آہ! مبارک پور سے مبارک شب حضرت مبارک چل بسے

آہ! مبارک پور سے مبارک شب حضرت مبارک چل بسے
عنوان: آہ! مبارک پور سے مبارک شب حضرت مبارک چل بسے
تحریر: محمد مشرف علی حنفی القادری مجددی تیغی

ایک اندوہ ناک خبر اور احساسِ زیاں

۵ جون ۲۰۲۶ء، بمطابق ۱۸ ذی الحجہ، شب تقریباً ۱۲ بجے بذریعہ محمد فاضل وندھانی (متعلم الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی) یہ اندوہ ناک خبر موصول ہوئی کہ فخرِ صحافت، عظیم ادیب، مفکرِ ملت، حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ دارِ فانی سے دارِ بقا کی جانب روانہ ہو گئے۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

کبھی کبھی آسمان بھی اس طرح ٹوٹ کر گرتا ہے کہ زمین پر بسنے والے لفظوں کے مسافر سناٹے میں کھو جاتے ہیں۔ دل کے دریچوں پر ایسی اداسی اترتی ہے جو برسوں تک اترنے کا نام نہیں لیتی۔ آج ادیبِ شہیر، حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی نور اللہ مرقدہ کے وصال پر ملال کی خبر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہ ایک بے آواز چیخ ہے، جو روح کی گہرائیوں میں جا کر ٹھہر گئی ہے۔

ایک عہد کا اختتام اور قلم کی خاموشی

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کتابوں کے اوراق اچانک زرد ہو گئے ہوں، روشنائی نے بہنا چھوڑ دیا ہو، اور قلم کی نوک پر ٹھہرا ہوا نور یکایک بجھ گیا ہو۔ ماہ نامہ اشرفیہ کا وہ مبارک قلم، جو علم کی شمعیں جلاتا، فکر کی راہوں کو روشن کرتا اور دلوں میں یقین کے چراغ سجاتا تھا آج ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

حضرت کا وصال محض ایک فرد کا بچھڑ جانا نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کا اختتام ہے۔ آپ صرف ایک مدیر نہ تھے، بلکہ ایک درویش صفت قلم کار تھے، جن کے الفاظ میں تاثیر، جملوں میں زندگی اور خیالات میں امت کا درد دھڑکتا تھا۔ آپ کی تحریریں محض سیاہی سے لکھی سطور نہ تھیں، بلکہ دلوں کی دھڑکنیں تھیں جو قاری کے وجود میں اتر کر اسے بدل دیا کرتی تھیں۔ جب آپ لکھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے علم خود قلم تھامے ہوئے ہے، اور جب بولتے تو حکمت آپ کے لہجے میں جلوہ گر ہوتی۔ آپ کی پوری زندگی علم، دین اور اصلاحِ امت کی مسلسل جدوجہد میں گزری۔

تاریخی اور یادگار خصوصی شمارے

آپ کی ادارت میں متعدد تاریخی اور یادگار خصوصی شمارے شائع ہوئے، جن میں نمایاں ہیں: پیغمبر اعظم نمبر (۱۹۹۲ء)، انوار حافظ ملت نمبر (۱۹۹۲ء)، تعلیمی کنونشن نمبر (۱۹۹۶ء)، سلطان الہند غریب نواز نمبر (۱۹۹۸ء)، جشن شارح بخاری نمبر (۲۰۰۰ء)، فقیہ اعظم ہند نمبر (۲۰۰۰ء)۔

اسی طرح "سیدین نمبر" جیسا عظیم الشان کارنامہ، جو ۱۳۳۲ صفحات پر مشتمل ہے، آپ کی علمی بصیرت اور محنتِ شاقہ کا زندہ ثبوت ہے۔

شہرہ آفاق اداریے اور علمی تصانیف

آپ کے شہرہ آفاق اداریے، جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئے، ان میں شامل ہیں:
(۱) افتراق بین المسلمین کے اسباب
(۲) جادۂ حق و صداقت
(۳) برصغیر میں افتراق بین مسلمین کا آغاز و ارتقا
(۴) بگڑتے حال، بدلتے چہرے
(۵) وحید الدین خاں سے دو باتیں

یہ تمام مضامین بعد ازاں "برصغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب" کے نام سے یکجا شائع ہوئے، جس کے متعدد ایڈیشن انڈیا اور پاکستان سے شائع ہو کر عوام و خواص میں مقبول ہوئے۔ آپ نے ان اداریوں کے ذریعے امت کے فکری انتشار کا منصفانہ اور مدلل تجزیہ پیش کیا، حق و باطل کے درمیان واضح خطِ امتیاز قائم کیا، اور گمراہ کن نظریات کا علمی و فکری محاسبہ کیا۔

آپ کی ایک اور اہم تصنیف "شہرِ خموشاں کے چراغ" ہے، جو تقریباً ۴۸۰ صفحات پر مشتمل ہے، اور اس میں تقریباً پچاس عظیم شخصیات کے وصال پر لکھی گئی تعزیتی تحریریں شامل ہیں جن میں زبان و بیان کا ایک منفرد اور دل نشین انداز جھلکتا ہے۔ آپ کی ادارت میں ماہ نامہ اشرفیہ نے نہ صرف طباعت، ڈیزائننگ اور معیار میں ترقی کی بلکہ مضامین کے تنوع کے اعتبار سے بھی ایک منفرد مقام حاصل کیا۔

دعائیہ کلمات اور خراجِ عقیدت

آپ ایک باصلاحیت قلم کار اور مدبر مدیر کی حیثیت سے ہمیشہ نسلِ نو کی رہ نمائی کرتے رہے، اور اپنی علمی و دینی خدمات کے ذریعے دلوں کو منور کرتے رہے۔ بلاشبہ، آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا:
خدا بخشے، بہت سی خوبیاں تھیں جانے والے میں…

اللّٰہ تبارک و تعالیٰ حضرت کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔

شریکِ غم: محمد مشرف علی حنفی القادری مجددی تیغی (مظفرپور، بہار، انڈیا)
بانی: دعوتِ اقرا آرگنائزیشن | مدیر: ماہ نامہ تیغیہ

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!