افتتاحِ بخاری شریف اور اخلاصِ نیت کا پیغام | اے۔ایس۔رضویہ

افتتاحِ بخاری شریف اور اخلاصِ نیت کا پیغام
عنوان: افتتاحِ بخاری شریف اور اخلاصِ نیت کا پیغام
تحریر: اے۔ایس۔رضویہ

آج میری زندگی کا وہ حسین، یادگار اور بابرکت دن تھا، جس کا میں اور میری جماعت کی تمام ساتھیوں نے مدتوں سے بے قراری اور شوق کے ساتھ انتظار کیا تھا۔ آخرکار وہ مبارک ساعت آ پہنچی، جب افتتاحِ بخاری شریف کی بابرکت محفل سجنی تھی۔ خوشی میرے چہرے سے جھلک رہی تھی اور ہر طرف مبارک بادوں کا سلسلہ جاری تھا۔

ایک رات پہلے ہی سے تیاریوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ دل میں عجیب سی بے قراری تھی، آنکھوں میں حسین خواب سجے ہوئے تھے اور لبوں پر دعاؤں کی سرگوشیاں جاری تھیں۔ انتظار کی انہی ساعتوں کے اختتام پر وہ نورانی صبح طلوع ہوئی، جو اپنے ساتھ رحمت، برکت اور روحانی سکون کی ایک دلنشیں کیفیت لے کر آئی۔ پھر پورے شوق، ادب اور جوش و خروش کے ساتھ ہماری محفلِ افتتاحِ بخاری شریف کا آغاز ہوا۔

جب حضرت نے خطاب شروع فرمایا تو محفل کا ماحول یکسر بدل گیا۔ ان کے پُراثر، حکمت سے بھرپور اور دل نشین کلمات دل کی گہرائیوں میں اترتے چلے گئے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے برسوں سے بند دل کے دریچے کھل رہے ہوں اور ایمان کی روشنی روح کی گہرائیوں تک اترتی جا رہی ہو۔ علمِ حدیث کی عظمت، اخلاص کی ضرورت اور دینِ اسلام کی خدمت کا جذبہ اس انداز سے دل میں بیدار ہوا کہ آنکھیں نم ہوگئیں اور دل لرز اٹھا۔

وہ لمحے صرف سننے کے نہیں تھے، بلکہ خود کو بدلنے کے لمحے تھے۔ ہر لفظ میرے دل پر نقش ہو رہا تھا، ہر نصیحت میری روح کو بیدار کر رہی تھی اور ہر دعا میرے دل میں ایک نئی روشنی پیدا کر رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ محفل زمین پر نہیں بلکہ رحمتِ الٰہی کے سائے میں منعقد ہو رہی ہو۔

یہ محفل میرے لیے محض ایک تقریب نہ تھی، بلکہ علمِ حدیث سے محبت کے ایک نئے سفر کا حسین آغاز، روحانی سکون کا پیغام اور اپنی زندگی کو دینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھالنے کا ایک خاموش مگر مضبوط عہد تھی۔ میں نے دل ہی دل میں یہ عزم کیا کہ اس مبارک سفر کو اخلاص، استقامت اور عمل کے ساتھ جاری رکھوں گی۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مجھے علمِ دین کی صحیح سمجھ، اس پر عمل کی توفیق اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔

محفل اختتام پذیر ہو چکی تھی، مگر اس کی نورانی کیفیت اب بھی میرے دل پر چھائی ہوئی تھی۔ انہی خوشگوار لمحات اور حسین یادوں کے ساتھ جب میں اپنے موبائل پر واٹس ایپ کے اسٹیٹس دیکھنے لگی تو ہر طرف افتتاحِ بخاری شریف کی مبارک باد، خوبصورت پوسٹرز اور اس عظیم سعادت سے متعلق مختلف پیغامات نظر آ رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر دل خوشی اور شکر کے جذبات سے لبریز تھا۔

انہی اسٹیٹس کے درمیان اچانک میری ایک نہایت عزیز ساتھی کا اسٹیٹس سامنے آیا، جن کے ساتھ ہم نے علمِ دین کے اس مبارک سفر کا آغاز کیا تھا۔ وہ نہایت بااخلاق، باعمل اور بہترین عالمہ ہیں۔ ان کے اسٹیٹس پر صرف ایک مختصر مگر ایمان افروز حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم درج تھی:

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔

جوں ہی میری نظر اس حدیثِ مبارکہ پر پڑی، میری ساری کیفیت یکسر بدل گئی۔ دل ایک دم سنجیدہ ہو گیا اور میں گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے مختصر سی یہ حدیث میرے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ گئی ہو۔

اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ ہماری زندگی کی تمام کامیابیاں، علم کی برکت، عزت، مقام اور اب تک کا پورا سفر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں صرف اخلاصِ نیت ہی کی وجہ سے قدر و قیمت رکھتا ہے۔ اگر نیت خالص ربِّ کریم کی رضا کے لیے ہو تو معمولی سا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے، لیکن اگر نیت میں اخلاص نہ ہو تو بڑے سے بڑے اعمال بھی اپنی حقیقی قدر و منزلت کھو دیتے ہیں۔

یہ احساس دل میں جاگزیں ہوتے ہی میں نے خاموشی سے اپنی نیت کا جائزہ لیا اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کی کہ وہ ہمیشہ میری نیت کو اپنی رضا کے لیے خالص رکھے، میرے ہر عمل کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، مجھے ہر قدم پر اخلاص، تقویٰ اور استقامت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، اور میرے علم کو میرے لیے اور دوسروں کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

اس یادگار تجربے نے مجھے یہ سبق دیا کہ انسان کی زندگی میں علم، عزت، کامیابی اور بلند مقام سے بھی زیادہ اہم چیز اخلاصِ نیت ہے۔ اگر نیت خالص اللہ رب العزت کی رضا کے لیے ہو تو معمولی سا عمل بھی اس کی بارگاہ میں عظیم بن جاتا ہے، اور اگر نیت درست نہ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی اپنی حقیقی قدر کھو دیتا ہے۔

اس دن کی یہ کیفیت مجھے یہ احساس بھی دلا گئی کہ ہر کامیابی کے موقع پر انسان کو اپنی نیت کا ضرور محاسبہ کرنا چاہیے، تاکہ دل میں ریا، شہرت یا دنیا کی محبت جگہ نہ بنا لے۔ ایک طالبِ علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، دینِ اسلام کی خدمت اور امتِ مسلمہ کی بھلائی کے لیے حاصل کرے۔

میں نے بھی ان مبارک لمحات سے یہ عہد کیا کہ ہر عمل سے پہلے اپنی نیت کا جائزہ لوں گی، اپنے علم کو عمل سے مزین کروں گی اور ہمیشہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بناؤں گی۔ اللہ رب العزت ہمیں اخلاص، استقامت اور حسنِ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!