| عنوان: | رئیس القلم: علم، قلم اور دعوت کا روشن باب |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی |
برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوئیں جن کی زندگی اپنے عہد تک محدود نہ رہی بلکہ ان کے افکار، خدمات اور تصانیف آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن گئیں۔ انہی درخشندہ شخصیات میں رئیس القلم، قائد اہل سنت حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کا نام نہایت نمایاں ہے۔ آپ ایک بلند پایہ عالم، مدبر، مصنف، خطیب، داعی، مناظر اور عظیم تنظیم ساز تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی عقائد اہل سنت کی حفاظت، مسلک اعلیٰ حضرت کی اشاعت، دین اسلام کی تبلیغ اور امت مسلمہ کی اصلاح میں صرف کردی۔
آپ کا اصل نام غلام رشید تھا، جبکہ علمی و ادبی دنیا میں "ارشد القادری" کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کو "رئیس القلم" اور "قائد اہل سنت" جیسے عظیم القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت ۵ مارچ ۱۹۲۵ء کو اتر پردیش کے ضلع بلیا کے گاؤں سیدپورہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گھر کے دینی ماحول میں حاصل کی، پھر تقریباً آٹھ سال تک حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مبارکپوری علیہ الرحمہ کی تربیت میں رہ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ ۱۹۴۴ء میں جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے سند فضیلت حاصل کی اور علمی میدان میں قدم رکھا۔
فراغت کے بعد کچھ عرصہ ناگپور میں تدریسی خدمات انجام دیں، پھر ۱۹۵۲ء میں جمشیدپور کو اپنی دعوتی اور تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تدریس کے ذریعے تقریباً پندرہ سو طلبہ کو علم دین سے آراستہ کیا۔ آپ صرف کتابی علوم کے معلم نہیں تھے بلکہ اپنے شاگردوں میں اخلاص، دعوت، مسلکی غیرت اور عملی زندگی کا جذبہ بھی پیدا کرتے تھے۔
علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قلمی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ آپ کی نثر میں سادگی، روانی، استدلال اور دل نشینی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ آپ نے تین درجن سے زائد قیمتی کتابیں یادگار چھوڑیں جن میں زلزلہ، زیرو زبر، تعزیرات قلم، لالہ زار، نقش کربلا، دعوت انصاف، شخصیات، زلف و زنجیر، افکار و خیالات، صدائے درویش، شعور و آگہی، انوار احمدی، تجلیات رضا، کمالات مصطفی ﷺ، تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی اور دیگر تصانیف شامل ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے متعدد کتابوں پر مقدمات و تقریظات لکھیں اور مختلف دینی و ادبی رسائل میں اپنے علمی مضامین کے ذریعے اہل علم کو متاثر کیا۔
آپ کی زندگی کا ایک اہم پہلو مناظرانہ خدمات بھی ہیں۔ مختلف شہروں میں اہل باطل کے ساتھ ہونے والے مناظروں میں آپ نے نہایت مضبوط دلائل کے ساتھ اہل سنت کا موقف پیش کیا۔ حفظ الایمان، سلام و قیام، تبلیغی جماعت اور دیگر اہم موضوعات پر ہونے والے متعدد مناظروں میں آپ نے اپنی علمی بصیرت، حاضر جوابی اور استقامت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ مخالفین لاجواب ہوگئے۔
دعوت و تنظیم کے میدان میں بھی آپ کی خدمات بے مثال ہیں۔ آپ نے ملک و بیرون ملک دین اسلام کی اشاعت کے لیے متعدد دینی ادارے قائم کیے۔ جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی، دار العلوم فیض العلوم جمشیدپور، جامعہ مدینۃ الاسلام ہالینڈ، دار العلوم علیمیہ سورینام، ادارہ شرعیہ بہار و جھارکھنڈ، ورلڈ اسلامک مشن لندن اور دیگر ادارے آپ کی دور اندیشی اور دینی فکر کے روشن نمونے ہیں۔ آپ کی کوششوں سے بے شمار مساجد و مدارس قائم ہوئے جن سے آج بھی ہزاروں افراد دینی فیض حاصل کر رہے ہیں۔
آپ نے ملی اور جماعتی مفاد کو ہمیشہ اپنی ذات پر مقدم رکھا۔ زندگی بھر بڑے بڑے ادارے اور مضبوط دینی مراکز قائم کیے، مگر اپنے لیے دنیاوی آسائشیں جمع نہ کیں۔ یہی بے نفسی، اخلاص اور للہیت آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔
روحانی اعتبار سے آپ نے صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے بیعت کی، جبکہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان قادری علیہ الرحمہ سے خلافت حاصل کی۔ اس نسبت نے آپ کی علمی اور دعوتی زندگی میں مزید نور پیدا کیا۔
وصال سے چند روز پہلے آپ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نہایت درد بھرے اشعار بطور عریضہ پیش کیے، جن میں مدینہ طیبہ کی حاضری، عشق رسول ﷺ اور حسن خاتمہ کی آرزو نمایاں ہے۔ یہ اشعار آپ کے سچے عشق رسول ﷺ اور قلبی وارفتگی کی روشن دلیل ہیں:
روز آئے مدینے سے بادِ صبا، ہجر میں دل ہمارا بہلتا رہے
ہر گھڑی تم ہمیں یاد آتے رہو، عالمِ شوق میں دل مچلتا رہے
وقت آ جائے ارشد کا جب آخری، رنگ لائے مری نسبتِ قادری
گوشۂ دامنِ پاک ہو ہاتھ میں، سامنے تم رہو، دم نکلتا رہے
۱۵ صفر المظفر ۱۴۲۳ھ، مطابق ۲۹ اپریل ۲۰۰۲ء کو دہلی میں آپ کا وصال ہوا، جبکہ جمشیدپور کے دار العلوم فیض العلوم میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے، جہاں اہل محبت آج بھی حاضری دے کر ایصال ثواب کرتے ہیں۔
حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی پوری زندگی علم، قلم، دعوت، تنظیم اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے اہل سنت کو صرف کتابیں ہی نہیں دیں بلکہ ایک فکری شعور، دعوتی مزاج اور تنظیمی فکر بھی عطا کی۔ آپ کی تصانیف آج بھی اہل علم کے لیے سرمایہ افتخار ہیں اور آپ کے قائم کردہ ادارے آپ کی زندہ یادگار ہیں۔
اللہ تعالیٰ رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے، ان کے مرقد انور کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے، ان کی تصانیف سے استفادہ کرنے اور ان کے اخلاص و استقامت کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، مسلک اعلیٰ پہ ہم سب استقامت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار
