ عَلَى الْمَسِيحِ الْكَذَّابِ” تحریر فرمایا جس کے شروع میں اپنے بڑے صاحب زادے اور قادیانی کے رد میں ان کی کتاب کا تذکرہ ان الفاظ میں فرمایا:
“فقیر کو بھی اس دعوٰی سے اتفاق ہے، مرزا کے مسیح و مثلِ مسیح ہونے میں اصلاً شک نہیں مگر لا واللہ نہ مَسِيحُ كَلِمَةِ اللهِ عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللهِ بلکہ مَسِيحُ الدَّجَّالِ عَلَيْهِ اللَّعْنُ وَالنَّكَالُ، پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارن پور سے سوال آیا تھا جس کا ایک مبسوط جواب ولدِ اعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خاں محمد حفظہ اللہ تعالیٰ نے لکھا اور بنامِ تاریخی “الصَّارِمُ الرَّبَّانِي عَلَى إِسْرَافِ الْقَادِيَانِي” مسمّٰی کیا۔ یہ رسالہ حامیِ سنن، ماحیِ فتن، ندوہ شکن، ندویِ فگن، مکرمنا قاضی عبد الوحید صاحب حنفی فردوسی صِينَ عَنِ الْفِتَنِ نے اپنے رسالہ مبارکہ تحفہ حنفیہ میں کہ عظیم آباد سے ماہوار شائع ہوتا ہے طبع فرما دیا”۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۵، ص: ۵۷۶]
