| عنوان: | سوچوں کا سفر |
|---|---|
| تحریر: | آمرین فاطمہ امجدی |
انسان کی اصل زندگی دراصل سوچوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔
یہی سوچیں ہمارے خواب بناتی ہیں، فیصلے طے کرتی ہیں اور ہمیں کامیابی کی راہوں پر لے جاتی ہیں۔ اگر جسم ایک جگہ ٹھہرا بھی ہو تو ذہن ہر لمحہ سفر میں رہتا ہے۔
اے انسان! یاد رکھو، تمہاری زندگی کا راستہ تمہاری سوچوں سے ہی شروع ہوتا ہے۔ تمہارے قدموں سے پہلے تمہاری سوچ طے کرتی ہے کہ تمہیں جانا کس طرف ہے۔ اگر سوچ خالص نیت کے ساتھ ہو تو راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔
اور اگر سوچ میں مایوسی ہو اور دل قبول نہ کرتا ہو کہ میرے ذہن میں جو چل رہا ہے، کیا وہ ہو سکتا ہے یا نہیں، جب پہلے ہی سوچ میں اندھیرا ہو تو روشنی ہوتے ہوئے بھی اندھیرا ہی نظر آتا ہے۔
سوچوں کی بھی مختلف اقسام ہیں
ہمیشہ اپنی سوچ کو بلند رکھو۔ چھوٹی سوچ انسان کو چھوٹا بنا دیتی ہے اور بڑی سوچ انسان کو بڑا مقام عطا کرتی ہے۔
اے انسان!
دنیا میں کوئی بھی ایسا بندہ نہیں جو بنا سوچے سمجھے کوئی بھی قدم اٹھائے۔ زیادہ نہ سہی، مختصر ہی مگر سوچتا ضرور ہے۔
چاہے وہ کام اچھا کرے یا برا، اس کے ذہن میں خیال ضرور آتا ہے، تو چاہیے کہ ہر انسان جب کچھ سوچے تو اپنی سوچ کو پاکیزہ رکھے، منفی خیال کو درگزر کرتے ہوئے مثبت خیال کی دنیا میں سیر کرتے ہوئے بلندی کو جا پہنچے۔
جب سوچ منفی ہوگی تو اس کے سامنے موجود منزل، جو اس شخص کا انتظار کر رہی ہوگی، اسے نظر نہیں آئے گی، وہ یقین نہیں کر پائے گا۔
اور اگر اسی جگہ مثبت سوچ کو مضبوطی سے تھام لے گا تو اگرچہ اس کے سامنے موجود چیز اس کی نہ ہوتے ہوئے بھی اس کو اپنی نظر آئے گی۔
کیوں نظر آئے گی؟
اس لیے نظر آئے گی کہ اس کے اندر حوصلہ ہے، ہمت ہے، کچھ کرنے اور پانے کی چاہت ہے۔ وہ بہتر سوچ رکھتے ہوئے بہترین کرنے کا عادی بننا چاہتا ہے اور ایک دن اپنی سوچ سے وہ منزل کو جا پہنچے گا۔
یہ دنیا، جو ہے نا، خیال سے عمل تک کا سفر ہے۔ ہر کام پہلے سوچ میں پیدا ہوتا ہے، پھر کہیں حقیقت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
سوچوں کے سفر کو طے کرنے والے انسان کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
وہ کیسے؟ اس کی کچھ الگ پہچان؟
ہاں، ہے نا الگ انداز، الگ پہچان۔
سوچوں کے سفر میں خود کو ڈھالنے والا انسان، اگر وہ اچھا سوچے گا تو اچھا بولے گا، اور اچھا بولے گا تو اچھا کرے گا، اور جب اچھا کرے گا تو اس کی منزل اس کے قدموں ہی میں ملے گی۔
لیکن اگر اسی جگہ منفی سوچ کو جگہ دے دو گے تو وہ تمہارے دل میں مایوسی اور خوف پیدا کرے گی۔ اس لیے اپنی سوچوں کی حفاظت کرو، دل میں ایک حسین امید رکھو، زبان پر سچ رکھو اور عمل میں دیانت رکھو۔
(اے انسان! یاد رکھو)
انسان وہی بنتا ہے جو وہ مسلسل سوچتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی راستہ چلتے ہوئے دیکھا ہے، پلاسٹک اور گرد و غبار کو اڑتے ہوئے؟ سب سے پہلے تو وہ اپنی جگہ پر ہوتے ہیں، پھر تیز ہوا چلتی ہے اور ان تمام گرد و غبار کو اڑا لے جاتی ہے، اور اڑنے والوں کو یہ نہیں پتا ہوتا کہ وہ کہاں جا کر رکیں گے۔
بالکل اسی کے مثل انسان ہیں۔ جب وہ ٹھان لیتا ہے کہ مجھے کچھ بہتر کرنا ہے اور اس کی سوچوں کا سفر جاری ہو جاتا ہے تو پھر رکتا نہیں ہے۔ رکتا اسی جگہ پر ہے جہاں تک اس کے خواب تھے۔ اب وہ پورے ہو گئے تو وہاں سے اب وہ اس سے کچھ بہتر کرنے کا سوچنے لگتا ہے، کیونکہ اس کے سوچوں کے سفر نے منزل کو پا لیا ہے۔
اب اس میں ہمت اور حوصلہ آ گیا ہے۔ اب وہ اپنی سوچوں کے سفر کو طے کرتے ہوئے کچھ بڑا کرنے، بڑا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انسان مسلسل سوچوں کے سفر کا عادی ہوتا ہے۔ اپنی زندگی کی ابتدا سے انتہا تک سوچوں کے سفر کو طے کرتا رہتا ہے، اور سوچنے والا انسان ایک دن خود بخود دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔
مولیٰ تعالیٰ ہم سب پر اپنا خاص کرم فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
از قلم: آمرین فاطمہ امجدی
