من ترا پروگرام دہم، تو مرا پروگرام دہ | سرفراز احمد قادری امجدی

من ترا پروگرام دہم، تو مرا پروگرام دہ
عنوان: من ترا پروگرام دہم، تو مرا پروگرام دہ
تحریر: سرفراز احمد قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو

دینی و سماجی حلقوں میں باہمی تشہیر کی بڑھتی ہوئی روش

موجودہ دور میں سوشل میڈیا، اسٹیج کلچر اور شخصی شہرت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے دینی و سماجی حلقوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ پہلے اہلِ علم، خطباء اور دینی خدمت گار اپنے اخلاص، علم، تقویٰ اور خدمات کی بنیاد پر پہچانے جاتے تھے، مگر اب بعض حلقوں میں ایک نئی روش عام ہوتی جا رہی ہے جسے طنزیہ انداز میں یوں کہا جا سکتا ہے:

من ترا پروگرام دہم، تو مرا پروگرام دہ
من ترا مشہور کنم، تو مرا مشہور کن

یعنی: میں تمہیں پروگرام دوں، تم مجھے پروگرام دو۔ میں تمہاری تشہیر کروں، تم میری تشہیر کرو۔

یہ جملہ بظاہر مزاحیہ محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ہمارے معاشرے خصوصاً دینی حلقوں کے ایک سنگین مرض کی عکاسی کرتا ہے۔ آج بعض لوگوں کے نزدیک معیارِ فضیلت علم و تقویٰ نہیں بلکہ تعلقات، گروہ بندی، سوشل میڈیا پر تشہیر اور باہمی مفادات بن چکے ہیں۔

اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ:

  1. کون کس کو پروگرام دلاتا ہے؟

  2. کون کس کی پوسٹ اور ویڈیو وائرل کرتا ہے؟

  3. کون کس کی تعریف میں مبالغہ کرتا ہے؟

  4. اور کون کس کے گروپ یا حلقے سے وابستہ ہے؟

یوں اخلاص کی جگہ مفاد، اور خدمت کی جگہ تشہیر نے لے لی ہے۔

سوشل میڈیا نے جہاں دعوت و تبلیغ کے بے شمار مواقع فراہم کیے، وہیں مصنوعی شہرت کا دروازہ بھی کھول دیا۔ بعض افراد علم و عمل سے زیادہ “پروموشن” پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو بلا کر تعریفیں کرنا، مصنوعی القابات دینا، اور معمولی باتوں کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنا اب ایک مستقل مزاج بنتا جا رہا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حقیقی اہلِ علم پس منظر میں چلے گئے، سنجیدہ فکر کمزور پڑ گئی، اور شور و شہرت رکھنے والے لوگ نمایاں ہونے لگے۔ حالانکہ اکابرِ امت نے کبھی شہرت کے پیچھے دوڑ نہیں لگائی؛ وہ خدمت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ انہیں عزت عطا فرماتا تھا۔

افسوس کہ بعض جگہ یہ معاملہ صرف تشہیر تک محدود نہیں بلکہ مفاداتی سیاست اور گروہ بندی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بعض لوگ ہر حال میں ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں، چاہے علمی کمزوریاں موجود ہوں، صرف اس لیے کہ تعلقات قائم رہیں اور پروگرام ملتے رہیں۔ اگر کوئی اصلاح یا حق بات کرے تو فوراً اسے مخالف قرار دے دیا جاتا ہے۔

اس روش کے کئی خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں:

  1. اخلاص کمزور ہو جاتا ہے

  2. اہلیت کے بجائے تعلقات کو اہمیت ملتی ہے

  3. گروہ بندیاں اور حسد بڑھتے ہیں

  4. نوجوان غلط معیار سیکھتے ہیں

  5. اور دین کی اصل روح متاثر ہوتی ہے

حالانکہ اسلام میں اصل معیار اخلاص، علم، تقویٰ اور خدمتِ دین ہے، نہ کہ شہرت اور مفاد۔ قرآن و حدیث میں ریاکاری اور شہرت طلبی کی مذمت وارد ہوئی ہے۔ اکابرین فرماتے تھے:

“جو شخص خود شہرت کا طالب ہو، وہ اکثر اخلاص سے محروم ہو جاتا ہے۔”

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دینی خدمات کو تجارت نہ بنائیں، پروگراموں کو باہمی لین دین کا ذریعہ نہ بنائیں، اور تعریف و تشہیر میں اعتدال اختیار کریں۔

اگر واقعی مقصد دین کی خدمت ہے تو پھر اخلاص، حق گوئی، دیانت اور اہلیت کو ترجیح دینا ہوگی، نہ کہ باہمی تشہیر اور مفاداتی تعلقات کو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، دیانت اور حق پر استقامت عطا فرمائے، اور ریاکاری، حسد، انا اور مفاد پرستی سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

رشحاتِ قلم: سرفراز احمد قادری امجدی

بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!