| عنوان: | مرشد طریقت مولانا قاضی محمد قاسم میاں گجراتی رحمہ اللہ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عطاء النبی حسین مصباحی |
تعارف اور مقام و مرتبہ
سید نا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مرشد طریقت حضرت مولانا قاضی محمد قاسم میاں قادری رضوی گجراتی رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت کا تذکرہ اپنے پچاس خلفا کی فہرست میں ۴۱ ویں نمبر پر یوں کیا ہے: "جناب قاضی قاسم میاں صاحب پور بندر کاٹھیاوار حامی سنت، مجاز طریقت"۔
حسام الحرمین کی تصدیق اور دینی خدمات
سیدنا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف لطیف "حسام الحرمین" پر جب مخالفین نے واویلا مچانا شروع کیا، تو اس حقیقت کو سامنے لانے کے لیے شیرِ بیشہ اہل سنت علامہ حشمت علی خاں قادری رضوی لکھنوی رحمہ اللہ علیہ نے متحدہ ہندوستان کے اکابر علمائے اہل سنت سے فتاوی حاصل کیے اور "الصوارم الہندیہ" کے نام سے شائع کیے۔ حضرت پیر طریقت مولانا محمد قاسم میاں رضوی رحمہ اللہ علیہ نے بھی حسام الحرمین پر تصدیق کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
"بے شک فتاوی حسام الحرمین الکریمین نہایت حق و صحیح و قابل قبول مسلمانان ہیں فقط۔ خادم الطلبہ (مولانا) قاسم میاں رضوی عفی عنہ، ساکن گونڈل، کاٹھیاوار (گجرات)"
علاوہ ازیں، نیچریت کی تبلیغ پر قدغن لگانے اور اس کے عقائدِ باطلہ سے امتِ مسلمہ کو آگاہ کرنے کے لیے آپ نے امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک استفتا بھیجا۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے خلیفہ کے اس استفتا پر عمیق غور و خوض فرمانے کے بعد قرآن و حدیث اور فقہائے اسلام کے اقوال کی روشنی میں دلائل سے مزین کتاب "الدلائل القاہرہ علی کفرۃ النیاشرہ" تحریر فرمائی جس نے قصرِ باطل میں زلزلہ پیدا کر دیا۔
القابات و خطابات
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو "حامیِ سنت" کے جلیل القدر خطاب سے سرفراز فرمایا اور اپنے خلفا کی فہرست میں آپ کا تذکرہ پوربندر کاٹھیاوار سے مجازِ طریقت کے طور پر شامل فرمایا۔
