حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے حیات کے مختلف گوشے | محمد خورشید رضا

حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے حیات کے مختلف گوشے
عنوان: حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے حیات کے مختلف گوشے
محرر: محمد خورشید رضا
پیش کش: محمد عمران سکندری جیسلمیری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ اولیاء احمدآباد

نام و نسب

عثمان ابن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب القرشی الاموی۔

والد کا نام

عفان بن ابو العاص۔

والدہ کا نام

اروی۔

کنیت

ابو عمرو عبد اللّٰہ اور ابو لیلیٰ۔

لقب

جامع القرآن، ذوالنورین۔

ولادت

عام الفیل کے چھ سال بعد پیدا ہوئے۔

ایمان

حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ، مولا علی رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ کے بعد سب سے پہلے آپ ہی مشرف بہ اسلام ہوئے۔

ہجرت

آپ نے دو ہجرتیں کیں، پہلی حبشہ کی طرف دوسری مدینہ منورہ کی طرف اسی وجہ سے آپ کو صاحبِ ہجرتین بھی کہا جاتا ہے۔

خصوصیت

حضرتِ عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے عقدِ نکاح میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یکے بعد دیگرے دو صاحبزادیاں رہیں حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم رضی اللّٰہ عنہما، مزید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “لو کانت لي اخری لزوجتھا ایاہ” اور حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے علاوہ اولادِ آدم سے قیامت تک کوئی شخص ایسا نہیں گزرا کہ جس کے عقدِ نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں رہی ہوں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اذن سے حضرت رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کی تیمارداری کے باعث جنگِ بدر میں شریک نہ ہو سکے لیکن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حصہ عطا کیا اور اجر دیا۔ صلحِ حدیبیہ میں حضرت عثمان غنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مکہ معظمہ بھیجے گئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کو فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے خود ان کی طرف سے بیعت کی اور لی۔

سخاوت

حضور صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ عسرت کے لشکر پر رغبت دلا رہے تھے تو حضرت عثمان غنی کھڑے ہو کر بولے یا رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وسلم میرے ذمے اللّٰہ کی راہ میں سو اونٹ کمبل اور پالان کے ساتھ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کے متعلق پھر رغبت دلائی پھر حضرت عثمان غنی کھڑے ہو گئے عرض کیا میرے ذمے دو سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل اور پالان کے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر رغبت دلائی تو حضرت عثمان غنی کھڑے ہو گئے بولے میرے ذمے اللّٰہ کی راہ میں تین سو اونٹ مع ان کے کمبل و پالان کے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار چندے کی اپیل کی ہر بار حضرت عثمان غنی نے سو، دو سو اور تین سو اونٹ کا مع سامان کے اعلان کیا کسی کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔ خیال رہے کہ یہ تو ان کا اعلان تھا مگر حاضر کرنے کے وقت نو سو پچاس اونٹ، پچاس گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں پیش کیں پھر بعد میں دس ہزار اشرفیاں اور پیش کیں۔

حیا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رانیں یا پنڈلیاں کھولے لیٹے تھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے اجازت طلب کی اسی حالت پر اجازت دے دی گئی انہوں نے کچھ بات چیت کی پھر حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اجازت مانگی انہیں بھی اسی حالت پر اجازت دے دی گئی پھر انہوں نے بھی بات چیت کی کچھ دیر بعد حضرت عثمان غنی نے اجازت مانگی تو رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے جب وہ چلے گئے حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا جب حضرت ابو بکر آئے آپ نے ان کے لیے نہ جنبش کی اور نہ ان کی پروا کی پھر حضرت عمر آئے تو آپ نے ان کے لیے بھی نہ جنبش کی اور نہ ان کی پروا کی لیکن جب حضرت عثمان آئے تو پھر آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے آخر اس کی کیا وجہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس شخص پر حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

(ستر کے کھلنے سے مراد یہ کہ تہبند تو تھا لیکن اس کے اوپر کُرتا نہ تھا۔ اس کی مزید تشریح مرآۃ المناجیح میں پڑھیں)

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین میں بھائی چارے کا رشتہ قائم فرمایا تو حضرت عثمان بھی وہاں موجود تھے ان کے سینے سے کرتا ہٹ گیا تو وہاں کے موجود فرشتے اس مجلس سے ہٹ گئے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ملائکہ سے ہٹنے کی وجہ پوچھی انہوں نے کہا حضرت عثمان سے ہم کو شرم آتی ہے۔

حضرت عثمان غنی کی شرم و حیا کا یہ حال تھا کہ آپ غسل خانے میں تہبند باندھ کر غسل کرتے، صرف اوپر کا بدن برہنہ ہوتا تب بھی آپ سیدھے نہ بیٹھتے شرم سے جھکے رہ کر ہی غسل فرمایا کرتے تھے۔ آپ نے کبھی اپنی شرمگاہ کو نہ دیکھا۔

جمعِ قرآن

قرآن مجید کی تالیف عہدِ نبوی میں ہوئی، صحیفوں میں جمع زمانۂ صدیقی میں ہوا اور مصاحف میں اس کی کتابت زمانۂ عثمانی میں ہوئی۔ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں قرآن مجید صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم کے سینوں اور متفرق کاغذوں، پتھر کی تختیوں، بکری، دنبے کی پوستوں، شانوں، پسلیوں وغیرہا میں تھا۔ خلیفۂ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبر کے حکم سے سارا قرآن عظیم جمع کیا گیا، ہر سورت ایک جدا صحیفے میں جمع کی گئی۔ صحیفوں اور مصحف میں فرق یہ ہے کہ صحیفے وہ اوراق ہیں جن میں حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کے عہدِ مبارک قرآن مجید لکھا گیا اس میں سورتیں الگ الگ تھی، ہر سورت اپنی آیات کے ساتھ الگ مرتب تھی لیکن بعض کو بعض کے ساتھ بالترتیب نہیں رکھا گیا، جب ان کو اس طرح لکھا گیا بعض سورتوں کو بعض کے بعد بالترتیب رکھا گیا تو مصحف بن گیا۔ چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے عہد سے پہلے مصحف نہ تھا۔

بیعت و خلافت

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے دفن کرنے کے تین رات بعد آپ سے بیعت کی گئی، محرم ۲۴ ہجری میں تختِ خلافت پر جلوہ گر ہوئے ۱۲ سال خلافت کی۔

شہادت و تدفین

حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کی شہادت بروز جمعہ ۱۸ ذی الحجہ کو ہوئی اور ہفتے کی رات کو مغرب و عشاء کے درمیان بقیع میں بمقامِ حش و کوکب دفن کیے گئے۔ بوقتِ شہادت آپ قرآن مجید پڑھ رہے تھے جب آپ کو شہید کیا گیا خون کا پہلا قطرہ اس آیت پر گرا:

فَسَیَكْفِیْكَھُمُ اللّٰهُۚ-وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ [البقرۃ: ۱۳۷]

ترجمہ: تو اے محبوب! عنقریب اللّٰه ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔

حوالہ جات

۱۔ شرح فقہ اکبر
۲۔ تاریخ الخلفاء
۳۔ فتاویٰ رضویہ
۴۔ مرآۃ المناجیح

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!