| عنوان: | یہ مسلماں ہیں کہ جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود |
|---|---|
| تحریر: | محمد عسجد رضا مصباحی، متعلم الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ |
جب ربِّ کائنات نے اقوامِ عالم کے ہجوم میں ایک ایسی جماعت کو منصبِ سیادت و قیادت سے سرفراز کرنا چاہا جو ظلمتِ کفر و ضلالت میں سرگرداں انسانیت کو نورِ ہدایت، شعاعِ حق اور صراطِ مستقیم سے ہم کنار کرے، تو اس نے امتِ محمدیہ کو اس عظیم منصب کے لیے منتخب فرمایا۔ اس امت کو قرآنِ حکیم جیسا ابدی و لازوال دستورِ حیات، اسوۂ نبوی ﷺ جیسا کامل و جامع نمونۂ عمل، اور ایمان جیسی بے بہا دولتِ لازوال عطا فرمائی۔ اسے "کنتم خیر امۃ" کے امتیازی شرف سے نوازا گیا، پرچمِ عدل و قسط اس کے سپرد کیا گیا اور اقوامِ عالم کی فکری اور روحانی رہنمائی کا بارِ امانت اس کے دوش پر رکھا گیا۔ مگر تاریخِ انسانی کا یہ نہایت اندوہ ناک اور عبرت خیز المیہ ہے کہ جس امت کے جلال سے کبھی قیصر و کسریٰ کے ایوان لرزہ براندام رہتے تھے، آج وہی امت فکری انتشار، اخلاقی انحطاط، علمی افلاس، عملی بے حسی اور تہذیبی اضطراب کی مجسم تصویر بن چکی ہے۔
یہ کوئی مخالفین کی افترا پردازی یا معاندین کی الزام تراشی نہیں، بلکہ ایک ناقابلِ انکار اور تلخ حقیقت ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اپنے کردار سے اسلام کا تعارف کم اور اس کی بدنامی کا سامان زیادہ فراہم کر رہی ہے۔ زبانیں کلمۂ توحید سے خالی ہیں اور معاملات دیانت و امانت سے تہی دامن، پیشانیوں سے سجدوں کے آثار غائب اور قلوب نورِ تقویٰ کی حرارت سے محروم۔ انہیں حالات کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ڈاکٹر اقبال نے:
"یہ مسلماں ہیں، جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔"
یہ عنوان کسی قوم کی تحقیر و تذلیل کے لیے نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنے، احساسِ زیاں کو جگانے اور اسے اپنے گریبان میں جھانکنے پر آمادہ کرنے والا ایک مؤثر تازیانہ ہے، تاکہ وہ اپنے کھوئے ہوئے وقار، مجدِ رفتہ اور عظمتِ گم گشتہ کی بازیافت کی سنجیدہ فکر کرے۔
امتِ مسلمہ کا زوال: ایک فکری المیہ
امتِ مسلمہ کا زوال کوئی ناگہانی حادثہ یا اچانک رونما ہونے والا سانحہ نہیں، بلکہ تدریجی غفلت ومسلسل بے عملی، فکری انحراف اور اجتماعی کوتاہیوں کی طویل داستان کا منطقی انجام ہے۔ جس روز قرآنِ مجید سرچشمۂ ہدایت کے بجائے محض رسمِ تلاوت تک محدود ہوگیا، سنتِ نبوی ﷺ شعارِ حیات کے بجائے رسمی وابستگی کا عنوان بن گئی، اور علم کا مقصد خدمتِ دین کے بجائے صرف حصولِ دنیا قرار پایا، اسی روز انحطاط و ادبار کی المناک داستان کا آغاز ہوگیا۔
قرآنِ حکیم نے نہایت صراحت کے ساتھ اعلان فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ [الرعد]
ترجمہ: بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل لے۔
یہ آیتِ کریمہ اس حقیقتِ ابدی کو واشگاف کرتی ہے کہ عزت و ذلت، عروج و زوال اور فتح و شکست کا مدار محض خارجی حالات پر نہیں بلکہ باطنی کردار، فکری استقامت اور عملی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ جب اقوام اپنے اصول، اقدار اور نظریات سے انحراف کرتی ہیں تو تاریخ بھی انہیں اپنے صفحات سے بے نشان کر دیتی ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
آج امت کا سب سے بڑا المیہ وسائل کی قلت نہیں بلکہ ترجیحات کا انقلاب ہے۔ جن ہاتھوں میں قلمِ علم و تحقیق ہونا چاہیے تھا وہاں بے مقصد مشاغل نے بسیرا کر لیا ہے، جن سینوں میں ایمان و یقین کی حرارت موجزن ہونی چاہیے تھی وہاں مادیت کی یخ بستہ ہوائیں چل رہی ہیں اور جن زبانوں سے دعوت واصلاح اور خیرخواہی کی صدائیں بلند ہونی چاہئیں تھیں وہاں اختلاف، الزام تراشی، تعصب اور نفرت کی چنگاریاں بھڑک رہی ہیں۔
علم کبھی ہماری شناخت تھا، آج جہالت ہماری پہچان بنتی جا رہی ہے۔ دیانت ہماری امتیازی صفت تھی، آج بدعنوانی ہماری رسوائی کا عنوان بن چکی ہے۔ اتحاد ہماری عظیم قوت تھا، آج انتشار ہماری سب سے بڑی کمزوری بن گیا ہے۔ یہی وہ زوال ہے جو دشمن سے زیادہ ہمارے اپنے ضمیر کو شرمسار کرتا ہے۔
عروج کا راستہ
تاریخ شاہدِ عدل ہے کہ مسلمان جب تک شریعت مطہرہ سے مضبوط وابستگی اختیار کرتے رہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت وسیادت، اقتدار و سربلندی سے نوازا اور جب بھی انہوں نے دین الٰہی سے بے اعتنائی برتی تو ذلت ومحرومی اور محکومی ان کا مقدر بن گئی۔ لہٰذا اصلاح و احیاء کا آغاز کسی سیاسی انقلاب سے نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری، اخلاقی اور روحانی انقلاب سے ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایمان کی تازگی اور عبادات کی روحانیت، معاملات کی دیانت اور کردار کی طہارت، علم کی عظمت اور اتحادِ ملت کی قوت کو ازسرِ نو زندہ کیا جائے۔ مدارس کو علم کے ساتھ تعمیرِ کردار کا گہوارہ، مساجد کو اصلاحِ معاشرہ کا مرکز، اور گھروں کو سنتِ نبوی ﷺ کا عملی نمونہ بنایا جائے۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحۂ تخریب نہیں بلکہ علم، تحقیق، تہذیب، حکمت اور تعمیرِ امت کا روشن چراغ ہونا چاہیے۔
جب مسلمان اپنی پوری زندگی کو شریعت محمدیہ کے سانچے میں ڈھال لے گا، اس کا کردار خود اس کی دعوت بن جائے گا، اس کی دیانت اس کی شناخت، اس کا عدل اس کی قوت اور اس کا حسنِ اخلاق اس کی فتح و نصرت کا سب سے مؤثر ذریعہ بن جائے گا۔ دنیا ہمیشہ شمشیر کی دھار سے کم اور کردار کی تاثیر سے زیادہ مسخر ہوئی ہے، اور اسلام کی سب سے عظیم قوت ہمیشہ اس کا اخلاقِ کریمانہ رہا ہے۔
امتِ مسلمہ کے لیے یہ لمحۂ احتساب اور ساعتِ فکریہ ہے کہ وہ اپنی تاریخِ درخشاں پر محض ناز کرنے کے بجائے اپنے حال کا بے لاگ محاسبہ کرے۔ عزت و عظمت کا تاج نسب و حسب سے نہیں بلکہ کردار سے حاصل ہوتا ہے، رفعت و سربلندی نعروں سے نہیں بلکہ عملِ صالح سے نصیب ہوتی ہے اور قیادت کثرتِ تعداد سے نہیں بلکہ صلاحیت، تقویٰ اور استقامت سے میسر آتی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں عزت و وقار اور احترام کی نگاہ سے دیکھے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے پروردگار کے حضور سرخرو ہونا ہوگا۔ جب ہمارے اعمال قرآنِ حکیم کی جیتی جاگتی تفسیر، ہمارا اخلاق سنتِ نبوی ﷺ کی روشن تصویر اور ہماری زندگیاں اسلام کی عملی تعبیر بن جائیں گی، تو پھر کوئی قوم ہمیں حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی، بلکہ انسانیت ایک مرتبہ پھر ہماری طرف رہنمائی، عدل اور خیر کی امید لے کر رجوع کرے گی۔
آج ضرورت اس امر کی نہیں کہ ہم دوسروں کے عیوب و نقائص شمار کریں، بلکہ اپنے گریبان میں جھانکیں، دوسروں پر الزام دھرنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کریں، اس لیے کہ زندہ اور باوقار قومیں اپنے ماضی پر نوحہ کناں نہیں رہتیں بلکہ اپنے حال کی اصلاح کر کے اپنے مستقبل کی تابناک تاریخ خود رقم کرتی ہیں۔
کسی نے نمایاں انداز میں بیان کردیا ہے:
خوف خدا ہوا دل میں تو فخر زمیں ہو تم
خوف خدا نہیں تو کہیں کے نہیں ہو تم
واہب حقیقی جملہ مسلمانوں کو دین برحق اور صراط مستقیم پر گامزن فرمائے اور ان کے جمیع مسائل کو حل فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین بحرمۃ سید المرسلین ﷺ۔
