امام احمد رضا اور صبر ورضا سیرت اعلیٰ حضرت

امام احمد رضا اور صبر ورضا
عنوان: امام احمد رضا اور صبر ورضا
تحریر: محمد شہید رضا عطاری

آزمائش اور صبر کا اسلامی تصور

سب سے زیادہ مصائب و آزمائش اس بندے پر آتی ہیں جو دین میں سب سے زیادہ مضبوط ہو، اور انسانوں میں سب سے شدید آزمائش انبیاء کرام علیہم السلام پر، اس کے بعد حسبِ مراتب ہوتی ہے۔ اللہ پاک اس امتحان کے ذریعے انسان کے گناہوں کو دھو کر پاک و صاف کر دیتا ہے اور اس کے درجات کو بلند فرماتا ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی مبارک زندگی پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بے شمار آزمائشوں اور بیماریوں کا سامنا کیا، مگر زبان پر کبھی شکایت یا ناشکری کا لفظ نہیں لائے۔ آپ نے اپنی عملی زندگی سے غلاموں کو صبر و تحمل اور بارگاہِ الٰہی میں رضا بہ قضا رہنے کا عظیم درس دیا۔

بندے کو خدا سے کیسی شکایت؟

حضرت مولانا صدر الشریعہ بدر الطریقہ محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت علیل تھے، میں عیادت کے لیے گیا اور حسبِ محاورہ پوچھا: "حضور! اب شکایت کس سے ہے؟" تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا: "اللہ پاک سے شکایت نہ تو پہلے تھی، نہ اب۔ بندے کو مالِک سے کیسی شکایت؟" صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ میں نے زندگی بھر کے لیے اس محاورے سے توبہ کر لی۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:
• حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان مرد و عورت کے جان و مال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔" (ترمذی)
• حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون لوگ سخت بلاؤں میں مبتلا ہوتے ہیں؟ فرمایا: "سب سے پہلے انبیاء کرام، پھر جو ان کے بعد افضل ہیں، یعنی حسبِ مراتب۔ آدمی میں دین کے ساتھ جیسا تعلق ہوتا ہے اسی اعتبار سے بلا میں مبتلا کیا جاتا ہے۔" (ترمذی)

امام اہل سنت کا یقینِ کامل اور توکل

ایک روز اعلیٰ حضرت نے چودھری عبد الحمید خان صاحب سے گفتگو کے دوران فرمایا: "طاعون، وبائی امراض، نابینائی، برص اور جذام وغیرہ امراض کے بارے میں مجھ سے نبی کریم ﷺ کا وعدہ ہے کہ یہ بیماریاں تجھے نہیں ہوں گی، جس پر میرا کامل ایمان ہے۔" آپ بخار اور سر درد کو مبارک امراض سمجھتے تھے، کیونکہ یہ انبیاء علیہم السلام کو بھی لاحق ہوا کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ بیماریوں کا بدمزاجی سے اظہار یا شکایت نہیں کرنی چاہیے۔

استعانتِ مصطفیٰ ﷺ کی برکت:
دوسرے سفرِ حج کے دوران مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانگی کے وقت اعلیٰ حضرت کو گردے کا شدید درد لاحق ہوا۔ لوگوں نے اونٹ کی سواری کے جھٹکوں کی وجہ سے سفر سے روکا، مگر آپ نے اللہ پر توکل کیا اور پیارے آقا ﷺ سے استعانت مانگ کر اونٹ پر سوار ہوئے۔ اس استعانت کی برکت سے وہ درد ایسا غائب ہوا کہ ایک زمانہ (قرن) گزر جانے کے باوجود پھر کبھی نہ ہوا۔

خلاصۂ کلام

ان تمام واقعات اور احادیث سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ دین میں پختگی کی علامت آزمائشوں پر صبر کرنا ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی سیرتِ طیبہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کوئی مصیبت یا بیماری پیش آئے تو ناشکری اور شکوہ کرنے کے بجائے اللہ پاک کی رضا پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ صبر و رضا ہی گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔ اللہ کریم ہمیں اعلیٰ حضرت کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صبر و رضا کو عملی جامہ پہنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!