رزقِ حلال کی اہمیت ارشاداتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

رزقِ حلال کی اہمیت ارشاداتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
عنوان: رزقِ حلال کی اہمیت ارشاداتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
تحریر: ارشد رضا مدنی لکھنوی
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان شاہ مینا شاہ لکھنؤ

اللہ جل شانہٗ نے ہر انسان اور چوپائے کی زندگی گزارنے کے لیے رزق کا انتظام فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ کریم، سورۂ ہود، آیت نمبر ۶ میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا﴾
ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمۂ کرم پر نہ ہو۔‘‘

تفسیر صراط الجنان میں ہے: {دَابَّةٌ} کا معنی ہے: ہر وہ جانور جو زمین پر رینگ کر چلتا ہے۔ عُرف میں چوپائے کو ’’دَابَّةٌ‘‘ کہتے ہیں، جبکہ آیت میں اس سے مطلقاً جاندار مراد ہے، لہٰذا انسان اور تمام حیوانات اس میں داخل ہیں۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۶، ۲/۳۰۳)

رزق کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

الرزق: اسمٌ لما يسوقه الله إلى الحيوان فيأكله، فيكون متناولًا للحلال والحرام.
رزق اس کا نام ہے جسے اللہ پاک حیوان تک پہنچاتا ہے کہ وہ اسے کھائے، چاہے حلال ہو یا حرام۔ (کتاب التعریفات، ص: ۱۱۰، ناشر: دار الکتب العلمیہ، بیروت)

ارشاداتِ نبوی ﷺ میں رزقِ حلال کی فضیلت

اسلام نے اکتسابِ رزق کی تعلیم ہی نہیں دی، بلکہ حرام رزق سے بچتے ہوئے طلبِ رزقِ حلال کی بھی تعلیم دی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ اپنے اہل و عیال اور بال بچوں کے لیے حلال رزق کی جستجو کرے۔ کئی احادیث میں رزقِ حلال کھانے اور حرام سے بچنے کا حکم اور ترغیب وارد ہوئی ہے۔

حدیث نمبر ۱

نبی پاک ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
’’جو شخص اس لیے حلال کمائی کرتا ہے کہ سوال کرنے سے بچے، اہل و عیال کے لیے کچھ حاصل کرے اور پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا۔‘‘ (شعب الایمان، باب فی الزہد وقصر الامل، الحدیث: ۱۰۳۷۵، ج۷، ص۲۹۸)

حدیث نمبر ۲

عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِفَ
ترجمہ: نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ کریم اپنے ہاتھ سے کمائی کرنے والے مومن کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (المعجم الأوسط للطبراني، ج۸، ص۳۸۰، ناشر: دار الحرمین)

مرقومہ بالا حدیثِ طیبہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے ہاتھ کی کمائی ہی کرے، اور اللہ پاک اس شخص کو پسند فرماتا ہے جو اپنے ہاتھ سے اپنے اہل و عیال کے لیے کوشش کرے۔ انسان سستی اور کاہلی کا شکار نہ بنے، بلکہ ’’السعي مني والإتمام من الله‘‘ کے جذبے کے ساتھ رزقِ حلال کے حصول کی کوشش کرتا رہے۔

حدیث نمبر ۳

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ، وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ.
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی وہ ہے جو تم اپنی کمائی سے کھاؤ، اور تمہاری اولاد تمہاری اپنی کمائی ہے۔‘‘ (مشکاۃ المصابیح، ج۲، ص۸۴۴، ناشر: المکتب الاسلامی)

مذکورہ حدیث روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام اس بات کا درس دیتا ہے کہ بہترین اور پاکیزہ کمائی وہی ہے جو اپنی کوشش سے کما کر کھائے، دوسروں پر بوجھ نہ بنے۔

حدیث نمبر ۴

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ترجمہ: حضرت رافع بن خدیج رضى الله عنه سے مروی ہے، فرماتے ہیں: عرض کیا گیا: ’’یارسول اللہ ﷺ! کون سی کمائی سب سے پاکیزہ ہے؟‘‘ فرمایا: ’’انسان کی اپنے ہاتھ کی دستکاری اور ہر سچی تجارت۔‘‘ (کنز العمال، ج۴، ص۱۲۴، ح۹۸۶۰)

مرآۃ المناجیح میں ہے: دستکاری میں کھیتی باڑی، کتابت اور دوسری حلال صنعتیں داخل ہیں، اور سچی تجارت سے ہر حلال و صحیح تجارت مراد ہے۔ فاسد، باطل اور مکروہ تجارتیں اس سے خارج ہیں۔ اس قسم کی احادیث میں ’’ید‘‘ یعنی ہاتھ سے مراد پوری ذات ہوتی ہے، لہٰذا پاؤں سے چل پھر کر، آنکھ سے دیکھ کر، دماغ سے سوچ کر جو کمائیاں کی جائیں، وہ بھی حلال ہیں۔ طبابت، وکالت، قضاء وغیرہ بھی ہاتھ ہی کی کمائیاں ہیں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد۴، حدیث نمبر: ۲۷۸۳)

حدیث نمبر ۵

إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ، فَاسْعَوْا.
ترجمہ: اللہ کریم نے تم پر کوشش کرنا فرض کر دیا ہے، لہٰذا تم کوشش کرتے رہو۔ (الجامع الصغير وزيادته، ص۲۶۷۹)

درحقیقت جب کوشش کی جائے تو کامیابی اس کا مقدر ہوتی ہے۔ کہیں وہ کامیابی دنیا میں ظاہر ہو جاتی ہے، تو کبھی آخرت میں اس کا بہتر صلہ ملنے والا ہوتا ہے۔ جو انسان بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک سورۂ نجم، آیت نمبر ۳۹ میں فرماتا ہے:
﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾
ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔‘‘

حرام رزق کی مذمت پر احادیثِ کریمہ

حدیث نمبر ۱

الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، مَنْ اكْتَسَبَ فِيهَا مَالًا مِنْ حِلِّهِ وَأَنْفَقَهُ فِي حَقِّهِ أَثَابَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَوْرَدَهُ جَنَّتَهُ، وَمَنْ اكْتَسَبَ فِيهَا مَالًا مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ وَأَنْفَقَهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ أَحَلَّهُ اللَّهُ دَارَ الْهَوَانِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ: حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ جس نے دنیا میں حلال طریقے سے کمایا اور اسے جائز جگہ خرچ کیا، تو اللہ پاک اسے ثواب عطا فرمائے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور جس نے دنیا میں حرام طریقے سے مال کمایا اور اسے ناجائز جگہ خرچ کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے ذلت و ہلاکت کے گھر، یعنی جہنم، میں داخل کرے گا۔‘‘ (جامع الاحادیث، ج۱۳، ص۸)

اسلام حرام کمائی سے اجتناب کا درس دیتا ہے کہ سود، رشوت، دھوکا، چوری اور ناجائز تجارت سے حاصل ہونے والا مال پاکیزہ نہیں۔ پاکیزہ مال یقیناً وہی ہے جو بالکلیہ حلال طریقے پر کمایا جائے۔ جو حلال کمائے، تو اللہ کریم ثواب عطا فرما کر جنت عطا فرمائے گا، اور اگر کوئی اکتسابِ حرام کی طرف قدم بڑھائے، تو اللہ پاک اسے جہنم میں داخل کرے گا۔ الامان والحفیظ!

حدیث نمبر ۲

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الزَّمَّارَةِ.
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت اور گانے باجے کی کمائی سے منع فرمایا۔ (مشکاۃ المصابیح، ج۲، ص۸۴۶، ناشر: المکتب الإسلامي)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کتے کی قیمت کی تحقیق یہ ہے کہ اس کی حرمت منسوخ ہے، یا اس سے دیوانہ یا بے کار کتا مراد ہے جو مال نہیں، جیسے گندا انڈا۔ گانے کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ حرام گانے اور باجوں کی اجرت حرام ہے، جبکہ جائز کی جائز۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد۴، حدیث نمبر: ۲۷۷۹)

موجودہ دور میں رزقِ حلال کے حصول کے تقاضے

سب سے پہلے حلال رزق کے لیے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کی جائے، پھر اس کے لیے کوشش بھی لازمی کی جائے۔ اپنے تمام تر کاروباری معاملات میں علمائے اہلِ سنت سے رہنمائی حاصل کریں۔ یوں رابطہ بالعلماء بھی رہے گا، جو باعثِ شفاعت ہوگا۔ کتبِ اہلِ سنت کا مطالعہ نہایت مفید ہے، خصوصاً تاجر صحابۂ کرام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے۔

حرام تجارت کی چند مثالیں

  • چوری شدہ مال کی تجارت۔
  • دھوکا، ملاوٹ یا ناپ تول میں کمی پر مبنی تجارت۔
  • جعلی برانڈ یا نقلی مصنوعات کی تجارت۔
  • فحش فلمیں دکھا کر تجارت۔
  • جوا، سٹے یا دیگر ناجائز آن لائن گیمز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنا۔
  • فراڈ پر مبنی تجارت۔
  • اعضائے انسانی کی غیر قانونی تجارت۔
  • شراب کی تجارت۔
  • رشوت لے کر سرکاری کام کروانا۔
  • آن لائن کاروبار میں اس نوعیت کی ہزارہا مثالیں موجود ہیں، وعلیٰ ہذا القیاس۔

خلاصہ

مرقومہ بالا احادیث و توضیحات سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو حلال رزق کھلائیں اور اکتسابِ حلال کی تعلیم دیں؛ اس لیے کہ حدیثِ پاک ہے: ’’لوگوں میں ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان پرواہ نہ کرے گا کہ کہاں سے لیا، حلال سے یا حرام سے۔ پیٹ کی فکر میں ہر طرح پھنس جائیں گے، آمدنی بڑھانے اور مال جمع کرنے کی فکر کریں گے، اور ہر حلال و حرام لینے پر دلیر ہو جائیں گے، جیسا کہ آج کل عام حال ہے۔‘‘ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد۴، حدیث نمبر: ۲۷۶۱)

حالاتِ حاضرہ میں اکتسابِ حلال رزق نہایت مشکل امر ہوتا جا رہا ہے، اور اس مشکل کا سبب علمائے دین اور دین سے دوری ہے۔ اس پُرفتن دور میں حلال رزق کی کوشش کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ’’حلال‘‘ یا ’’حرام‘‘ کا فیصلہ صرف کاروبار کے آن لائن یا آف لائن ہونے سے نہیں ہوتا، بلکہ کاروبار کی نوعیت، لین دین، سود، دھوکا، جوا، حرام اشیاء کی خرید و فروخت وغیرہ پر ہوتا ہے۔

آج سود، رشوت، دھوکا اور جھوٹ عام ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں مال میں بے برکتی، دل کی سختی اور دنیا و آخرت کی رسوائی جنم لیتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مبارک طریقے پر چلتے ہوئے دیانت داری، امانت اور تقویٰ کے ساتھ رزقِ حلال حاصل کرے。

اللہ کریم ہر انسان کو سچا، دیانت دار اور صالح تاجر بنائے۔ آمین۔

تاریخ: 23/07/2026

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!