| عنوان: | آپ ﷺ کا خون مبارک (قسط الثالث) |
|---|---|
| تحریر: | محمد سمیر احمد عطاری |
چہرۂ انور پر خون اتر آیا
جنگِ احد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے چہرۂ انور پر زخم لگا جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے رخِ انور پر خون اتر آیا۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أَنَّ أَبَاهُ مَالِكَ بْنَ سِنَانٍ لَمَّا أُصِيبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ أُحُدٍ مَصَّ دَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَازْدَرَدَهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَشَرِبْتَ الدَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ! أَشَرِبْتُ دَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: خَالَطَ دَمِي دَمَهُ لَا تَمَسُّهُ النَّارُ
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج ۸، ص ۲۷۰)
ترجمہ: جب جنگِ احد میں رسول اللہ ﷺ کا چہرۂ انور زخمی ہو گیا تو ان کے والد حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کا خونِ مبارک چوس کر نگل لیا۔ ان سے کہا گیا کہ: کیا تم نے خون پی لیا؟ انہوں نے کہا: ہاں! میں نے حضور ﷺ کے زخم کا خونِ مبارک پی لیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کے خون کے ساتھ میرا خون مل گیا ہے، اب اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔
ایک اور روایت کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں؛ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ شُجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَبْهَتِهِ، فَأَتَاهُ مَالِكُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ وَالِدُ أَبِي سَعِيدٍ، فَمَسَحَ الدَّمَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ازْدَرَدَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَنْ خَالَطَ دَمِي دَمَهُ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ
(المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۶۵۱)
ترجمہ: جب جنگِ احد میں آپ ﷺ کی پیشانی میں زخم آیا تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے آ کر حضور ﷺ کے چہرۂ اقدس سے خونِ مبارک کو صاف کیا پھر نگل لیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کا ارادہ ہو کہ ایسے شخص کو دیکھے جس کے خون میں میرا خون شامل ہو گیا ہو وہ مالک بن سنان کو دیکھ لے۔
اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب میرا خون اس کے خون میں شامل ہو گیا تو وہ عذاب سے محفوظ ہو گیا۔ چنانچہ یہی بات ایک اور حدیث میں یوں ارشاد فرمائی گئی:
خَالَطَ دَمِي دَمَهُ لَا تَمَسُّهُ النَّارُ
(المعجم الاوسط، ح ۹۰۹۸، ج ۹، ص ۶۷؛ الخصائص الکبریٰ، ج ۲، ص ۴۴۱)
ترجمہ: جس شخص کے خون میں میرا خون شامل ہو گیا اسے آگ نہیں چھوئے گی۔
جس سے نتیجہ یہ نکلا کہ نبی اکرم ﷺ کا خونِ مبارک پینے والے صحابی جنتی ہیں۔ چنانچہ ایک اور حدیث میں یہ صریح الفاظ بھی آئے ہیں:
مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَاسْتُشْهِدَ
(سنن سعید بن منصور، ح ۲۵۷۳، ج ۲، ص ۲۶۱)
ترجمہ: جس کا ارادہ ہو کہ وہ جنتی مرد کو دیکھے تو وہ انہیں دیکھ لے، پس اس کے بعد وہ شہید ہو گئے۔
اسی حوالے سے امام بیہقی رحمہ اللہ اپنی سند کے ساتھ لکھتے ہیں:
لَمَّا جُرِحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ مَصَّ جُرْحَهُ حَتَّى أَنْقَاهُ وَلَاحَ أَبْيَضَ، فَقِيلَ لَهُ: مُجَّهُ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا أَمُجُّهُ أَبَدًا، ثُمَّ أَدْبَرَ يُقَاتِلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَاسْتُشْهِدَ
(دلائل النبوۃ للبیہقی، ج ۳، ص ۲۶۶)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے زخم کو چوس لیا تھا جب احد میں آپ ﷺ زخمی ہو گئے تھے، حتیٰ کہ اس کو صاف کر دیا اور زخم صاف سفید ہو گیا۔ ان سے جب کہا گیا کہ کلی کر لو تو انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس سے کبھی کلی نہیں کروں گا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے اور قتال شروع کر دیا؛ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاہے کہ وہ اہل جنّت میں سے کسی آدمی کو دیکھے تو وہ ان کی طرف دیکھ لے، لہٰذا وہ شہید ہو گئے۔
انبیاء کی ایذا رسانی پر صبر اور درخت کا معجزہ
صاحبِ مشکوٰۃ المصابیح، امام بخاری و امام مسلم رحمہما اللہ سے حدیث نقل فرماتے ہیں:
وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ، وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ"
(مشکوٰۃ المصابیح، ح ۵۳۱۳، ج ۲، ص ۵۷۵)
ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ انبیاء میں سے ایک نبی کی حکایت فرما رہے ہیں جنہیں ان کی قوم نے مارا تو انہیں خونم خون کر دیا، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے تھے اور کہتے تھے: الٰہی! میری قوم کو بخش دے کہ یہ جانتے نہیں۔
ایک اور جگہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت نقل فرماتے ہیں:
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ، قَدْ تَخَضَّبَ بِالدَّمِ مِنْ فِعْلِ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ تُحِبُّ أَنْ نُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ: نَعَمْ، فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَالَ: ادْعُ بِهَا، فَدَعَا بِهَا فَجَاءَتْ وَقَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "حَسْبِي حَسْبِي"
(مشکوٰۃ المصابیح، ح ۵۹۲۴، ج ۲، ص ۸۳۳)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کی خدمت میں آئے جبکہ آپ غمگین بیٹھے تھے، مکہ والوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے خون سے رنگین تھے۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشانی دکھاؤں؟ فرمایا: ہاں۔ انہوں نے آپ کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا اور عرض کیا: اسے بلائیے۔ حضور نے اسے بلایا تو وہ آ گیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا؛ پھر عرض کیا: اسے حکم دیجیے کہ لوٹ جائے۔ حضور نے اسے حکم دیا تو وہ لوٹ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے کافی ہے، مجھے کافی ہے۔
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: یہ واقعہ غزوۂ احد کا ہے جبکہ حضور انور پر تلوار و نیزوں کے ستر (۷۰) وار کیے گئے جن سے اللہ نے آپ کو محفوظ رکھا، مگر ایک پتھر سرِ مبارک پر لگا، دوسرا دانت شریف پر اور ایک پتھر سے آپ کی انگلی شریف زخمی ہو گئی۔ ان تین زخموں کی وجہ سے آپ خونم خون ہو گئے اور آپ کو بہت تکلیف پہنچی۔ (مرقات، لمعات، اشعۃ اللمعات)
آیت سے مراد حضور کا وہ معجزہ ہے جس کا تعلق حضور کے خداداد اختیار سے ہے۔ یعنی اب مجھے کفار کی مخالفت یا ان کی ایذا رسانی کی کوئی پروا نہیں؛ جب مجھے اللہ تعالیٰ نے ایسی حکومت بخشی ہے تو ان کفار کا نہ ماننا اور ایذائیں دینا ایک عارضی چیز ہے، یہ سب میرے زیرِ نگیں آنے والے ہیں۔
انگلی مبارک کا زخمی ہونا
صاحبِ مشکوٰۃ حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل فرماتے ہیں:
وَعَنْ جُنْدَبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ: هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ
(مشکوٰۃ المصابیح، ح ۴۷۸۸، ص ۴۴۷)
ترجمہ: حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کسی جہاد میں تھے اور آپ کی انگلی شریف خونم خون ہو گئی، تو فرمایا: نہیں ہے تو مگر وہ انگلی جو خونیں ہو گئی اور اللہ کی راہ میں تو نے یہ مشقت پائی۔
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: غالباً غزوۂ احد تھا، اس غزوہ میں آپ کسی نماز کے لیے تشریف لے گئے تب انگلی میں چوٹ لگ گئی۔ اے انگلی! تو صبر کر، صرف تیرا خون ہی نکلا ہے جو معمولی تکلیف ہے، جو کچھ تجھے تکلیف پہنچی وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ یہ شعر یا تو حضور ﷺ کا اپنا ہے جو بلا قصدِ شعر گوئی آپ کے منہ سے صادر ہو گیا جیسے قرآن مجید کی بعض آیات شعر بن جاتی ہیں، یا یہ شعر عبد اللہ ابن رواحہ کا ہے جو آپ نے پڑھا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج ۶، ح ۴۷۸۸)
دندانِ مبارک اور رخسار کا زخمی ہونا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رُبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ رَأْسُهُ، فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ: "كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا رَأْسَ نَبِيِّهِمْ وَكَسَرُوا رُبَاعِيَتَهُ"
(مشکوٰۃ المصابیح، ج ۲، ح ۵۸۴۹، ص ۷۸۲)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کی چوکڑی (رباعیہ دانت) شہید کر دی گئی اور آپ کے سر میں زخم لگا دیا گیا، تو آپ اپنے سے خون پونچھنے لگے اور فرمانے لگے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو گی جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کر دیا اور اس کی چوکڑی شہید کر دی۔
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: سامنے کے چار دانت (دو اوپر کے اور دو نیچے کے) رباعیہ کہلاتے ہیں، اردو میں انہیں چوکڑی کہتے ہیں۔ حضور انور کے داہنی طرف نیچے کے دانت شریف کا ایک کنگرہ ٹوٹا تھا، پورا دانت شہید نہ ہوا تھا اور ہونٹ شریف بھی زخمی ہو گیا تھا۔ یہ زخم عتبہ بن ابی وقاص کے پتھر سے لگا تھا۔
غزوۂ احد میں حضور انور پر کفار کی تلواروں کے ستر وار ہوئے، اللہ نے حضور کو بچا لیا۔ ایک کافر کا پتھر سرِ مبارک میں لگا جس سے خود ٹوٹ کر سرِ شریف میں گڑ گیا اور خون جاری ہو گیا۔ حضور انور اپنے زخم سے خون پونچھتے جاتے تھے اور یہ فرماتے جاتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور جنابِ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا نے چٹائی جلا کر راکھ زخمِ شریف میں بھری جس سے خون بند ہوا؛ چنانچہ حضور انور نے وہ خون زمین پر نہ گرنے دیا اور فرمایا کہ اگر میرے اس خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گر جاوے تو عذابِ الٰہی آ جاوے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج ۸، ح ۵۸۴۹)
(نوٹ: دمِ رسول اکرم ﷺ کا اثر چوتھی قسط میں بیان کیا جائے گا۔)
