| عنوان: | شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
ولادت
حضور شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ ۱۱ شعبان ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ء کو قصبہ گھوسی ضلع مئو کے ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔
تعلیم و تربیت
ناظرہ قرآن کریم مقامی مکتبہ میں مکمل کیا۔ حضور صدر الشریعہ کے منجھلے بھائی حکیم احمد علی سے گلستاں و بوستاں پڑھی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے حضور صدر الشریعہ کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ تشریف لائے۔ آٹھ سال تک بڑی محنت اور لگن کے ساتھ حصولِ علم کرتے رہے۔ پھر سات آٹھ ماہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ میرٹھ میں حضور صدر العلما سید غلام جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے زیرِ سایہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ مظہرِ اسلام مسجد بی بی جی بریلی شریف آئے اور محدثِ اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ سے صحاحِ ستہ حرفاً حرفاً پڑھ کر دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور ۱۵ شعبان ۱۳۶۲ھ مطابق ۱۹۴۳ء کو اکابر علما کی موجودگی میں دستارِ فضیلت سے سرفراز ہوئے۔
بیعت و خلافت
آپ کو شرفِ بیعت حضور صدر الشریعہ سے حاصل تھا اور خلافت حضور صدر الشریعہ اور حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہما سے حاصل تھی۔
تدریس
آپ نے پینتیس سال تک ہندوستان کے جن مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں ان کے اسما یہ ہیں:
-
مدرسہ بحر العلوم، مئو
-
مدرسہ شمس العلوم، گھوسی
-
مدرسہ خیر الاسلام، جپلہ پلاموں
-
مدرسہ سنیہ حنفیہ، مالیگاؤں مہاراشٹر
-
مدرسہ فضلِ رحمانیہ، پچپڑوا گونڈہ
-
مدرسہ عین العلوم، گیا بہار
-
جامعہ عربیہ انوار القرآن، بلرامپور گونڈہ
-
دار العلوم ندائے حق، جلال پور فیض آباد
-
دار العلوم مظہرِ اسلام، بریلی شریف
-
جامعہ اشرفیہ، مبارک پور اعظم گڑھ
تصنیف
عہدِ طالبِ علمی سے آپ کو لکھنے کا شوق تھا، زمانۂ طالبِ علمی کی مشاقی بعدِ فراغت عروجِ کمال تک پہنچ گئی۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے قلمِ حق رقم سے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں منظرِ عام پر آئیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:
-
نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری (۹ جلدیں)
-
فتاویٰ شارح بخاری (۱۰ جلدیں)
-
اشکِ رواں
-
السراج الکامل
-
مقالاتِ امجدی
-
مقالاتِ شارح بخاری (۳ جلدیں)
-
تحقیقات
-
اشرف السیر
-
اثباتِ ایصالِ ثواب
-
تنقید بر محل وغیرہ
وصال
۶ صفر ۱۴۲۱ھ مطابق ۱۱ مئی ۲۰۰۰ء بروز جمعرات صبح ۵ بج کر ۴۰ منٹ پر دارِ فانی سے دارِ جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔
مناظرے
آپ نے فرقِ باطلہ سے ہندوستان کے مختلف مقامات پر احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے متعدد مناظرے کیے جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔
مناظرہ بریلی
پس منظر: محلہ بہاری پور بریلی شریف میں ایک قادیانی حضرت عیسیٰ اور سیدہ مریم علیہما السلام کے بارے میں اپنی بد عقیدگی کی تبلیغ کرتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات پر گفتگو کر رہا تھا لوگ پریشان ہو کر اسے شارحِ بخاری کے پاس لے آئے جو اس وقت مدرسہ مظہرِ اسلام میں زیرِ تعلیم تھے۔ حضرت نے اسے چند منٹ میں مبہوت کر دیا لیکن وہ اپنی فتنہ انگیزی سے باز نہ آیا اور چند دنوں بعد آکر تیور میں کہنے لگا کہ میں عربی سے نا آشنا ہوں اس لیے دلائل کی روشنی میں آپ سے بحث کرنے سے قاصر ہوں۔ پرسوں رامپور سے ہمارے ایک عالم آ رہے ہیں ان سے اس مسئلہ پر گفتگو کر لیں۔ شارحِ بخاری نے اس کی بات بسر و چشم قبول کر لی۔
مباحثہ: قادیانی مولوی کی آمد کی اطلاع شارحِ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو ملی تو آپ فوراً اس کے پاس آئے۔ قادیانی مولوی نے شارحِ بخاری کے آتے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات کے موضوع پر تقریر شروع کر دی اسی وقت آپ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات سے زیادہ اہم مسئلہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و اسلام کا ہے۔ اس لیے پہلے اس موضوع پر گفتگو ہوگی مولوی صاحب کسی طرح آمادہ ہو گئے۔ آپ نے فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے کیونکہ اس نے توہینِ نبی کی ہے۔ مولوی صاحب نے اسے افترا قرار دیا۔ اس کی اس بات پر آپ نے اپنے دعوے کی دلیل پیش کرتے ہوئے مرزا صاحب کی کتاب “کشتیِ نوح” میں درج شعر دکھا کر اس میں دو کفر کی نشاندہی فرمائی:
ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
قادیانی صاحب نے شعر کی جو تاویل کی اور اس پر آپ نے جو گرفت فرمائی اس کے بارے میں ڈاکٹر ساحل سہسرامی لکھتے ہیں:
“قادیانی: اس شعر میں تحقیر نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دین منسوخ ہو چکا ہے، ان کے ذکر سے کیا فائدہ؟ آج امت کی ہدایت کے لیے ان کی تعلیمات کی کیا ضرورت؟ امت کی اصلاح کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی حاجت ہے جس کو اس زمانے میں حضرت مرزا صاحب بخیر و خوبی پھیلا رہے ہیں اس لیے یہ بہتر ہوئے۔
حضرت: پھر قرآن مجید میں جو عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ہے اور احادیث میں ذکر ہے، یہ سب بلا ضرورت اور لغو ہے؟ کیا آپ کا یہ ایمان ہے کہ قرآن مجید میں غیر ضروری اور لغو باتیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ خود کفر ہے”۔ [شارح بخاری نمبر، ص: ۱۶۵]
رزلٹ: مولوی قادیانی کی تاویل پر شارحِ بخاری کی اس گرفت اور پے در پے سوالات کا کوئی جواب اس سے نہ بن پڑا اور اس کی حالت دگرگوں ہونے لگی۔ ممکن تھا کہ قادیانی صاحب اپنی شکست تسلیم کر لیں لیکن قادیانی مولوی کے معتقد (جس کے گھر میں یہ مناظرہ ہو رہا تھا) نے جب اپنے مولوی کی حالت بے بس دیکھی تو اسی وقت دخل انداز ہوا اور مناظرہ ختم کرنے کی درخواست کی اور حضرت سے بھی چلے جانے کو کہا۔ اس طرح یہ مناظرہ بظاہر بغیر نتیجہ کے اختتام پذیر ہوا۔
مناظرہ گیا
پس منظر: گیا بہار کے مقام گیوال بیگھہ کی جامع مسجد میں ایک دیوبندی فاضل نے اپنی تقریر میں میلاد و قیام اور نیاز و فاتحہ کو حرام و بدعت اور اس کے کرنے والے کو بدعتی اور جہنمی کہا۔ اس کے سبب عوام میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں اور لوگ اسے روک کر دار العلوم عین العلوم حضرت کے پاس آئے (اس وقت حضرت یہیں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے) اور مسئلہ مذکور پر گفتگو کرنے کی درخواست کی۔ شارحِ بخاری رضامندی ظاہر کر کے تشریف لے گئے۔
مختصر رودادِ بحث: بحث کی ابتدا میں دیوبندی فاضل نے اپنے موقف کے ثبوت میں ایک حدیث شریف اس طرح پڑھی: “مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا هٰذَا فَهُوَ رَدٌّ”۔ اس پر شارحِ بخاری نے اس کا محاصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے یہودیوں کی طرح تحریفِ حدیث کی ہے کیونکہ پوری حدیث اس طرح ہے: “مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ”۔ پھر حضرت نے حدیثِ پاک کی توضیح و تشریح اور اس کے باطل استدلال کا ابطال فرمایا لیکن گفتگو بڑھتی گئی حتیٰ کہ مسئلہ تکفیر کی بحث چھڑ گئی۔ ابتدا میں فاضل صاحب چیخ چیخ کر بول رہے تھے لیکن جب آپ نے باطل عقائد کی قلعی کھول کر انہیں غلط اور باطل ثابت کیا تو اس کی چیخ بند ہو گئی۔ پھر آپ نے دیوبندی کفریات کی وضاحت بڑے ہی ایمان افروز اور وہابیت سوز انداز میں فرمائی۔ آپ نے فرمایا: “آپ حضرات یہ چاہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کریں، کفر بکیں اور آپ کو کچھ نہ کہا جائے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ آپ لوگ ہوں یا کوئی اور۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کریں گے، کفر بکیں گے تو دنیا کے سارے مسلمان آپ کو کافر کہیں گے”۔ [ایضاً، ص: ۱۶۶]
فیصلہ: مناظرہ کا فیصلہ وہی ہوا جو حق و باطل کے مابین مقابلے میں ہوا کرتا ہے یعنی حضرت کی پے در پے گرفت اور دیوبندی مذہب کے عقائد و نظریات کی وضاحت سے وہ صاحب بالکل بے بس اور خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ ڈاکٹر ساحل سہسرامی لکھتے ہیں: “ان کے میزبان نے ان کا نام لے کر کہا کہ چلیے آپ سے کس نے کہا تھا کہ یہاں آکر تقریر کریں اور اختلافی باتیں کریں۔ انہوں نے بھی جانے میں عافیت سمجھی اس لیے چلے گئے اس طرح مناظرہ اختتام کو پہنچا”۔ [ایضاً، ص: ۱۶۶]
مناظرہ کچنار ضلع سیتا پور
پس منظر: اس مناظرے کے پس منظر کے سلسلے میں ڈاکٹر ساحل سہسرامی تحریر کرتے ہیں: “شہر سیتا پور کے نواح میں ایک دیوبندی مولوی پہنچا اور حسبِ عادت اس نے مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے خلاف بہت کچھ زہر اگلا اور معمولاتِ اہلِ سنت کا بازاری لب و لہجہ میں خوب خوب استہزا کیا جس سے وہاں کی فضا بہت مکدر ہو گئی اور بات مناظرہ تک جا پہنچی۔ وہاں کے کچھ لوگ مبارک پور آئے۔ حضرت شارحِ بخاری، مولانا محمد عبد المبین نعمانی صاحب کو ساتھ لے کر تاریخِ مقررہ پر سیتا پور پہنچ گئے”۔ [ایضاً، ص: ۱۷۵]
صدر اور مناظر: حضور شارحِ بخاری نے خود کو مناظر اور حضرت مولانا عبد المبین نعمانی صاحب کو صدر مقرر فرمایا اور دیوبندیوں نے اپنا مناظر مبلغِ دیوبند مولوی ارشاد احمد کو بنایا۔
مناظرہ کی جھلکی: موضوع “دیوبندی کی کفری عبارت” متعین کیا گیا تھا اس لیے شارحِ بخاری نے دیوبندیوں کے کافر ہونے کے ثبوت میں حفظ الایمان کی کفری عبارت پیش کی لیکن مخالف اس سے کفر اٹھانے کے بجائے کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ مولوی احمد رضا خان صاحب نے فتاویٰ رضویہ جلد اول میں لکھا ہے کہ: اللہ تعالیٰ اونگھ سکتا ہے، سو سکتا ہے، کھا سکتا ہے، پی سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ شارحِ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو یقین تھا کہ ایسا ہرگز فتاویٰ رضویہ میں نہیں ہے اس لیے آپ نے تصحیحِ نقل کا مطالبہ کیا۔ جواب میں اس نے کہا کہ میں اپنی یادداشت سے کہہ رہا ہوں میرے پاس فتاویٰ رضویہ نہیں ہے۔ شارحِ بخاری نے فرمایا جب آپ نے یہ بات کہی ہے تو آپ پر لازم ہے کہ تصحیحِ نقل کریں یا اپنی بات واپس لیں لیکن دیوبندیوں نے ایسا کچھ بھی نہ کیا۔ دورانِ بحث مولانا محمد حسین سنبھلی آگئے اور از خود مداخلت کر کے اہلِ سنت کی طرف سے گفتگو اپنے ہاتھ میں لے لی۔ آپس میں بحث ہوتی رہی، بحث کسی طرح بکرے کے کپورے پر آگئی، مفتی سنبھلی صاحب نے فرمایا تمہارے گنگوہی صاحب نے تو بکرے کے کپورے کو جائز کہا ہے یہ سنتے ہی مولوی ارشاد نے فتاویٰ رشیدیہ نکالی اور دکھایا کہ بکرے کے کپورے نہیں بلکہ “کس پورے” ہے، حضرت مفتی صاحب نے فتاویٰ رشیدیہ دکھاتے ہوئے کہا کہ دیکھ تو کپورے صاف لکھا ہے اور یہ کتاب پرانی ہے جبکہ تمہاری کتاب نئی ہے اور اگر “کس پورے” صحیح ہے تو بتاؤ اس کا کیا معنی ہے، اس پر ارشاد کی بولتی بند ہو گئی پھر ایک ہندو سرپنچ جو کنٹرولر تھا اس نے خود فتاویٰ رشیدیہ دیکھی اور کہا کہ میں اردو پڑھا ہوا ہوں اس میں صاف کپورے لکھا ہے، اور “کس پورے” اردو میں کوئی شبد ہی نہیں اس لیے دیوبندی مناظر کی بات غلط ہے اور بریلوی اپنے دعوے میں حق پر ہیں۔ اسی پر دیوبندی ہارے دیوبندی ہارے کا شور بلند ہوا پھر مناظرہ ہی ختم ہو گیا، شور ہوتے ہی دیوبندی مولوی نے موقع غنیمت جانا اور اسٹیج سے بھاگ نکلے، اور ذمہ داروں نے مناظرہ ملتوی ہونے کا اعلان کر دیا۔
درج بالا تمام مناظروں میں شارحِ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بحیثیتِ مناظر شرکت فرمائی اور ہر جگہ فریقِ مخالف کو شکستِ فاش دے کر انہیں ذلت و رسوائی کے عمیق غار میں ڈال دیا اور اہلِ سنت کی نمائندگی کا بھرپور حق ادا کیا۔ ان مناظروں کے علاوہ آپ نے کٹک، جھریا، بجرڈیہہ اور بدایوں کے مناظروں میں بھی شرکت فرمائی اور بحث و مباحثہ میں بھی کافی حصہ لیا لیکن ان مناظروں میں نہ آپ مناظر تھے اور نہ صدر۔ اس لیے ان کی تفصیل تحریر نہیں کی جا رہی ہے۔ ان کی تفصیلات کے لیے کنز الایمان کا شارح بخاری نمبر، اور شارح بخاری، معارفِ شارح بخاری اور رودادِ مناظرہ بجرڈیہہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ بجرڈیہہ کے مناظرے میں آپ بہت زیادہ دخیل رہے حتیٰ کہ شرائطِ مناظرہ کے لیے جو میٹنگ ہوئی اس میں بطورِ خاص آپ نے حصہ لیا۔
