| عنوان: | علم کی کنجی |
|---|---|
| تحریر: | عبد السبحان بزمی مصباحی |
ارباب عقل و دانش کے نزدیک پوچھنے یا سوال کرنے کی اہمیت و افادیت اور معنویت مسلم ہے۔ اور یہ بات بھی مخفی نہیں کہ یہی وہ طریقہ ہے جو علمی اضافے کا باعث ہوتا ہے؛ کیونکہ پوچھنے سے ذہن میں الجھی ہوئی گتھی سلجھتی ہے، غیر معلوم اشیاء معلومات بن جاتی ہیں، فکر و نظر کی پگڈنڈیاں سنور جاتی ہیں، ایک ناآشنا شخص شناسائی کی رفعت کو پا لیتا ہے، ناواقفیت کی تاریکی نورِ واقفیت سے یکسر کافور ہو جاتی ہے۔ سوال کرنا تشنگانِ علم کے لیے ایسے ہی ہے جیسے خشک زمینوں کو سیراب کرنا اور سینچنا۔ یہ علم کی ایسی کنجی ہے جس سے معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس لیے جو پوچھے گا، وہ جانے گا، بلکہ وہ اس لائق ہو جائے گا کہ دوسرے کے کیے گئے سوال کا اطمینان بخش جواب دے سکے۔ جیسے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے گئے سوالات، پھر اس کے جواب میں آپ کی زبانِ فیض ترجمان سے صادر ہونے والے زرّیں ارشادات و فرمودات اور غیر معمولی اقوال و احکام سدا کے لیے رشد و ہدایت کے لیے کارگر ہیں۔ اور رہتی دنیا تک معلومات کا بے بہا خزانہ ہیں۔
سوال کرنے کی اہمیت کو قرآن نے کس خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کیا ہے:
فَاسْأَلُوْا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ [سورۃ النحل: 43]
یعنی جو بات ہم نہیں جانتے، اہلِ علم سے پوچھا کریں۔ پوچھنے سے ہی شریعت کے احکام معلوم ہوں گے، جس کی بنا پر حلال و جائز امور کی اطاعت ہو پائے گی اور حرام و ناجائز افعال سے اجتناب۔ وگرنہ، نہ پوچھنے کی صورت میں بسا اوقات آدمی حرام کاری میں پڑ جائے گا، اور کبھی حلال فعل کو ترک کر دے گا۔ اس لیے پوچھیے کہ اسی میں دارین کی سعادت و فلاح ہے۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ [سنن ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی المجروح یتیمم، ج: 1، ص: 93، ط: المکتبۃ العصریۃ، بیروت]
کہ لاعلمی کا علاج پوچھنا/سوال کرنا ہے۔
ایک جگہ اور ارشاد فرماتے ہیں کہ عالم کو اپنے علم پر اور جاہل کو اپنی جہالت پر سکوت اختیار کرنا روا نہیں۔
مذکورہ آیت کے تحت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اسی مفہوم کو اپنی کتاب “درِ منثور” میں تحریر فرماتے ہیں:
وَأَخْرَجَ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْبَغِيْ لِعَالِمٍ أَنْ يَّسْكُتَ عَلَى عِلْمِهٖ، وَلَا لِجَاهِلٍ أَنْ يَّسْكُتَ عَلَى جَهْلِهٖ، وَقَدْ قَالَ اللّٰهُ: فَاسْأَلُوْا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ. فَيَنْبَغِيْ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَّعْرِفَ عِلْمَهٗ؛ عَلَى هُدًى أَمْ عَلَى ضَلَالَةٍ. [درِ منثور، سورۃ النحل، تحت الآیۃ: 43، ج: 5، ص: 133]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
حُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ [معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ج: 5، ص: 108، رقم الحدیث: 6744، ط: دار الحرمین، القاہرہ]
اچھا سوال کرنا نصف علم ہے۔
سوال کی اہمیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جس طرح تالا بغیر کنجی کے نہیں کھلتا، اسی طرح علم ایک بند دروازہ ہے اور سوال کرنا اس کی کنجی ہے، تو علم کا بند دروازہ سوال کی کنجی سے ہی کھلے گا۔
اسی لیے پوچھنے اور سوال کرنے کی عادت ڈالیے تاکہ معلومات حاصل ہوں:
شرمائیے نہیں، پوچھیے۔
ڈریے نہیں، سوال کیجیے۔
گھبرائیں نہیں، دریافت کیجیے۔
بلا جھجھک علمی پیاس بجھائیے۔
اکڑیے مت، پوچھیے۔
ہر کوئی پوچھے
-
جاہل عالم سے پوچھے۔
-
شاگرد استاد سے پوچھے۔
-
اولاد والدین سے پوچھے۔
-
گھر والے گھر کے سربراہ سے پوچھے۔
-
عوام علما سے پوچھے۔
-
مرید پیر سے پوچھے۔
-
بیوی شوہر سے پوچھے۔
-
مقتدی امام سے پوچھے۔
یا اس کے برعکس ہی کیوں نہ ہو، مگر پوچھیے/سوال کیجیے اور علم حاصل کیجیے۔
البتہ رضائے الٰہی و خوشنودیِ حبیبِ مکرم مطلوب، حصولِ علم و سعادتِ دارین مقصود ہو، کسی کو نیچا دکھانے یا اپنی بڑائی کے اظہار کی نیت نہ ہو، یعنی لایعنی باتیں نہ پوچھیے، جو ضروریات و مقتضیات سے ہوں، وہ پوچھیے، کام کی باتیں پوچھیے، بلا ضرورت نہ پوچھیے، ورنہ پوچھنا بے سود اور دارین میں خسارے کی وجہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دھیان رہے کہ سوال کرنے کے جو سلیقے و آداب اور جو حدود و قیود ہیں، اسی دائرے میں رہ کر پوچھیے تاکہ حقیقی فیضانِ علم کے حقدار بن سکیں۔
رشحات خامہ: عبد السبحان بزمی مصباحی
مدھوبنی بہار
خادم التدریس و التدریب: مدرسہ برکات مصطفیٰ و جامعہ فاطمۃ الزہرا للبنات رامپر بڑا کچھ گجرات
