| عنوان: | امتحان اور صحت |
|---|---|
| تحریر: | سید احمد رضا صادق مدنی |
| پیش کش: | مجمع التصانیف |
جیسے جیسے امتحانات کے دن قریب آتے ہیں اسی طرح طلباء کے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہوتی چلی جاتی ہیں۔ طلباء اکثر کتابوں کی بجائے امتحانات کی ٹینشن لینے لگتے ہیں جس کی وجہ سے دن کی بھوک اور راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔ طلباء ذہنی دباؤ، ٹینشن (Tension) اور ڈپریشن (Depression) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنی غذا اور نیند بھی کم کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت پر کافی برا اثر پڑتا ہے۔
سٹریس (Stress) لینے کے نقصانات:
۱۔ دماغ پر اثر: سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
۲۔ دل کی بیماریاں: بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔
۳۔ قوتِ مدافعت (Immunity System): بیماریوں سے لڑنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے اور بار بار بیمار پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
۴۔ نیند میں خلل (Insomnia): نیند نہ آنے کے مسائل اور بے چین رہنا۔
۵۔ ہاضمے کے مسائل (Indigestion): پیٹ درد یا گیس کے مسائل ہو سکتے ہیں۔
۶۔ حافظے پر اثر (Brain Fog): زیادہ سٹریس سے دماغ کا یادداشت والا حصہ (Hippocampus) متاثر ہوتا ہے۔ طالب علم یاد کی ہوئی باتیں امتحان کے وقت بھول جاتا ہے جسے سائنسی زبان میں برین فوگ (Brain Fog) کہتے ہیں۔
۷۔ فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں کمی (Impaired Decision Making): ٹینشن کی وجہ سے طالب علم سوالات کا صحیح جواب انتخاب کرنے میں الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔
۸۔ منفی سوچ اور خوف (Negative Self-Talk and Exam Anxiety): طالب علم خود کو ناکام تصور کرنے لگتا ہے اور اس کے اندر امتحان کا خوف (Exam Phobia) اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر پاتا۔
۹۔ موڈ کا بدلنا اور چڑچڑاپن (Mood Swings & Irritability): ہر وقت کے ذہنی دباؤ سے طالب علم بات بات پر غصہ یا چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ جس سے اس کا رشتہ دوستوں اور گھر والوں سے متاثر ہوتا ہے۔
ان نقصانات سے کیسے بچیں:
۱۔ ٹائم مینجمنٹ (Time Management): وقت کی صحیح تقسیم کار سے آخری لمحے کا سٹریس ختم ہو جاتا ہے۔
۲۔ بریک اور آرام (Take Breaks): مسلسل پڑھنے کے بجائے ہر ایک گھنٹے کے بعد ۱۰ منٹ کا بریک لیں۔
۳۔ متوازن غذا اور پانی: ہیلتھی فوڈ، پانی کا استعمال زیادہ کریں اور جنک فوڈ (باہر کا کھانا) سے اجتناب کریں۔ تاکہ امتحانات کے وقت آپ کی طبیعت سازگار رہے۔
امتحان زندگی کا ایک حصہ ہے پوری زندگی نہیں، اس لیے نتیجے کی فکر کیے بغیر اپنی محنت پر بھروسہ رکھیں۔
اللہ سب کا حامی و ناصر ہو!
