فقیہ اعظم خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ|محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

فقیہ اعظم خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: فقیہ اعظم خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نام و نسب

اسمِ شریف محمد شریف، کنیت ابو یوسف ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ نے "فقیہِ اعظم" لقب عطا کیا۔ والد کا نام حضرت مولانا عبد الرحمن نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ہے جو کہ ایک تبحر عالمِ دین تھے۔ ان کے علم و فضل کا شہرہ پورے ہندوستان میں تھا۔ اسی طرح ان کی والدہ محترمہ بھی ایک عابدہ زاہدہ خاتون تھیں۔

سنِ ولادت

۱۸۷۱ء کو "کوٹلی لوہاراں غربی" ضلع (سیالکوٹ، پنجاب، پاکستان) میں مولانا عبد الرحمن کے گھر پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم

آپ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر فتویٰ درجوں تک کی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، اسی طرح علمِ مناظرہ کی باریکیاں بھی اپنے والدِ گرامی سے بچپن ہی میں سیکھ لی تھیں۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد مزید علم کی تحصیل کے لیے لاہور میں "دار العلوم انجمن نعمانیہ" میں داخلہ لیا۔ حضرت فقیہِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ زمانۂ طالبِ علمی سے ہی باجماعت نماز اور تہجد کے پابند تھے، اور یہ سلسلہ آخری دن تک جاری رہا۔ آپ اپنے اسباق کے علاوہ دیگر کتب کا مطالعہ کثرت سے کرتے تھے۔ ہر وقت مطالعہ اور تحریر میں مصروف رہتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت فقیہِ اعظم کو پچاس ہزار مستند احادیث یاد تھیں، اس لحاظ سے آپ "فقیہِ اعظم" کے ساتھ "محدثِ اعظم" بھی تھے۔

بیعت و خلافت

آپ حضرت خواجہ حافظ عبد الكريم بخش بندی قدس سرہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔

تصنیف و تالیف

آپ نے تقریباً ۵۰ کتابیں خدمتِ دین کے لیے تصنیف فرمائیں۔ آپ نے سب سے زیادہ اپنی تصانیف سے فقہِ حنفی کی اشاعت کی اور اس کی اہمیت و افادیت پر دلائل و براہین کے انبار لگا دیے اور غیر مقلدین کو دندان شکن جوابات دے کر لاجواب کر دیا۔ چند اہم ترین کتب کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں:

  1. اباحۃ السلف البناء علی قبور المشائخ والعلماء

  2. اخلاق الصالحين

  3. اربعین حنفیہ

  4. الاربعين في فضائل النبي الامين

  5. تأييد الامام باحاديث خير الانام

  6. تحقيق البدعة

  7. در مختار پر اعتراضات کے جوابات

  8. شمس الحق

  9. شیعہ مذہب کی ابتداء

  10. صداقت الاحناف

  11. ضرورتِ فقہ

  12. علم النبی صلی اللہ علیہ وسلم

  13. کتاب الاشتراوخ

  14. كشف الغطاء عن مسئلة النداء

  15. تلخی فی "ہ"

  16. حنفی نماز مدلل موسوم بہ نمازِ رسول

  17. ہدایہ پر اعتراضات کے جوابات وغیرہ

وصال

آپ کا وصال بروز پیر ۸ ربیع الآخر ۱۳۵۷ھ، مطابق ۵ جنوری ۱۹۳۹ء کو ہوا۔ آپ کا مزارِ پر انوار "کوٹلی لوہاراں غربی" ضلع سیالکوٹ پنجاب، پاکستان میں ہے۔

القابات و خطابات

(۱) فقیہِ اعظم۔

امام اہلِ سنت کی کوئی ایسی تحریر نہیں ملی جس میں آپ نے حضرت علامہ یوسف شریف کوٹلوی کو کسی خطاب سے پکارا ہو، لیکن جب ان کی تصنیف "اربعین حنفیہ" مطبوعہ المدینۃ العلمیہ میں حالاتِ مصنف کے تحت "اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔ فقیہ اعظم کا لقب آپ ہی نے عطا فرمایا تھا" پڑھا تو مزید تلاش جاری رکھی یہاں تک کہ ناشرِ مسلکِ اعلیٰ حضرت جناب میثم عباس قادری صاحب کے وسیلے سے فقیہِ اعظم کے نواسے محمد مجیب صاحب پروفیسر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد، پاکستان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ امام اہلِ سنت نے آپ کی کتاب "نماز حنفی مدلل" معروف بہ "نمازِ رسول" پر تقریظ لکھتے ہوئے آپ کو "فقیہِ اعظم" کا خطاب عطا فرمایا۔ لیکن جب اس کتاب میں تقریظ راقم کو نہیں ملی تو راقم نے پھر رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تقریظ‌ اب دستیاب نہیں پھر راقم نے عرض کیا کہ جب دستیاب نہیں تو کیسے معلوم ہو؟ اس تعلق سے انہوں نے بتایا کہ خاندانی روایت بھی ہے اور امام اہلِ سنت کے زمانے میں ان کو فقیہِ اعظم لکھا جاتا رہا ہے۔ نیز پروفیسر صاحب نے اپنی دو کتابوں کی پی ڈی ایف بھی ارسال فرمائی جن میں انہوں نے اس طرح اس لقب کے بارے میں ذکر فرمایا:

"اعلیٰ حضرت بریلوی نے "نماز حنفی مدلل" پر تقریظ بھی لکھی جس میں آپ نے مولوی محمد شریف کو "فقیہِ اعظم" کا خطاب دیا تھا۔ وہی راوی کی شہادت کے تحت اعلیٰ حضرت بریلوی کا دیا ہوا "فقیہِ اعظم" کا یہ خطاب ایسا مقبول ہوا کہ یہ مولوی محمد شریف کے نام کا جزوِ لاینفک اور دائمی پہچان بن گیا۔" [تذکرہ فقیہِ اعظم از پروفیسر مجیب احمد، مكتبہ اشرفیہ پاکستان، ص: ۲۲]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!