علماء کی فضیلت (قسط: اول)|مفتی جلال الدین احمد امجدی

علماء کی فضیلت (قسط: اول)
عنوان: علماء کی فضیلت (قسط: اول)
تحریر: مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۚ [پ: 5، ع: 5]

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں اولو الامر ہیں۔

حضرت علامہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

اَلْمُرَادُ مِنْ أُولِي الْأَمْرِ الْعُلَمَاءُ فِي أَصَحِّ الْأَقْوَالِ، لِأَنَّ الْمُلُوكَ يَجِبُ عَلَيْهِمْ طَاعَةُ الْعُلَمَاءِ وَلَا يَنْعَكِسُ. [تفسیرِ کبیر، ج: 1، ص: 274]

ترجمہ: اصح اقوال میں اولو الامر سے مراد علماء ہیں۔ اس لیے کہ بادشاہوں پر علماء کی فرمانبرداری واجب ہے اور اس کا برعکس نہیں۔

اس تفسیر کی روشنی میں آیتِ کریمہ کا ترجمہ یوں ہوا کہ ”اللہ و رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں عالم ہیں ان کی فرمانبرداری کرو۔“

2۔ اور خدائے تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ [پ: 22، ع: 14]

ترجمہ: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

حضرت علامہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ آیتِ مبارکہ میں اس بات پر دلالت ہے کہ علماء جنتی ہیں اور وہ اس لیے کہ علماء خشیت والے ہیں اور ہر وہ شخص جو خشیت والا ہے وہ جنتی ہے تو علماء جنتی ہیں۔ اور اس بات کا ثبوت کہ خشیت والے جنتی ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ... الخ، یعنی ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ وہ لوگ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ [پ: 30، سورۃ البینۃ: 8 / تفسیرِ کبیر، ج: 1، ص: 279]

3۔ اور خدائے عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ [پ: 23، ع: 15]

ترجمہ: کیا علم والے اور بے علم برابر ہو جائیں گے؟

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ عالم، غیر عالم سے افضل ہے، غیر عالم خواہ عابد ہو یا غیر عابد۔ بہرحال عالم اس سے افضل ہے۔

4۔ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ [پ: 28، ع: 2]

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان والوں کے اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے خاص کر ان کے درجے کو بلند فرمائے گا۔

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ سب مومن بڑے درجے والے ہیں اور ان میں خاص کر علمائے دین بہت بلند مرتبے والے ہیں۔ دنیا و آخرت میں ان کی عزت ہے، خدائے تعالیٰ نے ان کے لیے بلندیِ درجات کا وعدہ فرمایا ہے۔

انتباہ

قرآن و حدیث سے عالموں کی جو بہت سی فضیلتیں ثابت ہیں ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو حقیقت میں علم والے ہیں چاہے وہ سند یافتہ ہوں یا نہ ہوں کہ سند کوئی چیز نہیں، خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ جاہلوں کو عالم و فاضل کی سند دی جا رہی ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

”سند کوئی چیز نہیں کہ بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 10، ص: 231]

اور تحریر فرماتے ہیں:

”سند حاصل کرنا تو کچھ ضرور نہیں، ہاں باقاعدہ تعلیم پانا ضرور ہے مدرسہ میں ہو یا کسی عالم کے مکان پر، اور جس نے بے قاعدہ تعلیم پائی خواہ مدرسہ میں رہ کر، وہ جاہلِ محض سے بدتر نیم ملا خطرۂ ایمان ہوگا۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 10، ص: 505]

لہٰذا وہ لوگ جو عالم کی سند تو رکھتے ہیں مگر علم والے نہیں ہیں، جن کی تعداد تیزی کے ساتھ روز بروز بڑھ رہی ہے، ان کے متعلق عالموں کی فضیلت سے غلط فہمی میں نہ پڑیں۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!