| عنوان: | ایمان کی مہک |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
خوشبو اور ظاہری خوبصورتی
شیشے کی بوتل کی قدر اس کی ظاہری خوبصورتی سے نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود عطر کی مہک سے ہوتی ہے۔ بوتل خواہ کتنی ہی دیدہ زیب کیوں نہ ہو، اگر اس کے اندر خوشبو نہ ہو تو وہ محض ایک بےجان چیز ہے، جس کا نہ کوئی مقام ہے نہ کوئی اثر۔
ایمان کی حقیقت اور کردار
اِسی طرح، صرف مسلمان ہونے کا دعویٰ کافی نہیں۔ ایمان کی حقیقت اس وقت آشکار ہوتی ہے جب انسان کا طرزِ زندگی، اخلاق، عادات، اور کردار اسلام کی تعلیمات کا آئینہ دار ہو۔ مسلمان کا وجود خود ایک دعوت ہونا چاہیے، اس کے ہر عمل سے یہ ظاہر ہو کہ وہ اس دین کا پیروکار ہے جو سراسر رحمت، محبت اور عدل کا درس دیتا ہے۔
محض نام کا مسلمان یا خالی بوتل؟
کیا آپ کے چہرے کی تابانی، آپ کے لبوں کی گفتگو، اور آپ کے اعمال کی خوشبو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آپ امتِ محمدیہ ﷺ کا حصہ ہیں؟ اگر نہیں، تو جان لیجیے کہ محض نام کا مسلمان ہونا ایک خالی بوتل کی مانند ہے، جو نہ اپنی کوئی قدر رکھتی ہے اور نہ کسی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسلام: ایک مکمل طرزِ حیات
اسلام صرف ظاہری عبادات کا مجموعہ نہیں؛ یہ ایک طرزِ حیات ہے، ایک ایسی روشنی جو دلوں کو منور کرتی ہے اور انسان کے وجود کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا عکس بناتی ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کی زندگی کا ہر لمحہ، ہر عمل، اور ہر لفظ اس کے ایمان کا مظہر ہو، اور جس کی خوشبو نہ صرف اپنے قریب بلکہ دور تک پہنچ کر لوگوں کے دلوں کو اسلام کے جمال سے مسخر کر لے۔
پس، اپنی ذات کو اُس خوشبو سے معطر کریں جو دلوں کو بیدار کرتی ہے اور روحوں کو سکون دیتی ہے۔ یہ آپ کی شخصیت ہی ہے جو اسلام کے حسن کی سب سے مؤثر دلیل بن سکتی ہے۔
