| عنوان: | حسینیت اور یزیدیت: دو نظریات کی دائمی کشمکش |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
یہ بات ذہن نشین رہے کہ "حسینیت" اور "یزیدیت" محض تاریخی شخصیات کی یادگار نہیں بلکہ دو متضاد نظریات، دو متصادم مکتبہ ہائے فکر، اور دو مختلف طرزِ حیات کی علامت ہیں۔ ایک وہ جو ظلم کے خلاف سر بلند رکھتا ہے، اور ایک وہ جو اقتدار کی خاطر حق کو پامال کر دیتا ہے۔ ایک عدل کا استعارہ ہے، دوسرا جبر کا نشان۔
موسمی جذبہ یا عملی زندگی؟
محرم آتا ہے، فضائیں نوحہ گر ہو جاتی ہیں، منبر و محراب سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر طرف "حسینیت" کے نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ لوگ شعر کہتے ہیں، فلسفے بگھارتے ہیں، ماتم کرتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، خود کو عاشقِ حسین کہلواتے ہیں۔ مگر جیسے ہی محرم کی آخری تاریخ آتی ہے، گویا "حسینیت" کو ایک موسمی جذبہ سمجھ کر دل و دماغ کے شیلف میں سجا دیا جاتا ہے اور عملی زندگی میں "یزیدیت" کے سامنے سجدہ ریزی شروع ہو جاتی ہے۔
وہی زبان جو حسین رضی اللہ عنہ کی حمایت میں نعرہ زن تھی، ظالموں کی چاپلوسی میں مصروف ہو جاتی ہے۔ وہی ہاتھ جو عزاداری کے علم اٹھائے ہوئے تھے، ظالموں کے دسترخوان پر جھک جاتے ہیں۔
یہی تو ہماری فکری و اخلاقی شکست کی علامت ہے جب ہم "حسینیت" کو صرف محرم کی محدود یادگاری بنا کر چھوڑ دیتے ہیں، اور بقیہ سال "یزیدیت" کی عملی ترویج کرتے ہیں۔
حسینیت اور یزیدیت کے جدید روپ
یاد رکھو!
"حسینیت" محض رسمی کارروائی یا ماتم کا نام نہیں — یہ حق گوئی، باطل شکنی، اور قربانی کا استعارہ ہے۔
یہ وہ چراغ ہے جو اندھیروں سے ٹکرانا جانتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چلنا آسان نہیں، لیکن اگر چل سکو، تو تمہیں وقت کی فرعونیت کے سامنے سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ ملتا ہے۔
یزیدیت آج بھی زندہ ہے — ظلم کی صورت میں، فسطائیت کی شکل میں، حاکمانِ وقت کی بےحسی میں، اور اس معاشرے کی خاموشی میں جہاں سچ کہنے والے کو دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔
اور حسینیت بھی زندہ ہے — ہر اس شخص میں جو سچائی پر ڈٹا ہوا ہے، ہر اس دل میں جو مظلوموں کے لیے دھڑکتا ہے، اور ہر اس زبان میں جو جابر کے خلاف بولنے کی جرأت رکھتی ہے۔
دعویدارِ عشقِ حسین کے لیے پیغام
تو اے دعویدارِ عشقِ حسین رضی اللہ عنہ !
اگر واقعی حسین رضی اللہ عنہ سے محبت ہے، تو صرف محرم میں نہیں، سال کے ہر دن، ہر لمحہ، ہر فیصلے میں "حسینیت" کو زندہ رکھو۔
خود کو "یزیدی کلچر" سے الگ کرو۔
ظلم کے خلاف آواز بنو، سچ کا علمبردار بنو، اور حق کے لیے تنہا کھڑا ہونے کا حوصلہ پیدا کرو۔
کیونکہ: کربلا ہر دور میں ہے، یزید بھی زندہ ہے اور حسین بھی۔۔۔! سوال یہ ہے کہ آپ کس کے ساتھ کھڑے ہو؟
