ندوہ شکن ندویِ فگن قاضی عبدالوحید فردوسی رحمہ اللہ (قسط: دوم) | محمد عطاء النبی حسین مصباحی

ندوہ شکن ندویِ فگن قاضی عبدالوحید فردوسی رحمہ اللہ (قسط: دوم)
عنوان: ندوہ شکن ندویِ فگن قاضی عبدالوحید فردوسی رحمہ اللہ (قسط: دوم)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدى گلوبل اکیڈمی

خطابات

القابات و خطابات: (۱) ندوہ شکن (۲) ندویِ فگن (۳) حامیِ السنن، ماحیِ الفتن (۴) الوحید الفرید (۵) وحید الزمن۔

قاضی عبدالوحید فردوسی کی خدمات اور امام اہل سنت کی بارگاہ میں آپ کی قدر و منزلت اور مقبولیت جگ ظاہر ہے۔ خلفائے امام میں اشاعتِ کتبِ اہل سنت کے تعلق سے آپ کی نظیر نہیں بلکہ اشاعتِ کتب آپ کی زندگی کا ایک نصب العین تھا۔ علاوہ ازیں ایمانِ مسلم پر شب خون مارنے والی تحریکِ ندوہ کی کمر توڑنے میں آپ کا نام نمایاں حضرات کی فہرست میں ہے۔ آپ کی حمایتِ دین و مسلک کے پیشِ نظر امام احمد رضا نے آپ کو بھی قابلِ قدر خطاب سے سرفراز فرمایا۔

ندوہ شکن ندویِ فگن: امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے قاضی صاحب کو کس اس خطاب سے یاد فرمایا اس کی روداد بیان کرتے ہوئے امام فرماتے ہیں:

“چودھویں صدی کے علماء میں باعتبارِ حمایتِ دین و نصرتِ سنت نیز بلحاظِ تفاقہ حضرت مولانا مولوی محمد عبدالقادر صاحب بدایونی رحمہ اللہ تعالیٰ کا پایہ اکثر معاصرین سے ارفع تھا ایامِ ندوہ میں اور اس کے بعد جب فقیر نے سرگرمِ حامیانِ دین کے خطاب تجویز کیے ہیں حضرت مولانا مولوی محمد وصی احمد صاحب کو الْأَسَدُ الْأَسَدُ الْأَشَدُّ، مولوی قاضی عبدالوحید صاحب فردوسی کو ندوہ شکن ندویِ فگن، مولانا ہدایت رسول صاحب لکھنوی کو شیرِ بیشہٴ سنت رحمہم اللہ تعالیٰ، حاجی محمد لعل خان صاحب قادری برکاتی مدراسی سلمہ اللہ تعالیٰ کو حامیِ سنت ماحیِ بدعت، اسی زمانے میں حضرتِ فاضلِ بدایونی قدس سرہ کو تَاجُ الْفُحُولِ سے تعبیر کیا جو آج تک ان کے اخلاف میں مقبول و مقبول ہے اور وہ بیشک باعتباراتِ مذکورہ اس کے اہل تھے”۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۶، ص: ۲۰۳]

حامیِ السنن، ماحیِ الفتن، الوحید الفرید: قاضی صاحب کتبِ حق کی طباعت و اشاعت میں پیش پیش رہتے تھے اسی جذبے کے پیشِ نظر آپ نے سَيْفُ اللهِ الْمَسْلُولُ علامہ فضلِ رسول بدایونی کی عقائد میں مایہ ناز کتاب “الْمُعْتَقَدُ الْمُسْتَنَدُ” پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کا لاجواب حاشیہ “الْمُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَدُ” کی اشاعت کے موقع پر امام اہل سنت نے آپ کو مذکورہ القاب سے یاد فرمایا، المعتمد میں ہے:

تَوَجَّهَ إِلَى طَبْعِهِ طَمَعَ مَنْ تَوَّجَهُ اللهُ تَعَالَى بِتِيجَانِ الْخَيْرَاتِ، وَجَعَلَهُ مُوَقَّفًا بَلْ وَقْفًا مَوْقُوفًا عَلَى فِعَالِ الْمَبَرَّاتِ، فَكُلَّمَا عَادَ عَلَى السَّدَادِ شِدَّةٌ، أَمَدَّ وأَعَدَّ لِسَدِّهَا عُدَّةً، وَهُوَ الْوَحِيدُ الْفَرِيدُ، حَامِي السُّنَنِ، مَاحِي الْفِتَنِ، مَوْلَانَا الْقَاضِي عَبْدُ الْوَحِيدِ، الْحَنَفِيُّ الْفِرْدَوْسِيُّ الْعَظِيمُ آبَادِي، أَيَّدَهُ اللهُ وَأَيَّدَهُ بِالْأَيْدِي وَالْأَيَادِي۔ [المعتقد المستند مع شرح المعتمد المستند، مطبوعہ: رضا اکیڈمی، ممبئی، ص: ۸]

وحید الزمن، حامیِ السنن، ماحیِ الفتن: اسی “الْمُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَدُ” میں ایک دوسرے مقام پر قاضی صاحب کے بارے میں امام اہل سنت لکھتے ہیں:

(۱) “وَمِنْ أَشَدِّ الْقَائِمِينَ بِالْحَقِّ فِي هَذِهِ الْفِتْنَةِ الْعَمْيَاءِ، وَالْبَلِيَّةِ الصَّمَّاءِ أَعَاذَنَا اللهُ تَعَالَى مِنْهَا وَمِنْ كُلِّ بَلَاءٍ، وَحِيدُ الزَّمَنِ، حَامِي السُّنَنِ، مَاحِي الْفِتَنِ، صَدِيقُنَا الْقَاضِي عَبْدُ الْوَحِيدِ الْحَنَفِيُّ الْفِرْدَوْسِيُّ الْعَظِيمُ آبَادِي، حَفِظَهُ اللهُ ذُو الْأَيَادِي، الَّذِي بِأَمْرِهِ وَقَعَ طَبْعُ هَذَا الْمَتْنِ الشَّرِيفِ، وَتَأْلِيفُ هَذَا التَّعْلِيقِ اللَّطِيفِ، فَاحْتَفَلَ احْتِفَالًا، وَصَرَفَ أَمْوَالًا، وَنَصَرَ الْحَقَّ وَقَهَرَ الضَّلَالًا، فَجَزَاهُ اللهُ الْحُسْنَى بَدْءًا وَمَآلًا وَالْفَاضِلُ الْكَامِلُ جَبَلُ الِاسْتِقَامَةِ، كَنْزُ الْكَرَامَةِ صَدِيقُنَا وَحَبِيبُنَا مَوْلَانَا الْمَوْلَوِيُّ مُحَمَّدُ وَصِيُّ أَحْمَدَ الْحَنَفِيُّ الْمُحَدِّثُ السُّورَتِيُّ وَطَنًا، نَزِيلُ “پيلي بهيت” حَفِظَهُ اللهُ تَعَالَى نَاصِرًا لِلدِّينِ، وَقَامِعًا لِلْمُبْتَدِعِينَ”۔ [أيضاً، ص: ۲۱۹]

(۲) فقیر کو بھی اس دعوٰی سے اتفاق ہے، مرزا کے مسیح و مثلِ مسیح ہونے میں اصلاً شک نہیں مگر لا واللہ نہ مَسِيحُ كَلِمَةِ اللهِ عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللهِ بلکہ مَسِيحُ الدَّجَّالِ عَلَيْهِ اللَّعْنُ وَالنَّكَالُ، پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارن پور سے سوال آیا تھا جس کا ایک مبسوط جواب ولدِ اعز، فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خاں محمد حفظہ اللہ تعالیٰ نے لکھا اور بنامِ تاریخی “الصَّارِمُ الرَّبَّانِي عَلَى إِسْرَافِ الْقَادِيَانِي” مسمّٰی کیا۔ یہ رسالہ حامیِ سنن، ماحیِ فتن، ندوہ شکن، ندویِ فگن، مکرمنا قاضی عبدالوحید صاحب حنفی فردوسی صِينَ عَنِ الْفِتَنِ نے اپنے رسالہ مبارکہ تحفہ حنفیہ میں کہ عظیم آباد سے ماہوار شائع ہوتا ہے طبع فرمایا، بحمد اللہ تعالیٰ اس شہر میں مرزا کا فتنہ نہ آیا، اور اللہ عزوجل قادر ہے کہ کبھی نہ لائے، اس کی تحریرات یہاں نہیں ملتیں، مجیبِ ہفتم نے جو اقوالِ ملعونہ اس کی کتابوں سے بہ نشانِ صفحات نقل کیے مثیلِ مسیح ہونے کے ادعا کو شناعت و نجاست میں ان سے کچھ نسبت نہیں ان میں صاف صاف انکارِ ضروریاتِ دین اور بوجوہِ کثیرہ کفر و ارتدادِ مبین ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۵، ص: ۵۷۶]

(۳) اور فتاویٰ رضویہ ہی میں آپ کو امام اہل سنت نے اس طرح یاد فرمایا:

مَوْلَانَا حَامِي السُّنَّةِ مَاحِي الْبِدْعَةِ أَكْرَمَكُمُ اللهُ تَعَالَى۔ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۹، ص: ۴۶۸]

(۴) فتاویٰ رضویہ ہی میں ایک مسئلہ کا جواب لکھتے وقت امام احمد رضا نے قاضی صاحب کو یاد کرتے ہوئے:

“حامیِ سنن، ماحیِ فتن، ندوہ شکن، ندویِ فگن، مولانا وحیدِ زمن، صِينَ عَنِ الْفِتَنِ وَحَوَادِثِ الزَّمَنِ آمِينَ يَا ذَا الْمِنَنِ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ جوابِ مسائل اجمالاً حاضر، تفصیل کا وقت کہاں۔ قرآنِ مجید سن کر اس وقت آیا ہوں، بارہ بجنا چاہتے ہیں، گیارہ بج کر ساڑھے باون منٹ آئے ہیں کہ یہ نیاز نامہ لکھ رہا ہوں اور اگر کسی میں تفصیل طلب فرمائیں گے تو امتثالِ امر کے لیے ہوں اور بارگاہِ عزت سے امید ایسی ہی ہے کہ آپ کا ذہنِ سلیم بحمد اللہ تعالیٰ اسی اجمال سے ہی بہت کچھ تفصیل پیدا فرمائے گا”۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۳۰، ص: ۷۳]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!