علماء کی فضیلت (قسط: دوم)|مفتی جلال الدین احمد امجدی

علماء کی فضیلت (قسط: دوم)
عنوان: علماء کی فضیلت (قسط: دوم)
تحریر: مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

5۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.

ترجمہ: بیشک عالمِ دین کے لیے آسمانوں اور زمین کی چیزیں اور پانی میں مچھلیاں دعائے مغفرت کرتی ہیں۔ اور یقیناً عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودہویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر۔ اور بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور نبیوں نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، انہوں نے صرف علم کو وراثت میں چھوڑا ہے تو جس نے علم حاصل کر لیا اس نے پورا حصہ پا لیا۔ [رواہ احمد والترمذی وابوداؤد وابن ماجہ والدارمی / مشکوٰۃ شریف، ص: 34]

حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث شریف کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں کہ عالموں کے لیے دعائے مغفرت میں مچھلیوں کی تخصیص اس لیے ہے کہ پانی جو ان کی زندگی کا سبب ہے وہ علمائے حق کی برکت سے نازل ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے:

بِهِمْ تُمْطَرُونَ وَبِهِمْ تُرْزَقُونَ.

یعنی عالموں کے سبب ان پر بارش کی جاتی ہے اور انہی کے سبب ان کو روزی دی جاتی ہے۔ [مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 1، ص: 23]

اور حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ سارے جہان کا عالم کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا سبب یہ ہے کہ جہان کی درستگی علمِ دین کی برکت سے ہے۔ اہلِ جہان کی تمام چیزوں میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کی درستگی اور جس کا وجود و بقا علم کی برکت سے نہ ہو۔ [اشعۃ اللمعات، ج: 1، ص: 15]

اور تحریر فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمِ دین کو چاند سے اس لیے تشبیہ دی ہے کہ چاند کے نور سے ساری دنیا روشن ہوتی ہے، جیسے علمِ دین کا فائدہ سارے جہان کو پہنچتا ہے۔ بخلاف عبادت گزار کے کہ اس کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود رہتا ہے دوسروں کو نہیں پہنچتا جیسے کہ ستاروں کی روشنی دوسروں کو فائدہ نہیں دیتی۔ [اشعۃ اللمعات، ج: 1، ص: 159]

اور تحریر فرماتے ہیں کہ عالمِ دین سے وہ شخص مراد ہے جو علم حاصل کرنے کے بعد فرائض و سننِ مؤکدہ اور ضروری عبادات پر اکتفا کرتا ہو یعنی بے عمل نہ ہو اور زیادہ وقت علم سکھانے اور دینی کتابوں کی تصنیف کرنے پر خرچ کرتا ہو، اس کا کام علم کی نشر و اشاعت اور دین کی ترویج ہو۔ اور عابد سے وہ شخص مراد ہے جو علم حاصل کرنے کے بعد عبادت میں مشغول ہوا ہو یعنی جاہل نہ ہو اور اپنے اوقات کو عبادت میں صرف کرتا ہو۔ اور چونکہ علم کی نشر و اشاعت اور اس میں مشغول رہنے کا فائدہ دین کے لیے بہت زیادہ ہے اور لوگوں کو اس کا نفع عام تر و شامل تر ہے اس لیے علم، عبادت سے بہت زیادہ افضل ہے۔ [اشعۃ اللمعات، ج: 1، ص: 159]

6۔ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا۔ ایک عبادت گزار کا، دوسرا عالمِ دین کا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ. [رواہ الترمذی / مشکوٰۃ شریف، ص: 37]

ترجمہ: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ آدمی پر۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ، اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں (پانی میں) رحمت بھیجتے ہیں لوگوں کو علمِ دین سکھانے والے پر۔

اندازہ کرنا چاہیے کہ اس حدیث شریف میں کس قدر عابد پر عالم کی فضیلت و شان کا اظہار ہے کہ جب حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء و مرسلین سے افضل ہیں تو ایک ادنیٰ آدمی پر آپ کی فضیلت کس قدر ہوگی۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!